سبق نمبر ۸: منافقین کی بیماری ہی یہ تھی کہ ان کے سینوں میں حسد تھا
قرآنی آیات (سورۃ محمد: ۲۹-۳۰)
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَنْ لَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغَانَهُمْ وَلَوْ نَشَاءُ لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيمَاهُمْ ۚ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ
اردو ترجمہ
"جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے، کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ ان کے کینے کو بھی ظاہر نہ کرے گا؟ اور اگر ہم چاہتے تو ہم تمہیں وہ دکھا دیتے، پس تم ان کو ان کی علامتوں سے پہچان لیتے۔ اور تم ان کے اندازِ کلام سے ضرور ان کو پہچان لو گے۔ اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔"
تشریح
منافقین کی بیماری یہ تھی کہ ان کے سینوں میں حسد تھا۔
حسد کی وجہ
منافق مسلمانوں کو اپنے مخلص برادرانِ دین سے یہ حسد اس لیے تھا کہ:
- اسلام کی ترقی انہیں مخلص مسلمانوں کے حصے میں جاتی ہوئی نظر آتی تھی
- یہ چیز منافقین کے لیے بے حد شاق تھی
وہ سوچتے تھے: "ہم ایسی مہم میں اپنا جان و مال کیوں کھپائیں جس میں دوسروں کی حیثیت بڑھے، جس میں دوسروں کو بڑائی حاصل ہوتی ہو؟"
منافقین کا ظاہری اور باطنی رویہ
منافقین اپنے ظاہری رویے میں اپنی اس اندرونی حالت کو چھپاتے تھے، مگر سمجھ دار لوگوں کے لیے وہ چھپا ہوا نہ تھا۔
- ان کا مصنوعی لہجہ
- ان کی درد سے خالی آواز
یہ سب بتا دیتی تھی کہ اسلام سے ان کا تعلق محض دکھاوے کا تعلق ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں قلبی تعلق۔
اللہ فرماتا ہے کہ اگر چاہے تو ان کی شکلیں ہی بدل کر دکھا دے، مگر اس کے بجائے ان کے اندازِ کلام (لحن القول) سے ہی انہیں پہچان لیا جائے۔
یہ سبق حسد کی تباہ کاریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ دل کو جھنجھوڑ دینے والا! 🔥

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں