🌹 سلسلہ اسماءُ المصطفیٰ ﷺ 🌹
قسط نمبر 20
✦ اسمِ مبارک: رسولُ الرَّحمۃ ﷺ ✦
✦ تمہید
یہ مبارک نام، رسولُ الرحمۃ ﷺ، حضور سیدِ عالم ﷺ کی بعثت کے مقصد اور آپ کی شخصیت کے عالمی اثرات کا جامع عنوان ہے۔ اگر “رحمۃٌ للعالمین” آپ ﷺ کی صفتِ عامہ ہے تو “رسولُ الرحمۃ” آپ ﷺ کی بعثت کا منصبی تعارف ہے۔
یہ نام اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت عذاب کے لیے نہیں، بلکہ رحمت کے لیے ہے؛ سختی کے لیے نہیں، بلکہ ہدایت اور نجات کے لیے ہے۔
✦ لغوی تحقیق
-
رسول: بھیجا ہوا، پیغام رساں
-
رحمۃ: شفقت، مہربانی، خیر خواہی، بھلائی کا فیضان
پس “رسولُ الرحمۃ” کا مفہوم ہوا:
وہ عظیم ہستی جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پیغام لے کر آئی ہو، بلکہ خود مجسم رحمت ہو۔
✦ قرآنی بنیاد
اگرچہ لفظی ترکیب “رسولُ الرحمۃ” قرآن میں بعینہٖ نہیں آئی، لیکن اس کا مفہوم واضح طور پر قرآن میں موجود ہے:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
(سورۃ الانبیاء: 107)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد سراسر رحمت ہے۔
✦ حدیثی تصریح (اصل مأخذ)
یہ نام حدیثِ نبوی سے ثابت ہے۔
📖 حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ"
(سنن دارمی، مسند احمد)
اور ایک روایت میں:
"إِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً"
بعض طرق میں الفاظ ہیں:
"أنا رسول الرحمة"
✦ درجہ:
✅ حدیثِ مبارکہ سے ثابت
(صحیح اور حسن طرق سے مروی)
✦ مفہوم کی وسعت
“رسولُ الرحمۃ” صرف ایک لقب نہیں، بلکہ ایک عالمی اعلان ہے:
1️⃣ انسانیت کے لیے رحمت
آپ ﷺ نے ظلم، جاہلیت، نسلی تعصب، طبقاتی استحصال اور اخلاقی پستی کا خاتمہ فرمایا۔
2️⃣ امت کے لیے رحمت
آپ ﷺ نے شریعت میں آسانی کو اختیار فرمایا:
"يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا"
(صحیح بخاری)
3️⃣ دشمنوں کے لیے رحمت
فتح مکہ کے دن عام معافی کا اعلان —
“لا تثریب علیکم الیوم”
4️⃣ جانوروں اور ماحول کے لیے رحمت
جانوروں پر ظلم کی ممانعت، درختوں کو بلاوجہ نہ کاٹنے کا حکم — یہ سب رحمت کا عملی مظہر ہے۔
✦ عقیدۂ ختمِ نبوت سے تعلق
“رسولُ الرحمۃ” کا ایک لطیف پہلو یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی، کیونکہ کامل ترین رحمت نازل ہو چکی ہے۔
یعنی:
رسالت کا اختتام رحمت کے کمال پر ہوا۔
✦ اسم کی روحانی جہت
یہ نام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ:
-
دین سختی کا نہیں، رحمت کا نام ہے
-
دعوت میں شدت نہیں، شفقت ہونی چاہیے
-
امت کو بھی “رحمت کا سفیر” بننا چاہیے
اگر ہم حضور ﷺ کے نام “رسولُ الرحمۃ” کو سمجھ لیں تو ہماری دعوت، ہماری عبادت، ہمارا معاشرہ — سب میں نرمی، وسعت اور محبت پیدا ہو جائے۔
✦ خلاصہ
“رسولُ الرحمۃ ﷺ” اس حقیقت کا اعلان ہے کہ حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سب سے بڑے مظہر اور ترجمان ہیں۔
آپ ﷺ کی بعثت عذاب کے لیے نہیں، بلکہ انسانیت کی نجات، اصلاح اور کامیابی کے لیے ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں