🤍✨🕌📿⭐️ سیرتُ النبی ﷺ — قدم بہ قدم
🌴 قسط نمبر 30 🌴
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا
اسلام کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ
الکمونیا بلاگ ⲯ﹍︿﹍ میاں شاہد ﹍︿﹍ⲯ آئی ٹی درسگاہ فورم
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼
ظلم کا عروج اور ایمان کی آزمائش
ہجرتِ حبشہ کے بعد بھی مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کم نہ ہوا بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔ قریش اس بات پر سخت پریشان تھے کہ اسلام دبنے کے بجائے پھیلتا جا رہا ہے۔
ایسے میں حضرت عمر بن خطابؓ—جو اس وقت اسلام کے سخت ترین مخالفین میں شمار ہوتے تھے—نے اسلام کو مٹانے کا پختہ ارادہ کر لیا۔
تلوار ہاتھ میں، ارادہ قتل کا
ایک دن حضرت عمرؓ تلوار ہاتھ میں لیے مکہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر غصہ اور آنکھوں میں انتقام کی آگ تھی۔ راستے میں ان کی ملاقات حضرت نعیم بن عبداللہؓ سے ہوئی، جو اس وقت تک اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے۔
حضرت نعیمؓ نے گھبرا کر پوچھا:
“عمر! کہاں کا ارادہ ہے؟”
حضرت عمرؓ بولے:
“محمد (ﷺ) کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔”
یہ سن کر حضرت نعیمؓ نے حکمت سے کہا:
“پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔”
بہن کے گھر کا منظر
یہ سننا تھا کہ حضرت عمرؓ غصے سے آگ بگولا ہو گئے اور فوراً اپنی بہن کے گھر کا رخ کیا۔
ان کی بہن کا نام حضرت فاطمہؓ تھا اور بہنوئی حضرت سعید بن زیدؓ تھے، جو عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔
دروازے پر دستک دی۔
اندر اس وقت حضرت خباب بن ارتؓ قرآن پڑھا رہے تھے۔ عمرؓ کی آواز سنتے ہی قرآن کے اوراق چھپا دیے گئے اور خاموشی چھا گئی۔
دروازہ کھلا تو حضرت عمرؓ نے غصے میں کہا:
“اے اپنی جان کی دشمن! کیا تو بے دین ہو گئی ہے؟”
اور بہن پر ہاتھ اٹھا دیا۔ خون بہنے لگا۔
حضرت فاطمہؓ نے بے خوف ہو کر کہا:
“عمر! تم جو چاہو کر لو، میں مسلمان ہو چکی ہوں۔”
قرآن کا پہلا اثر
حضرت عمرؓ نے پوچھا:
“یہ کیا پڑھ رہے تھے؟ مجھے دکھاؤ!”
حضرت فاطمہؓ نے کہا:
“تم ناپاک ہو، پہلے غسل کرو، پھر قرآن چھو سکتے ہو۔”
غسل کے بعد جب حضرت عمرؓ نے قرآن کے اوراق اٹھائے اور
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پڑھا تو ان پر ہیبت طاری ہو گئی۔
آگے سورۃ طٰہٰ کی ابتدائی آیات تھیں۔
جیسے جیسے آیات پڑھتے گئے، دل نرم ہوتا چلا گیا، آنکھوں سے غرور اترنے لگا۔
آخر بے اختیار بول اٹھے:
“مجھے محمد ﷺ کے پاس لے چلو!”
دارِ ارقم کا تاریخی لمحہ
حضرت خبابؓ اور حضرت سعیدؓ حضرت عمرؓ کو دارِ ارقم لے گئے۔
دروازے پر دستک ہوئی۔ پوچھا گیا: کون ہے؟
جواب آیا: “عمر بن خطاب۔”
صحابہؓ گھبرا گئے۔ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“دروازہ کھول دو، اگر اللہ نے اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمایا ہے تو اسے ہدایت مل جائے گی۔”
دروازہ کھلا۔ حضرت حمزہؓ نے آگے بڑھ کر انہیں اندر آنے دیا۔
دو صحابہؓ نے دائیں بائیں سے پکڑ کر حضور ﷺ کے سامنے بٹھا دیا۔
نبی اکرم ﷺ نے ان کا دامن پکڑ کر فرمایا:
“اے ابن خطاب! اللہ کے لیے ہدایت قبول کرو۔”
کلمۂ حق اور مکہ میں تکبیر
حضرت عمرؓ فوراً بول اٹھے:
“میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔”
یہ سنتے ہی دارِ ارقم تکبیروں سے گونج اٹھا۔
اتنی بلند آواز میں اللہ اکبر کہا گیا کہ مکہ کی گلیاں لرز اٹھیں۔
نبی کریم ﷺ نے تین بار ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دعا فرمائی:
“اے اللہ! عمر کے دل سے کدورت نکال دے اور اسے ایمان سے بھر دے۔”
اسلام کا اعلان اور حق کی جرأت
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمرؓ سیدھے قریش کے مجمع میں پہنچے اور اعلان کیا:
“میں مسلمان ہو چکا ہوں!”
لوگوں نے کہا:
“عمر بھی بے دین ہو گیا!”
عتبہ بن ربیعہ نے حملہ کیا مگر حضرت عمرؓ نے اسے زمین پر پٹخ دیا۔
پھر اعلان فرمایا:
“اللہ کی قسم! آج کے بعد مسلمان چھپ کر عبادت نہیں کریں گے۔”
چنانچہ نبی اکرم ﷺ صحابہؓ کے ساتھ دارِ ارقم سے نکلے۔
حضرت عمرؓ تلوار ہاتھ میں لیے آگے آگے تھے اور زبان پر تھا:
لا إله إلا الله محمد رسول الله
سب حرم میں داخل ہو گئے۔
اسلام کو وہ قوت نصیب ہوئی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
🌿 سبق و پیغام
-
ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے، وہ جسے چاہے عزت عطا فرماتا ہے
-
قرآن دلوں کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے
-
اخلاص کے ساتھ ایک قدم بھی انسان کو عرش تک پہنچا دیتا ہے
-
حضرت عمرؓ کا اسلام، اسلام کی اجتماعی قوت کا آغاز تھا
ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼
::::::::::::::: جاری ہے :::::::::::::::
🔗 اگلی قسط کی جھلک
قسط نمبر 31:
👉 نجاشی کے دربار میں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں