🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴31🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
نجاشی کے دربار میں
📖 گذشتہ سے پیوستہ
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اور تمام مسلمانوں نے کعبہ کا طواف شروع کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ آگے آگے رہے۔ مسلمانوں نے کعبہ کے گرد نماز ادا کی۔ سب نے بلند آواز سے قرآن کی تلاوت بھی کی، جبکہ اس سے پہلے مسلمان ایسا نہیں کر سکتے تھے۔
اب تمام قریش نے مل کر نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان والوں سے کہا:
"تم ہم سے دو گنا خون بہا لے لو اور اس کی اجازت دے دو کہ قریش کا کوئی شخص آنحضرت ﷺ کو قتل کر دے، تاکہ ہمیں سکون مل جائے اور تمہیں فائدہ پہنچ جائے۔"
آنحضرت ﷺ کے خاندان والوں نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر قریش نے غصے میں آکر یہ طے کیا کہ تمام بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے، اور ساتھ ہی انہوں نے طے کیا کہ:
بنو ہاشم کو بازاروں میں نہ آنے دیا جائے، تاکہ وہ کوئی چیز نہ خرید سکیں۔
ان سے شادی بیاہ نہ کیا جائے۔
نہ ان کے لیے کوئی صلح قبول کی جائے۔
ان کے معاملے میں کوئی نرم دلی نہ اختیار کی جائیں، یعنی ان پر کچھ بھی گزرے، ان کے لیے دل میں رحم کا جذبہ پیدا نہ ہونے دیا جائے۔
یہ بائیکاٹ اس وقت تک جاری رہنا چاہیے، جب تک کہ بنی ہاشم کے لوگ آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کے لیے قریش کے حوالے نہ کر دیں۔
قریش نے اس معاہدے کی باقاعدہ تحریر لکھی، اس پر پوری طرح عمل کرانے اور اس کا احترام کرانے کے لیے اس کو کعبے میں لٹکا دیا۔
🏔️ شعب ابی طالب میں محصور ہونا
اس معاہدے کے بعد ابولہب کو چھوڑ کر تمام بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب شعب ابی طالب میں چلے گئے — یہ مکہ سے باہر ایک گھاٹی تھی۔
ابولہب چونکہ قریش کا پکا طرفدار تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن بھی تھا، اس لیے اسے گھاٹی میں جانے پر مجبور نہ کیا گیا — یوں بھی اس نے نبی کریم ﷺ کے قتل کے منصوبے میں قریش کا ساتھ دیا تھا، ان کی مخالفت نہیں کی تھی۔
نبی اکرم ﷺ شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے، اس وقت آپ کی عمر مبارک 46 سال تھی۔
بخاری میں ہے کہ اس گھاٹی میں مسلمانوں نے بہت مشکل اور سخت وقت گزارا — قریش کے بائیکاٹ کی وجہ سے انہیں کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ملتی تھی۔ سب لوگ بھوک سے بے حال رہتے تھے — یہاں تک کہ انہوں نے گھاس پھوس اور درختوں کے پتے کھا کر یہ دن گزارے۔
جب بھی مکہ میں باہر سے کوئی قافلہ آتا، تو یہ مجبور اور بےکس حضرات وہاں پہنچ جاتے، تاکہ ان سے کھانے پینے کی چیزیں خرید لیں، لیکن ساتھ ہی ابولہب وہاں پہنچ جاتا اور کہتا:
"لوگو! محمد کے ساتھی اگر تم سے کچھ خریدنا چاہیں، تو اس چیز کے دام اس قدر بڑھا دو کہ یہ تم سے کچھ خرید نہ سکیں۔ تم لوگ میری حیثیت اور ذمے داری کو اچھی طرح جانتے ہو۔"
چنانچہ وہ تاجر اپنے مال کی قیمت بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر بتاتے، اور حضرات ناکام ہو کر گھاٹی میں لوٹ آتے — وہاں اپنے بچوں کو بھوک اور پیاس سے بلکتا تڑپتا دیکھتے، تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ ادھر بچے انہیں خالی ہاتھ دیکھ کر اور زیادہ رونے لگتے۔ ابولہب ان تاجروں سے سارا مال خود خرید لیتا۔
یہاں یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ آنحضرت ﷺ اور ان کے خاندان کے لوگ قریش کے اس معاہدے کے بعد حالات کا رخ دیکھتے ہوئے خود اس گھاٹی میں چلے آئے تھے — یہ بات نہیں کہ قریش مکہ نے انہیں گرفتار کر کے وہاں قید کر دیا تھا۔
🕊️ حبشہ کی طرف دوسری ہجرت
اس بائیکاٹ کے دوران بہت سے مسلمان ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے — یہ حبشہ کی طرف دوسری ہجرت تھی۔
اس ہجرت میں 38 مردوں اور 12 عورتوں نے حصہ لیا۔ ان لوگوں میں:
حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
عبیداللہ بن جحش اور اس کی بیوی ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا بھی تھے۔
یہ عبیداللہ بن جحش حبشہ جا کر اسلام سے پھر گیا تھا، اور اس نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا۔ اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوئی۔ اس کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اسلام پر رہیں — ان سے بعد میں آنحضرت ﷺ نے نکاح فرمایا۔
👑 نجاشی کے دربار میں
ان مسلمانوں کو حبشہ میں بہترین پناہ مل گئی — اس بات سے قریش کو اور زیادہ تکلیف ہوئی۔ انہوں نے ان کے پیچھے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور عمارہ بن ولید کو بھیجا، تاکہ یہ وہاں جا کر حبشہ کے بادشاہ کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکائیں (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بعد میں مسلمان ہوئے)۔
یہ دونوں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے لیے بہت سے تحائف لے کر گئے — تحائف میں قیمتی گھوڑے اور ریشمی جبے شامل تھے۔ بادشاہ کے علاوہ انہوں نے پادریوں اور دوسرے بڑے لوگوں کو بھی تحفے دیے... تاکہ وہ سب ان کا ساتھ دیں۔
بادشاہ کے سامنے دونوں نے اسے سجدہ کیا — بادشاہ نے انہیں اپنے دائیں بائیں بٹھا لیا۔ اب انہوں نے بادشاہ سے کہا:
"ہمارے خاندان کے کچھ لوگ آپ کی سرزمین پر آئے ہیں۔ یہ لوگ ہم سے اور ہمارے معبودوں سے بیزار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے آپ کا دین بھی اختیار نہیں کیا۔ یہ ایک ایسے دین میں داخل ہو گئے ہیں، جس کو نہ ہم جانتے ہیں، نہ آپ۔ اب ہمیں قریش کے بڑے سرداروں نے آپ کے پاس بھیجا ہے، تاکہ آپ ان لوگوں کو ہمارے حوالے کر دیں۔"
یہ سن کر نجاشی نے کہا:
"وہ لوگ کہاں ہیں؟"
انہوں نے کہا:
"آپ ہی کے ہاں ہیں۔"
نجاشی نے انہیں بلانے کے لیے فوراً آدمی بھیج دیے۔ ایسے میں ان پادریوں اور دوسرے سرداروں نے کہا:
"آپ ان لوگوں کو ان دونوں کے حوالے کر دیں — اس لیے کہ ان کے بارے میں یہ زیادہ جانتے ہیں۔"
نجاشی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا — اس نے کہا:
"پہلے میں ان سے بات کروں گا کہ وہ کس دین پر ہیں۔"
🕌 مسلمانوں کی حاضر ی اور حضرت جعفرؓ کی تقریر
اب مسلمان دربار میں حاضر ہوئے۔ حضرت جعفرؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
"نجاشی سے میں بات کروں گا۔"
ادھر نجاشی نے تمام عیسائی عالموں کو دربار میں طلب کر لیا تھا، تاکہ مسلمانوں کی بات سن سکیں — وہ اپنی کتابیں بھی اٹھا لائے تھے۔
مسلمانوں نے دربار میں داخل ہوتے وقت اسلامی طریقے کے مطابق سلام کیا — بادشاہ کو سجدہ نہ کیا۔ اس پر نجاشی بولا:
"کیا بات ہے، تم نے مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا؟"
حضرت جعفرؓ فوراً بولے:
"ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان ایک رسول بھیجے ہیں... اور ہمیں حکم دیا کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہ کرو۔ اللہ کے رسول کی تعلیم کے مطابق ہم نے آپ کو وہی سلام کیا ہے، جو جنت والوں کا سلام ہے۔"
نجاشی اس بات کو جانتا تھا — اس لیے کہ یہ بات انجیل میں تھی۔
📜 حضرت جعفرؓ کی تاریخی تقریر
اس کے بعد حضرت جعفرؓ نے کہا:
"اللہ کے رسول نے ہمیں نماز کا حکم دیا ہے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔"
اس وقت حضرت عمرو بن عاصؓ نے نجاشی کو بھڑکانے کے لیے اس سے کہا:
"یہ لوگ ابن مریم یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ سے مختلف عقیدہ رکھتے ہیں — یہ انہیں اللہ کا بیٹا نہیں مانتے۔"
اس پر نجاشی نے پوچھا:
"تم لوگ عیسیٰ ابن مریم اور مریم علیہما السلام کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو؟"
حضرت جعفرؓ نے کہا:
"ان کے بارے میں ہم وہی کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے — یعنی کہ وہ روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، اور کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں۔"
پھر حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے بادشاہ کے دربار میں یہ تاریخی تقریر کی:
"اے بادشاہ! ہم ایک گمراہ قوم تھے — پتھروں کو پوجتے تھے، مردار جانوروں کا گوشت کھاتے تھے، بے حیائی کے کام کرتے تھے، رشتے داروں کے حقوق غصب کرتے تھے، پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے۔ ہمارا ہر طاقت ور آدمی کمزور کو دبا لیتا تھا۔ یہ تھی ہماری حالت۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ہم میں اسی طرح ایک رسول بھیجا، جیسا کہ ہم سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے جاتے رہے ہیں — یہ رسول ہم ہی میں سے ہیں۔ ہم ان کا حسب نسب، ان کی سچائی اور پاک دامنی اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا کہ ہم اسے ایک جانیں، اس کی عبادت کریں، اور یہ کہ اللہ کے سوا جن پتھروں اور بتوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں، ہم انہیں چھوڑ دیں۔
انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، نماز پڑھیں، زکوٰۃ دیں، روزے رکھیں۔ انہوں نے ہمیں سچ بولنے، امانت پوری کرنے، رشتے داروں کی خبر گیری کرنے، پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرنے، برائیوں اور خون بہانے سے بچنے اور بدکاری سے دور رہنے کا حکم دیا — اسی طرح گندی باتیں کرنے، یتیموں کا مال کھانے اور گھروں میں بیٹھنے والی عورتوں پر تہمت لگانے سے منع فرمایا۔
ہم نے ان کی تصدیق کی، ان پر ایمان لائے، اور جو تعلیمات وہ لے کر آئے، ان کی پیروی کی۔ بس اس بات پر ہماری قوم ہماری دشمن بن گئی، تاکہ ہمیں پھر پتھروں کی پوجا پر مجبور کر سکے۔ ان لوگوں نے ہم پر بڑے بڑے ظلم کیے — نئے سے نئے ظلم ڈھائے، ہمیں ہر طرح تنگ کیا۔ آخر کار جب ان کا ظلم حد سے بڑھ گیا، اور یہ ہمارے دین کے راستے میں رکاوٹ بن گئے، تو ہم آپ کی سرزمین کی طرف نکل پڑے — ہم نے دوسرے کے مقابلے میں آپ کو پسند کیا۔ ہم تو یہاں یہ امید لے کر آئے ہیں کہ آپ کے ملک میں ہم پر ظلم نہیں ہوگا۔"
💎 قرآن سن کر نجاشی کی آنکھوں میں آنسو
حضرت جعفرؓ کی تقریر سن کر نجاشی نے کہا:
"کیا آپ کے پاس اپنے نبی پر آنے والی وحی کا کچھ حصہ موجود ہے؟"
"ہاں! موجود ہے۔" جواب میں حضرت جعفرؓ بولے۔
"وہ مجھے پڑھ کر سنائیں۔" نجاشی بولا۔
اس پر انہوں نے قرآن کریم سے سورہ مریم کی چند ابتدائی آیات پڑھیں۔ آیات سن کر نجاشی اور اس کے درباریوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ نجاشی بولا:
"ہمیں کچھ اور آیات سناؤ۔"
اس پر حضرت جعفرؓ نے کچھ اور آیات سنائیں۔
تب نجاشی نے کہا:
"اللہ کی قسم! یہ تو وہی کلام ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے۔ خدا کی قسم، میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔"
اس طرح قریشی وفد ناکام لوٹا۔
🕋 معاہدے کا خاتمہ اور شعب ابی طالب سے آزادی
دوسری طرف مکہ کے مسلمان اسی طرح گھاٹی شعب ابی طالب میں مقیم تھے — وہ اس میں تین سال تک رہے۔ یہ تین سال بہت مصیبتوں کے سال تھے — اسی گھاٹی میں حضرت عبداللہ ابن عباسؓ پیدا ہوئے۔
ایسے میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ ﷺ کو اطلاع دی کہ قریش کے لکھے ہوئے معاہدے کو دیمک نے چاٹ لیا ہے — معاہدے کے الفاظ میں سوائے اللہ کے نام کے اور کچھ باقی نہیں بچا۔ آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے یہ بات ابو طالب کو بتائی — ابوطالب فوراً گئے اور قریش کے لوگوں سے کہا:
"تمہارے عہد نامے کو دیمک نے چاٹ لیا ہے، اور یہ خبر مجھے میرے بھتیجے نے دی ہے — اس معاہدے پر صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے۔ اگر بات اسی طرح ہے، جیسا کہ میرے بھتیجے نے بتایا ہے، تو معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر تم اب بھی باز نہ آئے، تو پھر سن لو — اللہ کی قسم! جب تک ہم میں آخری آدمی بھی باقی ہے، اس وقت تک ہم محمد ﷺ کو تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔"
یہ سن کر قریش نے کہا:
"ہمیں تمہاری بات منظور ہے… ہم معاہدے کو دیکھ لیتے ہیں۔"
انہوں نے معاہدہ منگوایا — اس کو واقعی دیمک چاٹ چکی تھی، صرف اللہ کا نام باقی تھا۔ اس طرح مشرک اس معاہدے سے باز آ گئے — یہ معاہدہ جس شخص نے لکھا تھا، اس کا ہاتھ شل ہو گیا تھا۔
معاہدے کا یہ حال دیکھنے کے بعد قریشی لوگ شعب ابی طالب پہنچے — انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں سے کہا:
"آپ اپنے اپنے گھروں میں آ جائیں — وہ معاہدہ اب ختم ہو گیا ہے۔"
اس طرح تین سال بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اپنے گھروں کو لوٹ آئے، اور ظلم کا یہ باب بند ہوا۔
📜 نجران کے عیسائیوں کا اسلام قبول کرنا
اس واقعے کے بعد نجران کا ایک وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا — یہ لوگ عیسائی تھے۔ نجران ان کی بستی کا نام تھا — یہ بستی یمن اور مکہ کے درمیان واقع تھی، اور مکے سے قریباً سات منزل دور تھی۔ اس وفد میں بیس آدمی تھے۔
نجران کے یہ لوگ آپ ﷺ سے باتیں کر چکے، تو آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی — قرآن کریم کی کچھ آیات پڑھ کر سنائیں۔ آیات سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے — ان کے دلوں نے اس کلام کی سچائی کی گواہی دے دی۔ چنانچہ فوراً ہی آپ ﷺ پر ایمان لے آئے — ان لوگوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی صفات اور خبریں پڑھ رکھی تھیں، اس لیے آپ کو دیکھ کر پہچان گئے کہ آپ ہی نبی آخرالزماں ہیں۔
اس کے بعد یہ لوگ اٹھ کر جانے لگے، تو ابوجہل اور چند دوسرے قریشی سرداروں نے انہیں روکا اور کہا:
"خدا تمہیں رسوا کرے — تمہیں بھیجا تو اس لیے گیا تھا کہ تم یہاں اس شخص کے بارے میں معلومات حاصل کر کے انہیں بتاؤ، مگر تم اس کے پاس بیٹھ کر اپنا دین ہی چھوڑ بیٹھے… تم سے زیادہ احمق اور بےعقل قافلہ ہم نے آج تک نہیں دیکھا۔"
اس پر نجران کے لوگوں نے کہا:
"تم لوگوں کو ہمارا سلام ہے — ہم سے تمہیں کیا واسطہ، تم اپنے کام سے کام رکھو، ہمیں اپنی مرضی سے کام کرنے دو۔"
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدۃ میں ان کی تعریف بیان فرمائی۔
🌟 ضمادؓ کا اسلام قبول کرنا
اسی طرح قبیلہ اَزد کے ایک شخص، جن کا نام ضماد تھا، مکہ آئے — یہ صاحب جھاڑ پھونک سے جنات کا اثر زائل کیا کرتے تھے۔ مکہ کے لوگوں کو انہوں نے یہ کہتے سنا کہ "محمد پر جن کا اثر ہے"۔ یہ سن کر انہوں نے کہا:
"اگر میں اس شخص کو دیکھ لوں، تو شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھ سے شفا عطا فرما دے۔"
اس کے بعد وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے — ان کا بیان ہے، میں نے آپ سے کہا:
"اے محمد! میں جھاڑ پھونک سے علاج کرتا ہوں — لوگ کہتے ہیں کہ آپ پر جنات کا اثر ہے۔ اگر بات یہی ہے، تو میں آپ کا علاج کر سکتا ہوں۔"
ان کی بات سن کر آپ ﷺ نے فرمایا:
"تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے — ہم اسی کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت فرماتا ہے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے اللہ تعالٰی گمراہی نصیب کرتا ہے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔"
انہوں نے آپ کی بات سن کر کہا:
"یہ کلمات میرے سامنے دوبارہ پڑھیے۔"
آپ نے کلمہ شہادت تین مرتبہ دہرایا۔
تب انہوں نے کہا:
"میں نے کاہنوں کے کلمات سنے ہیں، جادوگروں اور شاعروں کے کلمات بھی سنے ہیں — مگر آپ کے ان کلمات جیسے کلمات کبھی نہیں سنے۔ اپنا ہاتھ لایئے، میں اسلام قبول کرتا ہوں۔"
چنانچہ ضمادؓ نے اسی وقت آپ کے ہاتھ پر بیعت کی — آپ نے فرمایا:
"اپنی قوم کے لیے بھی بیعت کرتے ہو؟"
جواب میں انہوں نے کہا:
"ہاں! میں اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت کرتا ہوں۔"
اس طرح یہ صاحب، جو آپ پر سے جنات کا اثر اتارنے کی نیت سے آئے تھے، خود مسلمان ہو گئے۔
💔 عام الحزن — غم کا سال
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو دس سال کا عرصہ گذر چکا، تو آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا انتقال کر گئیں — اس سے چند دن پہلے ابوطالب فوت ہو گئے تھے۔
حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو حجون کے قبرستان میں دفن کیا گیا — آپ ﷺ خود ان کی قبر میں اترے۔ انتقال کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 65 سال تھی — اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نہیں ہوا تھا۔
اس سال کو سیرت نگاروں نے عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا — کیونکہ ہر موقعے پر ساتھ دینے والی دو ہستیاں اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں۔ آپ ہر وقت غمگین رہنے لگے — گھر سے بھی کم نکلتے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا شادی کے بعد پچیس سال تک آپ کے ساتھ رہیں — اتنی طویل مدت تک آپ کا اور ان کا ساتھ رہا تھا۔
🕯️ ابوطالب کی وفات اور قرآن کی آیت
ابوطالب جب بیمار ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کے لیے آئے — اس وقت قریش کے سردار بھی وہاں موجود تھے۔ آپ نے چچا سے فرمایا:
"چچا! لا الہ الا اللہ پڑھ لیجیے، تاکہ میں قیامت کے دن آپ کی شفاعت کر سکوں۔"
اس پر ابوطالب نے کہا:
"خدا کی قسم بھتیجے! اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میرے بعد لوگ تمہیں اور تمہارے خاندان والوں کو شرم اور عار دلائیں گے، اور قریش یہ کہیں گے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ کہہ دیا، تو میں یہ کلمہ پڑھ کر ضرور تمہارا دل ٹھنڈا کرتا۔ میں جانتا ہوں، تمہاری یہ کتنی خواہش ہے کہ میں یہ کلمہ پڑھ لوں… مگر میں اپنے بزرگوں کے دین پر مرتا ہوں۔"
اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
"آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ جسے اللہ چاہے، ہدایت دیتا ہے، اور ہدایت پانے والوں کا علم بھی اسی کو ہے۔" (سورۃ القصص: آیت 56)
اس طرح ابوطالب مرتے دم تک کافر ہی رہے — کفر پر ہی مرے۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:
"اے اللہ کے رسول! ابوطالب ہمیشہ آپ کی مدد اور حمایت کرتے رہے، کیا اس سے انہیں آخرت میں فائدہ پہنچے گا؟"
جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ہاں! مجھے ان کی قیامت کے دن کی حالت دکھائی گئی — میں نے انہیں جہنم کے اوپر والے حصے میں پایا، ورنہ وہ جہنم کے نچلے حصے میں ہوتے۔" (بخاری و مسلم)
ابوطالب کے مرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"خدا کی قسم! میں اس وقت تک آپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا، جب تک کہ مجھے اللہ تعالٰی ہی اس سے نہ روک دے۔"
اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی:
"پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں — اگرچہ وہ رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں — اس امر کے ظاہر ہو جانے کے بعد یہ لوگ دوزخی ہیں۔" (سورۃ التوبہ: آیت 113)
اس سے بھی ثابت ہوا کہ ابوطالب ایمان پر نہیں مرے۔
💍 حضرت سودہؓ اور حضرت عائشہؓ سے نکاح
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال رمضان کے مہینے میں ہوا تھا — ان کی وفات کے چند ماہ بعد آپ نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے شادی فرمائی۔
آپ سے پہلے ان کی شادی ان کے چچا کے بیٹے سکران رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی — حضرت سکران رضی اللہ عنہ دوسری ہجرت کے حکم کے وقت ان کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئے تھے، پھر مکہ واپس آ گئے تھے — اس کے کچھ عرصہ ہی بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
جب حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی عدت کا زمانہ پورا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا۔
اس نکاح سے پہلے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے ایک عجیب خواب دیکھا تھا — انہوں نے اپنے شوہر سکران رضی اللہ عنہ سے یہ خواب بیان کیا۔ خواب سن کر سکران رضی اللہ عنہ نے کہا:
"اگر تم نے واقعی یہ خواب دیکھا ہے، تو میں جلد ہی مر جاؤں گا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے نکاح فرمائیں گے۔"دوسری رات انہوں نے پھر خواب دیکھا کہ وہ لیٹی ہوئی ہے، اچانک چاند آسمان سے ٹوٹ کر ان کے پاس آ گیا — انہوں نے یہ خواب بھی اپنے شوہر کو سنایا، وہ یہ خواب سن کر بولے:
"اب شاید میں بہت جلد فوت ہو جاؤں گا۔"اور اسی دن حضرت سکران رضی اللہ عنہ انتقال کر گئے۔
شوال کے مہینے میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں