آپریشن سیندور: ایس 400 دفاعی نظام کی تباہی اور خطے کی عسکری حقیقت
آپریشن سیندور کے دوران بھارت کے ناقابلِ شکست سمجھے جانے والے ایس 400 دفاعی نظام کی تباہی سے متعلق تفصیلات منظرِ عام پر آئیں تو یہ انکشاف ہوا کہ یہ غیر معمولی کارنامہ پاکستانی شاہینوں نے انجام دیا۔
ایک ایسا دفاعی نظام جو تین سو کلو میٹر دور سے ہدف کی نشاندہی کر سکتا ہے اور بیک وقت سو سے زائد لڑاکا طیاروں کو انگیج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے نہ صرف ناکام بنایا گیا بلکہ مکمل طور پر غیر مؤثر بھی کر دیا گیا۔
جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کا امتزاج
پاکستانی فضائیہ نے جرات، پیشہ ورانہ مہارت، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے باہمی امتزاج سے اس نظام کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے اثرات محض میدانِ جنگ تک محدود نہ رہے بلکہ روسی دفاعی صنعت کو بھی شدید دھچکا لگا۔
ترکی اور برازیل نے روس سے ایس 400 کی خریداری سے متعلق بات چیت معطل کر دی، جبکہ فلپائن، ایران سمیت دیگر ممکنہ خریدار ممالک نے بھی اس نظام میں دلچسپی واپس لے لی۔
ایس 400 کی کمزوری اور فیصلہ کن لمحہ
ایس 400 کی ایک نمایاں خصوصیت یہ سمجھی جاتی ہے کہ الیکٹرانک جامنگ کے بعد اس کا نظام خودکار طریقے سے دس سے پندرہ منٹ میں بحال ہو جاتا ہے۔
پاکستانی شاہینوں نے اسی محدود وقت کو فیصلہ کن لمحہ بنا لیا۔ نہایت باریک بینی سے تیار کیے گئے اس مشن میں سب سے پہلے دفاعی نظام کو جام کیا گیا اور جیسے ہی وہ اندھا ہوا، خودکش نوعیت کے اس مشن پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا۔
رضاکار پائلٹس اور انتہائی خطرناک مشن
اس آپریشن کے لیے درجنوں پائلٹس نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا، جبکہ منتخب پائلٹس اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ مشن کی کامیابی کے امکانات محدود اور واپسی کے امکانات اس سے بھی کم ہیں۔
ہر سیکنڈ کی حساب کتاب کے ساتھ تیار کیے گئے اس منصوبے میں پاکستانی فائٹر جیٹ صرف گیارہ منٹ کے اندر ایس 400 کی بیٹریوں تک جا پہنچا۔
ایس 400 بیٹریوں کی مکمل تباہی
پائلٹ نے دفاعی نظام کی بنیادی اکائی، یعنی اس کی بیٹریوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا اور اپنے تمام میزائل استعمال کر دیے۔
ایس 400 کی اصل قوت یہی بیٹریاں ہوتی ہیں؛ ان کی تباہی کے بعد پیچھے محض بے جان ڈھانچے رہ جاتے ہیں جو کسی حملے کے قابل نہیں رہتے۔
نظام کی خودکار بحالی سے صرف دو منٹ قبل یہ بیٹریاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں اور پاکستانی پائلٹ دشمن کی فضاؤں سے کامیابی کے ساتھ واپس لوٹ آیا۔
اعلیٰ عسکری قیادت کا فوری ردعمل
پائلٹ کے استقبال کے لیے خود ائیر چیف موجود تھے، جبکہ آرمی چیف اور وزیراعظم کو بھی فوری طور پر اس غیر معمولی کامیابی سے آگاہ کر دیا گیا۔
اس آپریشن کی کامیابی کے اثرات اگلے ہی دن مزید واضح ہوئے جب چار رافال، ایک مگ اور ایک سخوئی طیارے تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بھارتی عسکری پسپائی اور وکرانت کی واپسی
پاکستانی جیٹ محض نو منٹ تک بھارتی فضاؤں میں موجود رہا۔ جب تک بھارتی فضائیہ جوابی کارروائی کی تیاری کرتی، پاکستانی شاہین اپنا ہدف حاصل کر کے واپس آ چکا تھا۔
اسی دوران بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت کو پاکستان کی سمندری حدود سے دور ہی لاک کر لیا گیا، جس کے بعد بھارتی عسکری منصوبہ سازوں نے اسے فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔
علاقائی توازن اور اسٹریٹجک فیصلہ
حقیقت یہ تھی کہ پاکستان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا، جبکہ بھارت کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ تھا۔
وکرانت کی ممکنہ تباہی ایٹمی تصادم کے خدشات کو جنم دے سکتی تھی، اسی خطرے سے بچنے کے لیے اسے واپس بلایا گیا۔
بھارت کی بالادستی کے زعم اور یہ غلط فہمی کہ پاکستان کوئی مؤثر جواب نہیں دے سکتا، اسی آپریشن میں دفن ہو گئی۔
فیصلہ کن حکمتِ عملی اور عالمی اثرات
اس تمام حکمتِ عملی کا سہرا آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ان کے مضبوط کمانڈ سسٹم کے سر جاتا ہے۔
جوابی حملوں میں بھارت کے ہزاروں کلو میٹر دور واقع فوجی اہداف کو میزائلوں سے یوں نشانہ بنایا گیا جیسے وہ براہِ راست نظروں کے سامنے ہوں۔
سائبر وار فیئر کے ذریعے بھارت کے بجلی کی ترسیلی نظام پر کنٹرول، ایس 400 کی تباہی اور اکتیس سے زائد فوجی تنصیبات پر کامیاب حملوں نے بھارتی قیادت کو شدید بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا۔
نتیجہ: تین دن میں پچاس سالہ دعویٰ ختم
“گھس کر ماریں گے” کے نعرے لگانے والے بالآخر جنگ بندی کے لیے امریکی صدر کے دروازے پر دستک دینے پر مجبور ہو گئے۔
جنگ بندی تو ہو گئی، مگر بھارت کی عسکری برتری کا پچاس سالہ دعویٰ محض تین دن میں ایک بلف ثابت ہو گیا۔
عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا، اور یہ پیغام واضح ہو گیا کہ روایتی ہتھیاروں کے میدان میں پاکستان کسی سے کم نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں