سبق نمبر 28: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۃ مریم کا خلاصہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق خیالاتِ فاسدہ کی اصلاح اس سورت کا بنیادی مقصد حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں عیسائیوں کے غلط عقائد کی تردید کرنا ہے۔ اس کے لیے تمہید کے طور پر حضرت یحییٰؑ کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ دونوں کی پیدائش عام انسانی قوانین سے ہٹ کر معجزانہ طور پر ہوئی۔ اگر حضرت یحییٰؑ (جو نہایت بوڑھے باپ اور بانجھ ماں کے ہاں پیدا ہوئے) اللہ کے بیٹے نہیں ہیں، تو حضرت عیسیٰؑ (جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے) کیوں کر اللہ کے بیٹے ہو سکتے ہیں؟ جبکہ انہوں نے خود پکار کر کہا: "اِنِّی عَبْدُ اللّٰہِ" (میں اللہ کا بندہ ہوں)۔
رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: ذکرِ پیدائشِ یحییٰ علیہ السلام حضرت زکریاؑ نے بڑھاپے اور اہلیہ کے بانجھ ہونے کے باوجود اللہ سے وارث کی دعا کی۔ اللہ نے قانونِ قدرت سے ہٹ کر انہیں "یحییٰؑ" کی خوشخبری دی۔ حضرت زکریاؑ کے مطالبے پر اللہ نے تین دن تک (بغیر بیماری کے) لوگوں سے کلام نہ کر پانے کی علامت مقرر فرمائی۔ حضرت یحییٰؑ خیر و برکت کا پیکر بن کر تشریف لائے۔
رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: واقعۂ ولادتِ عیسیٰؑ اور خلاصۂ تعلیمات حضرت مریمؑ کے پاس جبریلؑ کا انسانی صورت میں آنا، پھونک مارنا اور حضرت عیسیٰؑ کی معجزانہ ولادت کے تمام مراحل یہاں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ جب قوم نے طعنہ دیا تو پالنے میں موجود بچے (عیسیٰؑ) نے کلام کر کے اپنی نبوت، اللہ کی بندگی، نماز، زکوٰۃ اور والدین سے حسنِ سلوک کی تعلیمات بیان فرما کر اپنی والدہ کی براءت کر دی۔
رکوع نمبر 3 اور 4 کا خلاصہ: بعض انبیاء کی خصوصیات کا ذکر مختلف انبیاء کی فضیلتیں بیان کی گئیں تاکہ یہ واضح ہو کہ عظمت کے باوجود وہ سب بشر ہی تھے:
حضرت ابراہیمؑ: جنہوں نے باطل سے کبھی سمجھوتہ نہ کیا۔
حضرت موسیٰؑ: کلیم اللہ ہونے کا شرف پایا اور ان کی دعا سے حضرت ہارونؑ نبی بنے۔
حضرت اسماعیلؑ: وعدے کے سچے اور اللہ کے پسندیدہ بندے تھے۔
حضرت ادریسؑ: جنہیں اللہ نے بلند مقام (آسمانوں) پر اٹھایا۔ ان تمام عظمتوں کے باوجود کسی نے انہیں خدا کا بیٹا نہیں مانا، تو پھر عیسیٰؑ کے بارے میں یہ عقیدہ کیوں؟
رکوع نمبر 5 کا خلاصہ: یومِ مجازاۃ کو نہ سمجھنے کا نتیجہ منکرینِ قیامت مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو ناممکن سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں۔ قیامت کا دن حسرت کا دن ہوگا جب حق واضح ہو جائے گا، مگر اس وقت کا ماننا سودمند نہ ہوگا۔
رکوع نمبر 6 کا خلاصہ: اللہ کی اولاد ہونے کا کفریہ عقیدہ اللہ کی اولاد ماننا (عیسائیوں کا عیسیٰؑ کو، یہودیوں کا عزیرؑ کو اور مشرکین کا فرشتوں کو) اتنا سنگین جرم ہے کہ قریب ہے کہ اس کی ہیبت سے آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ "بادشاہ" ہے اور کائنات اس کی "ملکیت" ہے؛ اور مالک و مملوک میں کبھی باپ بیٹے کا رشتہ نہیں ہو سکتا۔
آج الحمدللہ سورة مریم کی 06 رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة طہ شروع کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں