🤍✨🕌📿⭐️ سیرتُ النبی ﷺ — قدم بہ قدم 🌴 29 🌴


 

🤍✨🕌📿⭐️ سیرتُ النبی ﷺ — قدم بہ قدم

🌴 قسط نمبر 29 🌴

سرکارِ مدینہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا مکمل و مفصل تذکرہ

الکمونیا بلاگ ⲯ﹍︿﹍ میاں شاہد ﹍︿﹍ⲯ آئی ٹی درسگاہ فورم
✍🏻 عبداللہ فارانی

☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼


حق پر ثابت قدم صحابہؓ اور کفار کا تمسخر

حضرت خباب بن اَرتؓ نے جواب میں فرمایا:
“اللہ کی قسم! میں محمد ﷺ کا دین ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔”

انہی تمسخر اڑانے والوں میں اسود بن یغوث بھی شامل تھا، جو حضور اکرم ﷺ کا ماموں زاد تھا۔ وہ مسلمانوں کو دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہتا:

“دیکھو! تمہارے سامنے وہ بادشاہ آ رہے ہیں جو ایک دن کسریٰ و قیصر کے وارث بنیں گے!”

وہ یہ جملے اس لیے کہتا تھا کہ اکثر صحابہؓ کے لباس پرانے اور پھٹے ہوتے تھے، وہ مالی اعتبار سے کمزور تھے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ پہلے ہی فرما چکے تھے کہ
مجھے ایران و روم کی سلطنتوں کی کنجیاں عطا کی جائیں گی۔

اسود بن یغوث حضور ﷺ سے یہ بھی کہتا:

“محمد! آج آسمان کی کیا خبریں ہیں؟”

وہ اور اس کے ساتھی حضور ﷺ اور صحابہؓ کو دیکھ کر سیٹیاں بجاتے، آنکھیں مٹکاتے اور مذاق اڑاتے تھے۔ اسی قبیل کا ایک شخص نضر بن حارث بھی تھا۔


انجامِ تمسخر — اللہ کی گرفت

ان میں سے اکثر لوگ ہجرت سے پہلے ہی مختلف آفات اور عذابوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گئے۔

ان ہی میں ولید بن مغیرہ بھی تھا، جو حضرت خالد بن ولیدؓ کا باپ اور ابو جہل کا چچا تھا۔ قریش کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتا تھا، حاجیوں کو کھانا کھلاتا، بڑے بڑے باغات کا مالک تھا، مگر اس نے رسول اللہ ﷺ کو سخت اذیتیں دیں، حتیٰ کہ حضور ﷺ نے اس کے لیے بددعا فرمائی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اس کا مال تباہ ہو گیا اور عزت خاک میں مل گئی۔


حضرت جبرائیلؑ کی آمد اور فیصلہ کن لمحہ

ایک روز حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے جبکہ حضور ﷺ بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے۔ عرض کیا:

“مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ ﷺ کو مذاق اڑانے والوں سے نجات دلاؤں۔”

ایک ایک کر کے اسود بن یغوث، عاص بن وائل، ولید بن مغیرہ اور حارث بن عیطلہ گزرے، اور حضرت جبرائیلؑ نے ہر ایک کے بارے میں اللہ کے حکم سے اس کے انجام کی نشاندہی فرمائی۔

بعد ازاں یہ سب لوگ مختلف عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے۔
حضرت ابن عباسؓ کے مطابق یہ سب ایک ہی رات میں ہلاک ہوئے۔


ہجرتِ حبشہ کا حکم

جب نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ مکہ میں مسلمانوں پر ظلم حد سے بڑھ چکا ہے اور فی الحال دفاع ممکن نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

“زمینِ خدا میں پھیل جاؤ، اللہ تمہیں دوبارہ ایک جگہ جمع فرما دے گا۔”

صحابہؓ نے عرض کیا: ہم کہاں جائیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:

“حبشہ چلے جاؤ، وہاں کا بادشاہ عادل ہے، کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا۔”

چنانچہ کئی صحابہؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔
حضرت عثمان غنیؓ اپنی زوجہ، حضور ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کے ساتھ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے، اور سب سے پہلے مہاجر تھے۔


☆☆☆

🌴 سیرتُ النبی ﷺ — قدم بہ قدم

قسط نمبر 30

عنوان: حضرت عمر بن خطابؓ کا اسلام قبول کرنا

(اگلی قسط میں حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام کا ایمان افروز واقعہ تفصیل سے بیان کیا جائے گا، جو اسلام کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔)

ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼
::::::::::::::: جاری ہے :::::::::::::::

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں