✨ آج کی بات ✨
💬 "نیک بنو، مگر اتنے بھی نہیں کہ ہر دوسرا بندہ گنہگار نظر آنے لگے۔"
یہ جملہ صرف ایک اخلاقی توازن کی بات نہیں کرتا — یہ غرور، رحم، اور انسانی کمزوری کو سمجھنے کا گہرا درس ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ نیکی کو دوسروں کو نیچا دکھانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں:
— وہ نماز پڑھتے ہیں، لیکن دوسروں کو "بے دین" کہتے ہیں،
— وہ حجاب کرتے ہیں، لیکن بغیر حجاب والیوں پر تنقید کرتے ہیں،
— وہ روزہ رکھتے ہیں، لیکن کھانے والوں پر نظرنداز کرتے ہیں۔
— وہ نماز پڑھتے ہیں، لیکن دوسروں کو "بے دین" کہتے ہیں،
— وہ حجاب کرتے ہیں، لیکن بغیر حجاب والیوں پر تنقید کرتے ہیں،
— وہ روزہ رکھتے ہیں، لیکن کھانے والوں پر نظرنداز کرتے ہیں۔
لیکن اسلام کہتا ہے: نیکی کا مقصد دوسروں کو گنہگار دکھانا نہیں — بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔
اور جو شخص اپنی نیکی کی وجہ سے دوسروں کو گنہگار سمجھنے لگے،
تو وہ نیکی کے بجائے غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ 🌿
اور جو شخص اپنی نیکی کی وجہ سے دوسروں کو گنہگار سمجھنے لگے،
تو وہ نیکی کے بجائے غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ 🌿
📖 اسلامی تعلیم: نیکی = عاجزی، نہ کہ برتری
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿لَا يَزَالُونَ يُحَارِبُونَكُمْ حَتَّىٰ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا ۚ وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ﴾
(سورۃ آل عمران: 85)
لیکن اس کے بعد فرماتے ہیں:
﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾
(سورۃ الانعام: 164)
"اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔"
یعنی ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے — آپ کی نیکی دوسروں کے گناہ نہیں مٹا سکتی،
اور نہ ہی آپ کو ان کے گناہوں پر فخر کا حق دیتی ہے۔
اور نہ ہی آپ کو ان کے گناہوں پر فخر کا حق دیتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ — وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ"
(صحیح مسلم: 49)
لیکن یاد رکھیں: نفرت، طعنہ، یا تکبر سے منکر نہیں بدلتے —
بلکہ رحم، نصیحت، اور محبت سے بدلتے ہیں۔
بلکہ رحم، نصیحت، اور محبت سے بدلتے ہیں۔
📜 تاریخ کی گواہی: حسن بصری کا واقعہ
ایک دفعہ حسن بصری رحمہ اللہ راستے میں ایک شخص کو گناہ کرتے دیکھا۔
لوگوں نے کہا: "اسے ڈانٹیں! اسے سمجھائیں!"
لیکن حسن بصری نے صرف اتنا کہا:
لوگوں نے کہا: "اسے ڈانٹیں! اسے سمجھائیں!"
لیکن حسن بصری نے صرف اتنا کہا:
"اے میرے اللہ! اگر یہ میرا بھائی ہے، تو اس کے گناہ معاف فرما۔
اور اگر میں اس سے بہتر ہوں، تو اسے میری نیکی کا ثواب عطا فرما۔"
یہی ہے سچی نیکی — جو دوسروں کو گنہگار نہیں سمجھتی،
بلکہ ان کے لیے دعا کرتی ہے۔
بلکہ ان کے لیے دعا کرتی ہے۔
اسی طرح، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کسی کو گناہ کرتے دیکھتے،
تو فرماتے:
تو فرماتے:
"شاید اس کا یہ گناہ میرے ستر گناہوں سے بہتر ہو!"
یعنی نیک شخص وہ ہے جو اپنی نیکی پر فخر نہ کرے،
بلکہ اپنے گناہوں پر روتا رہے۔
بلکہ اپنے گناہوں پر روتا رہے۔
💭 نفسیات اور روحانیت: نیکی کا غلط استعمال
آج کے دور میں "moral superiority" (اخلاقی برتری) کا جذبہ بہت عام ہے:
— لوگ نیکی کو سوشل میڈیا پر شو کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں،
— دین کو دوسرے کو نیچا دکھانے کا ہتھیار بنا لیتے ہیں،
— اور عبادت کو ریا اور تکبر کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔
— لوگ نیکی کو سوشل میڈیا پر شو کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں،
— دین کو دوسرے کو نیچا دکھانے کا ہتھیار بنا لیتے ہیں،
— اور عبادت کو ریا اور تکبر کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔
لیکن اسلام کہتا ہے:
"تمہاری نیکی تمہارے لیے ہے — دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں۔"
نیکی کا مقصد دل کی صفائی ہے، نہ کہ دوسرے کی بے عزتی۔
اور جو شخص اپنی نیکی کی وجہ سے دوسروں کو گنہگار سمجھے،
وہ ابلیس کے راستے پر چل پڑا ہے — جس نے کہا تھا:
اور جو شخص اپنی نیکی کی وجہ سے دوسروں کو گنہگار سمجھے،
وہ ابلیس کے راستے پر چل پڑا ہے — جس نے کہا تھا:
"أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ" — "میں اس سے بہتر ہوں!"
اور ہم جانتے ہیں کہ اسی ایک جملے نے ابلیس کو اللہ کی رحمت سے محروم کر دیا۔
💡 عملی رہنمائی: نیکی کو متوازن بنائیں
- نیکی چھپائیں:
جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جسے دائیں ہاتھ دے، بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔" - دوسروں کی خوبیاں دیکھیں:
ہر شخص میں کوئی نہ کوئی اچھائی ہوتی ہے — اسے تلاش کریں۔ - اپنے گناہوں پر روتے رہیں:
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کہتے تھے:"اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم نیک ہو، تو سمجھو تمہاری نیکی ضائع ہو گئی۔" - دعا کریں:"اللّٰهم لا تَجْعَلْ فِي قَلْبِي غَضَبًا عَلَىٰ أَحَدٍ، وَلا حَسَدًا، وَلا كِبْرًا، وَاجْعَلْنِي لِلنَّاسِ كَأَحْسَنِهِمْ خُلُقًا."
"اے اللہ! میرے دل میں کسی پر غصہ، حسد، یا تکبر نہ ڈال، اور مجھے لوگوں کے لیے ان کے بہترین اخلاق والا بنا دے۔"
🌅 خاتمہ: نیکی وہ ہے جو دل کو عاجز بنائے، نہ کہ دوسروں کو گنہگار
دنیا کہتی ہے: "نیک بنو، تاکہ لوگ تمہیں دیکھیں!"
لیکن اسلام کہتا ہے:
لیکن اسلام کہتا ہے:
"نیک بنو، تاکہ اللہ تمہیں دیکھے — اور تم اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو جاؤ!"
🌟 "نیکی کا مقصد دوسروں کو گنہگار دکھانا نہیں —
بلکہ اپنے آپ کو گنہگار پانا ہے۔
جو شخص اپنی نیکی پر فخر کرے،
وہ نیکی کے بجائے غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اس لیے نیک بنو —
مگر اتنے بھی نہیں کہ ہر دوسرا بندہ گنہگار نظر آنے لگے!"
🤲 "اے اللہ! ہماری نیکیوں کو ہمارے لیے وبال نہ بننا دے،
ہمارے دلوں کو تکبر سے محفوظ رکھ،
اور ہمیں وہ عاجزی عطا فرما جو ہمیں دوسروں کی کمزوری پر رحم کرنے پر مجبور کرے۔"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں