🌹 سلسلہ اسماءُ المصطفیٰ ﷺ 🌹 قسط نمبر 21 ✦ اسمِ مبارک: المُعَلِّم ﷺ ✦


 

🌹 سلسلہ اسماءُ المصطفیٰ ﷺ 🌹
قسط نمبر 21
اسمِ مبارک: المُعَلِّم ﷺ


✦ تمہید

نبی کریم ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سب سے نمایاں مقصد تعلیم ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و حکمت کی روشنی عطا فرمائی۔

“المعلم” کا لقب اسی عظیم منصب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

لیکن ہمارا طریقہ تحقیقی ہے — لہٰذا ہم دیکھیں گے کہ یہ اسم کس درجے میں آتا ہے۔


✦ لغوی تحقیق

مُعَلِّم
مادہ: ع ل م
معنی: علم دینے والا، سکھانے والا، تربیت کرنے والا


✦ قرآنی بنیاد

قرآن مجید میں بعثتِ نبوی ﷺ کے مقاصد میں تعلیم کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:

﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾
(البقرہ: 129، 151 — آل عمران: 164 — الجمعہ: 2)

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ آپ ﷺ “یُعَلِّمُهُم” یعنی تعلیم دینے والے ہیں۔

📌 مگر یہاں لفظ “المعلم” بطورِ لقب صراحتاً نہیں آیا — بلکہ فعل کی صورت میں آیا ہے۔


✦ حدیثی تصریح

سب سے واضح حدیث جو اس لقب کی بنیاد ہے:

«إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا»
(سنن ابن ماجہ، حدیث 229)

ترجمہ:

“مجھے تو معلّم بنا کر بھیجا گیا ہے۔”

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے:

«إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ»
(سنن ابی داود)


✦ درجہ

المُعَلِّمُ ﷺ

❌ قرآن میں بطور لقب صراحتاً وارد نہیں
✔️ حدیثِ مبارکہ سے صراحتاً ثابت
✔️ مقصدِ بعثت سے ہم آہنگ لقب

📌 نتیجہ:
یہ اسم حدیث سے ثابت مستقل لقب کے درجے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔


✦ مفہوم کی وسعت

1️⃣ معلمِ عقیدہ

آپ ﷺ نے توحید، آخرت، رسالت اور ایمان کی بنیادیں سکھائیں۔

2️⃣ معلمِ عبادات

نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج — ہر عبادت عملی طور پر سکھائی۔

«صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي»

3️⃣ معلمِ اخلاق

رحمت، عدل، صبر، حیا، امانت — یہ سب آپ ﷺ کی تعلیم کا حصہ ہیں۔

4️⃣ معلمِ معاشرہ

نکاح، تجارت، سیاست، جہاد، صلح — ہر شعبہ میں رہنمائی فرمائی۔


✦ اس اسم کی عظمت

آپ ﷺ کی مجلس علم کی مجلس تھی۔
صحابہؓ فرماتے تھے:

“ہم نبی ﷺ کی مجلس میں ایسے بیٹھتے جیسے ہمارے سروں پر پرندے ہوں۔”

آپ ﷺ نے تعلیم میں:

  • نرمی اختیار فرمائی

  • تدریج اختیار فرمائی

  • سوالات کی حوصلہ افزائی کی

  • مثالیں بیان فرمائیں

  • عملی تربیت دی


✦ خلاصہ

“المعلم ﷺ” اس حقیقت کا اعلان ہے کہ:

آپ ﷺ صرف پیغام لانے والے نہیں، بلکہ انسانیت کے سب سے بڑے استاد ہیں۔

آپ ﷺ نے وحی کو صرف سنایا نہیں — بلکہ سمجھایا، سکھایا اور عملاً نافذ فرمایا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں