✨ آج کی بات ✨
💬 "جب گرمی گذر جاتی ہے، تو لوگ سایہ دار درخت کو بھول جاتے ہیں۔"
یہ جملہ صرف فصلوں کی بات نہیں کرتا — یہ وفا، شکر گزاری، اور انسانی فراموشی کا ایک دُکھ بھرا سچ ہے۔ دنیا میں ہر شخص مشکل وقت میں سایہ چاہتا ہے — لیکن جب آسانی آ جاتی ہے، تو سایہ دینے والے کو بھلا دیا جاتا ہے۔ 🌳
یہ وہی درد ہے جو والدین، استاد، سچے دوست، اور ہمدرد رشتہ دار کے دلوں میں چھپا ہوتا ہے:
— جب تم بیمار تھے، تو ماں راتوں کو جاگتی تھی…
— جب تم تنہا تھے، تو دوست تمہارے ساتھ بیٹھا تھا…
— جب تم غریب تھے، تو کوئی تمہیں کھانا دیتا تھا…
— جب تم بیمار تھے، تو ماں راتوں کو جاگتی تھی…
— جب تم تنہا تھے، تو دوست تمہارے ساتھ بیٹھا تھا…
— جب تم غریب تھے، تو کوئی تمہیں کھانا دیتا تھا…
لیکن جب حالات بدل گئے،
تو تم نے انہیں بھلا دیا — جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔
تو تم نے انہیں بھلا دیا — جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔
📖 اسلامی تعلیم: شکر گزاری = ایمان کی نشانی
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾
(سورۃ ابراہیم: 7)
"اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا: اگر تم شکر گزار ہو گے، تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا؛ اور اگر تم ناشکری کرو گے، تو میرا عذاب سخت ہے۔"
یہاں "شکر" صرف زبانی الفاظ نہیں — یہ دل کی پہچان، عمل کی عادت، اور وفا کا اظہار ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ"
(سنن ترمذی: 1955، حسن صحیح)
"وہ شخص اللہ کا شکر ادا نہیں کر سکتا جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا۔"
یعنی ناشکری صرف اللہ کے ساتھ بے وفائی نہیں — یہ لوگوں کے ساتھ بھی بے وفائی ہے۔
📜 تاریخ کی گواہی: حضور ﷺ کا شکر گزار دل
ایک دفعہ حضور ﷺ نے ایک صحابی کو دیکھا جو اپنے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھا، حالانکہ اب وہ امیر ہو چکا تھا۔
آپ ﷺ نے پوچھا: "تم نئے کپڑے کیوں نہیں پہنتے؟"
صحابی نے کہا: "یا رسول اللہ! میں یہ کپڑے اس لیے پہنتا ہوں کہ جب میں غریب تھا، تو میرے پاس صرف یہی تھا۔ میں اللہ کی نعمت کو بھولنا نہیں چاہتا۔"
آپ ﷺ نے پوچھا: "تم نئے کپڑے کیوں نہیں پہنتے؟"
صحابی نے کہا: "یا رسول اللہ! میں یہ کپڑے اس لیے پہنتا ہوں کہ جب میں غریب تھا، تو میرے پاس صرف یہی تھا۔ میں اللہ کی نعمت کو بھولنا نہیں چاہتا۔"
آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:
"اللہ تم سے خوش ہے!"
یہی ہے سچی شکر گزاری — جو آسانی میں بھی مشکل کے دنوں کو یاد رکھے۔
اسی طرح، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:
"میں اس شخص کو کبھی نہیں بھولوں گا جس نے مجھے ایک دن کے لیے کھانا دیا تھا، جب میں بھوکا تھا۔"
💭 نفسیات اور انسانی فطرت: مشکل میں یاد، آسانی میں فراموشی
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ "negativity bias" (منفی جذبات کی طاقت) کی وجہ سے انسان مشکل وقت میں مدد کو یاد رکھتا ہے،
لیکن آسانی آتے ہی وہی مدد "عام بات" لگنے لگتی ہے۔
لیکن آسانی آتے ہی وہی مدد "عام بات" لگنے لگتی ہے۔
لیکن اسلام اس فطرت کو ضعف قرار دیتا ہے،
اور وفا اور شکر گزاری کو عزت کی نشانی۔
اور وفا اور شکر گزاری کو عزت کی نشانی۔
سوچیے:
— کیا آپ نے کبھی اس دوست کو فون کیا جس نے آپ کے مشکل وقت میں ساتھ دیا تھا؟
— کیا آپ نے اپنے استاد کو بتایا کہ آج آپ کی کامیابی میں اُن کا کتنا ہاتھ ہے؟
— کیا آپ نے اپنی ماں کو کہا کہ "اب بھی تمہاری دعائیں میری طاقت ہیں"؟
— کیا آپ نے کبھی اس دوست کو فون کیا جس نے آپ کے مشکل وقت میں ساتھ دیا تھا؟
— کیا آپ نے اپنے استاد کو بتایا کہ آج آپ کی کامیابی میں اُن کا کتنا ہاتھ ہے؟
— کیا آپ نے اپنی ماں کو کہا کہ "اب بھی تمہاری دعائیں میری طاقت ہیں"؟
اگر نہیں، تو شاید آپ بھی گرمی گزر جانے کے بعد درخت کو بھول گئے ہیں۔
💡 عملی رہنمائی: سایہ دینے والوں کو کبھی نہ بھولیں
- یاد رکھیں:
جو شخص آپ کے سایہ بن گیا، وہ آپ کا حقدار ہے — چاہے آپ کتنے بھی اوپر چلے جائیں۔ - رابطہ برقرار رکھیں:
صرف ایک میسج: "آج بھی آپ کی مدد یاد ہے۔ شکریہ!"
یہ چند الفاظ کسی کے دن روشن کر سکتے ہیں۔ - معاونت کا سلسلہ جاری رکھیں:
جیسا کہ آپ کو کسی نے سایہ دیا، اب آپ کوئی اور ہو جائیں جو کسی اور کو سایہ دے۔ - دعا کریں:"اللّٰهم اجْعَلْنِي مِنَ الشَّاكِرِينَ، وَلَا تَجْعَلْنِي مِنَ النَّاسِينَ نِعَمَكَ وَنِعَمَ مَنْ أَحْسَنَ إِلَيَّ."
"اے اللہ! مجھے شکر گزاروں میں سے بنا، اور مجھے ان میں سے نہ بنائے جو تیری نعمتوں اور ان لوگوں کی نیکیوں کو بھول جائیں جنہوں نے مجھ پر احسان کیا۔"
🌅 خاتمہ: سایہ دینے والا کبھی غلط نہیں ہوتا — بھولنے والا غلط ہوتا ہے
دنیا کہتی ہے: "وقت سب کچھ بدل دیتا ہے!"
لیکن اسلام کہتا ہے:
لیکن اسلام کہتا ہے:
"وقت وفا کی آزمائش ہے — جو وفا نبھائے، وہی سچا ہے۔"
🌟 "درخت کبھی شکایت نہیں کرتا کہ اس کے نیچے بیٹھنے والا چلا گیا۔
لیکن انسان کبھی یہ نہ بھولے کہ جس درخت کے نیچے اس نے سانس لی،
اس کا سایہ اس کی زندگی کا حصہ ہے۔
کیونکہ جو سایہ بھول جاتا ہے،
وہ اپنی جڑوں کو بھول جاتا ہے۔"
🤲 "اے اللہ! ہمیں وہ دل عطا فرما جو مشکل کے وقت کے ساتھیوں کو آسانی میں بھی یاد رکھے،
ہماری زبان کو شکر گزاری سے بھر دے،
اور ہمیں کبھی ان لوگوں کی نیکیوں کو نظرانداز کرنے نہ دے جنہوں نے ہمارے لیے سایہ بن کر کھڑے ہوئے تھے۔"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں