زندگی کی تعمیر کی دو بنیادیں ہیں: ایک تقویٰ، دوسری ظلم


 

سبق نمبر ۲: زندگی کی تعمیر کی دو بنیادیں ہیں: ایک تقویٰ، دوسری ظلم

قرآنی آیات (سورۃ التوبہ: ۱۰۷-۱۱۰)

وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَىٰ ۖ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ۝ لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ۝ أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَمْ مَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ۝ لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ إِلَّا أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۝

اردو ترجمہ

اور ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لیے، کفر کے لیے، اور اہلِ ایمان میں پھوٹ ڈالنے کے لیے، اور اس شخص کے لیے کمین گاہ بنانے کے لیے جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ رہا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی کا تھا، حالانکہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ بے شک وہ جھوٹے ہیں۔

تم اس (مسجد) میں کبھی کھڑے نہ ہونا، البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، زیادہ حقدار ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

بھلا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر رکھی، یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک ڈھہنے والے کنارے پر رکھی جو اسے لے کر جہنم کی آگ میں جا گرا؟ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

وہ عمارت جو انہوں نے بنائی، ہمیشہ ان کے دلوں میں شک و ریب کا سبب بنی رہے گی، یہاں تک کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔


تشریح

زندگی کی تعمیر کی دو بنیادیں ہیں: ایک تقویٰ، دوسری ظلم۔

بنیادِ تقویٰ

  • انسان کی تمام سرگرمیوں کی بنیاد یہ فکر ہو کہ اسے اپنے ہر قول و فعل کا حساب ایک ایسی ہستی کو دینا ہے جو ظاہر و باطن کو جانتی ہے، اور جو ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے گی۔
  • ایسا شخص گویا مضبوط چٹان پر اپنی عمارت کھڑی کر رہا ہے۔
  • مسجدِ قبا اس کی مثال ہے جو پہلے دن سے تقویٰ پر قائم کی گئی۔

بنیادِ ظلم

  • انسان اللہ کے خوف سے خالی ہو، دنیا میں بے قید زندگی گزارے، کسی پابندی کو قبول کیے بغیر جو چاہے کہے اور کرے۔
  • ایسے شخص کی زندگی اس عمارت کی مانند ہے جو ایک ایسی کھائی کے کنارے پر کھڑی کی گئی ہو جو کسی وقت بھی گر سکتی ہے، اور بالآخر وہ عمارت اپنے مکینوں سمیت گہرے گڑھے میں جا گرتی ہے۔

مسجدِ ضرار کی مثال

مدینہ میں منافقین نے مسجدِ ضرار بنائی:

  • بظاہر دین کے نام پر، مگر حقیقت میں:
    • نقصان پہنچانے
    • کفر پھیلانے
    • مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے
    • دشمنوں کے لیے کمین گاہ بنانے کے لیے
  • وہ قسمیں کھاتے تھے کہ ارادہ صرف بھلائی کا تھا، مگر اللہ نے ان کی جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔
  • ایسے لوگ دین کے مقدس نام کو ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
  • اپنی ضد اور خود پرستی کی وجہ سے دعوتِ حق کی مخالفت کرتے ہیں، تخریبی سرگرمیاں کرتے ہیں، اور امت کو تقسیم کرتے ہیں۔
  • وہ دینی شخصیات کو بھی اپنے اسٹیج پر لانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ عوام میں اعتبار حاصل کریں۔

انجام

  • حق کی مخالفت دراصل اللہ کی مخالفت ہے۔
  • اللہ کی دنیا میں ایسی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔
  • ایسے لوگ حسرت و افسوس کے ساتھ مرتے ہیں اور اللہ کی رحمتوں سے ہمیشہ کے لیے محروم رہتے ہیں۔
  • ان کی بنائی ہوئی عمارت ان کے دلوں میں ہمیشہ ریب و شک کا باعث بنی رہے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں