🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴33🌴


 🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴33🌴

سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

جنات کا اسلام اور طفیل بن عمرو دوسیؓ کی ہدایت


📖 گذشتہ سے پیوستہ

پہاڑوں کے فرشتے کی بات کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا:

’’نہیں! مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں ضرور ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘

اس پر پہاڑوں کے فرشتے نے جواب دیا:

’’اللہ تعالیٰ نے جیسا آپ ﷺ کو نام دیا ہے آپ ﷺ حقیقت میں رؤف و رحیم ہیں — یعنی بہت معاف کرنے والے اور بہت رحم کرنے والے ہیں۔‘‘


🌌 جنات کا ایمان لانا

طائف کے اسی سفر سے واپسی پر ۹ جنوں کا آپ ﷺ کے پاس سے گزر ہوا — وہ نصیبین کے رہنے والے تھے۔ یہ شام کے ایک شہر کا نام ہے۔ آپ ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ جنات نے آپ ﷺ کی قرات کی آواز سنی تو اسی وقت مسلمان ہو گئے — پہلے وہ یہودی تھے۔

طائف سے واپسی پر آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو حرم میں آئے اور بیت اللہ کا طواف فرمایا۔ اس کے بعد گھر تشریف لے گئے۔

ادھر ۹ جن جب اپنی قوم میں گئے تو انہوں نے باقی جنوں کو آپ ﷺ کے بارے میں بتایا — چنانچہ وہ سب کے سب مکہ پہنچے۔ انہوں نے حجون کے مقام پر قیام کیا اور ایک جن کو آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ اس نے آپ ﷺ سے عرض کیا:

’’میری قوم حجون کے مقام پر ٹھہری ہوئی ہے، آپ ﷺ وہاں تشریف لے چلیے۔‘‘

آپ ﷺ نے اس سے وعدہ فرمایا کہ آپ ﷺ رات میں کسی وقت حجون آئیں گے — حجون مکہ کے ایک قبرستان کا نام تھا۔


🌙 حجون میں جنات سے ملاقات

رات کے وقت آپ ﷺ وہاں پہنچے — حضرت عبداللہ بن مسعودؓ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ حجون پہنچ کر آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے گرد ایک خط کھینچ دیا اور فرمایا:

’’اس سے باہر مت نکلنا — اگر تم نے دائرے سے باہر قدم رکھ دیا تو قیامت کے دن تک تم مجھے نہیں دیکھ پاؤ گے اور نہ میں تمہیں دیکھ سکوں گا۔‘‘

ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے ان سے یہ فرمایا:

’’میرے آنے تک تم اسی جگہ رہو — تمہیں کسی چیز سے ڈر نہیں لگے گا، نہ کسی چیز کو دیکھ کر ہول محسوس ہوگا۔‘‘

اس کے بعد آپ ﷺ کچھ فاصلے پر جا کر بیٹھ گئے — اچانک آپ ﷺ کے پاس بالکل سیاہ فام لوگ آئے۔ یہ کافی تعداد میں تھے اور آپ ﷺ پر ہجوم کر کے ٹوٹے پڑ رہے تھے — یعنی قرآن پاک سننے کی خواہش میں ایک دوسرے پر گر رہے تھے۔

اس موقع پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے چاہا کہ آگے بڑھ کر ان لوگوں کو آپ ﷺ کے پاس سے ہٹا دیں، لیکن پھر انہیں آپ ﷺ کا ارشاد یاد آگیا اور وہ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔


🤲 جنات کی درخواست اور رسول کا جواب

ادھر جنات نے آپ ﷺ سے کہا:

’’اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم جس جگہ کے رہنے والے ہیں — یعنی جہاں ہمیں جانا ہے وہ جگہ دور ہے، اس لیے ہمارے اور ہماری سواریوں کے لیے سامان سفر کا انتظام فرما دیجیے۔‘‘

جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، جب تمہارے ہاتھوں میں پہنچے گی تو پہلے سے زیادہ پر گوشت ہو جائے گی اور یہ لید اور گوبر تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔‘‘

اس طرح جنات آپ ﷺ پر ایمان لائے۔


🎭 طفیل بن عمرو دوسیؓ — ایک شاعر کی ہدایت

طفیل بن عمرو دوسیؓ ایک اونچے درجے کے شاعر تھے۔ یہ ایک مرتبہ مکہ آئے — ان کی آمد کی خبر سن کر قریش ان کے گرد جمع ہو گئے۔ انہوں نے طفیل بن عمرو دوسیؓ سے کہا:

’’آپ ہمارے درمیان ایسے وقت میں آئے ہیں جب کہ ہمارے درمیان اس شخص نے اپنا معاملہ بہت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس نے ہمارا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے — ہم میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ اس کی باتوں میں جادو جیسا اثر ہے — اس نے دو سگے بھائیوں میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ اب ہمیں آپ کی اور آپ کی قوم کی طرف سے بھی پریشانی لاحق ہو گئی ہے، اس لیے اب آپ نہ تو اس سے کوئی بات کریں اور نہ اس کی کوئی بات سنیں۔‘‘

انہوں نے ان پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے:

’’نہ میں محمد کی کوئی بات سنوں گا اور نہ ان سے کوئی بات کروں گا۔‘‘


👂 کانوں میں روئی اور قرآن کی آواز

دوسرے دن طفیل بن عمرو دوسیؓ کعبہ کا طواف کرنے کے لیے گئے — تو انہوں نے اپنے کانوں میں کپڑا ٹھونس لیا کہ کہیں ان کی کوئی بات ان کے کانوں میں نہ پہنچ جائے۔

آپ ﷺ اس وقت کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے — یہ آپ ﷺ کے قریب ہی کھڑے ہو گئے۔ اللہ کو یہ منظور تھا کہ آپ ﷺ کا کچھ کلام ان کے کانوں میں پڑ جائے — چنانچہ انہوں نے ایک نہایت پاکیزہ اور خوبصورت کلام سنا۔

وہ اپنے دل میں کہنے لگے:
’’میں اچھے اور برے میں تمیز کر سکتا ہوں — اس لیے ان صاحب کی بات سن لینے میں حرج ہی کیا ہے۔ اگر یہ اچھی بات کہتے ہیں تو میں قبول کر لوں گا اور بری بات ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔‘‘


🕌 قرآن کی آواز اور دل کی تبدیلی

کچھ دیر بعد آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر اپنے گھر کی طرف چلے — تو انہوں نے کہا:

’’اے محمد! آپ کی قوم نے مجھ سے ایسا ایسا کہا ہے، اسی لیے میں آپ کی باتوں سے بچنے کے لیے کانوں میں کپڑا ٹھونس لیا تھا — مگر آپ اپنی بات میرے سامنے پیش کریں۔‘‘

یہ سن کر آپ ﷺ نے ان پر اسلام پیش کیا اور ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی — قرآن سن کر طفیل بن عمرو دوسیؓ بول اٹھے:

’’اللہ کی قسم! میں نے اس سے اچھا کلام کبھی نہیں سنا۔‘‘

اس کے بعد انہوں نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئے۔ پھر انہوں نے عرض کیا:

’’اے اللہ کے نبی ﷺ! میں اپنی قوم میں اونچی حیثیت کا مالک ہوں — وہ سب میری بات سنتے ہیں… مانتے ہیں۔ میں واپس جا کر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دوں گا — اس لیے آپ ﷺ میرے لیے دعا فرمائیں۔‘‘

اس پر آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی — پھر وہ واپس روانہ ہو گئے۔


💫 ذی النور — نور والے صحابی

اپنی بستی کے قریب پہنچے تو وہاں انہیں پانی کے پاس قافلے کھڑے نظر آئے — عین اس وقت ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان چراغ کی مانند ایک نور پیدا ہو گیا — اور ایسا آپ ﷺ کی دعا کی وجہ سے ہوا تھا۔ رات بھی اندھیری تھی۔

اس وقت انہوں نے دعا کی:

’’اے اللہ! اس نور کو میرے چہرے کے علاوہ کسی اور چیز میں پیدا فرما دے — مجھے ڈر ہے، میری قوم کے لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ دین بدلنے کی وجہ سے اس کی شکل بگڑ گئی۔‘‘

چنانچہ اسی وقت وہ نور ان کے چہرے سے ان کے کوڑے میں آگیا — اب ان کا کوڑا کسی قندیل کی طرح روشن ہو گیا۔

اسی بنیاد پر حضرت طفیل بن عمرو دوسیؓ کو ذی النور کہا جانے لگا — یعنی نور والے۔


👨‍👦 والدین کا اسلام قبول کرنا

وہ گھر پہنچے تو ان کے والد ان کے پاس آئے — انہوں نے ان سے کہا:

’’آپ میرے پاس نہ آئیں — اب میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ آپ کا مجھ سے کوئی تعلق رہ گیا ہے۔‘‘

یہ سن کر ان کے والد نے پوچھا:
’’کیوں بیٹے! یہ کیا بات ہوئی؟‘‘

انہوں نے جواب دیا:
’’میں مسلمان ہو گیا ہوں — میں نے محمد ﷺ کا دین قبول کر لیا ہے۔‘‘

یہ سنتے ہی ان کے والد بول اٹھے:
’’بیٹے! جو تمہارا دین ہے، وہی میرا دین ہے۔‘‘

تب طفیل بن عمرو دوسیؓ نے انہیں غسل کرنے اور پاک کپڑے پہننے کے لیے کہا — جب وہ ایسا کر چکے تو ان پر اسلام پیش کیا — وہ اسی وقت کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔

پھر ان کی بیوی ان کے پاس آئیں — انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔

اب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں پر اسلام پیش کیا — وہ لوگ بگڑ گئے


*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں