جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کی تاویلیں ڈھونڈنے لگے۔


 

سبق نمبر ۱: جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کی تاویلیں ڈھونڈنے لگے، وہ برباد ہو گیا

قرآنی آیات (سورۃ التوبہ: ۱۰۲-۱۰۶)

وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ، إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۝ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ، إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ، وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۝ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ، وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ۝ وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ، وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۝ وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ، إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ، وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۝

اردو ترجمہ

کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لیا ہے۔ انھوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ امید ہے کہ اللہ ان پر توجہ کرے۔ بیشک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔

تم ان کے مالوں میں سے صدقہ لو، اس سے تم ان کو پاک کر دو گے اور ان کا تزکیہ کرو گے، اور تم ان کے لیے دعا کرو۔ بیشک تمہاری دعا ان کے لیے وجۂ تسکین ہوگی۔ اور اللہ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے، اور اللہ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔

کہہ دو: عمل کرو، اللہ اور اُس کا رسول اور اہلِ ایمان تمہارے عمل کو دیکھیں گے، اور تم جلد اس کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے، وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔

کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ بھی اللہ کے حکم آنے تک مؤخر ہے، یا وہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا، اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔


تشریح

کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی طبیعتوں میں اگرچہ شر نہیں ہوتا، وہ معمول والے دینی اعمال بھی کرتے رہتے ہیں، مگر جب دین کا کوئی ایسا تقاضا سامنے آتا ہے جس میں اپنے بنے ہوئے نقشے کو توڑ کر دیندار بننے کی ضرورت ہو، تو وہ اپنی زندگی اور مال کو اس طرح دین کے لیے نہیں دے پاتے جس طرح انہیں دینا چاہیے۔

قوتِ فیصلہ کی کمزوری یا دنیا میں ان کی مشغولیت ان کے لیے دین کی راہ میں اپنا حصہ ادا کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

ایسے لوگ اگرچہ قصوروار ہوتے ہیں، تاہم ان کا قصور اُس وقت معاف کر دیا جاتا ہے جب وہ یاد دہانی کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف کر لیں اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ دوبارہ دین کی طرف لوٹ آئیں۔

اعتراف اور شرمندگی کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے اندر ازسرِنو دینی خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ اپنے احساسِ گناہ کو دھونے کے لیے اپنے محبوب مال کا ایک حصہ اللہ کی راہ میں پیش کریں۔

جب ان کی طرف سے ایسا ردِ عمل ظاہر ہو تو پیغمبر کو تلقین کی گئی کہ اب انہیں ملامت نہ کرو بلکہ ان کو نفسیاتی سہارا دینے کی کوشش کرو۔ ان کو دعائیں دو تاکہ ان کے دل کا بوجھ دوبارہ ایمانی عزم و اعتماد میں تبدیل ہو جائے۔

اللہ کے نزدیک اصل برائی کیا ہے؟

  • غلطی کرنا نہیں، بلکہ غلطی پر قائم رہنا ہے۔
  • جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کی تاویلیں ڈھونڈنے لگے، وہ برباد ہو گیا۔
  • جو شخص غلطی کا اعتراف کر کے اپنی اصلاح کر لے، وہ اللہ کے نزدیک قابلِ معافی ٹھہرتا ہے۔

غلطی کے بعد انسان کے سامنے دو راستے

  1. اعتراف کا راستہ
    • اس میں تواضع پیدا ہوتی ہے
    • انسان دوبارہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بن جاتا ہے
  2. ڈھٹائی اور تاویل کا راستہ
    • انسان اللہ کے غضب کے راستے پر چل پڑتا ہے
    • ایک غلطی کو نبھانے کے لیے وہ بہت سی دوسری غلطیاں کرتا چلا جاتا ہے
    • جھوٹی تاویلیں کرتا رہتا ہے

نتیجہ

  • پہلے شخص کے لیے اللہ کی رحمت ہے
  • دوسرے شخص کے لیے اللہ کی سزا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں