سبق نمبر 25: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۃ نحل کا خلاصہ (بقیہ حصہ)
رکوع نمبر 9 کا خلاصہ: کلامِ الٰہی انسانوں کی زبان سے کیسے ظاہر ہو سکتا ہے؟ کفار کے اس شبہ کا ازالہ مثالوں سے کیا گیا ہے کہ جس طرح گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ کا نکلنا، اور ایک چھوٹی سی مکھی کا شہد جیسا لطیف نظام بنانا عقلِ انسانی کو حیران کر دیتا ہے مگر اس کا وجود برحق ہے؛ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام کسی انسان کی زبان سے ظاہر ہونا عقلی طور پر ناممکن نہیں۔
رکوع نمبر 10 کا خلاصہ: ضرورتِ توحید کی مثالیں اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں واضح فرمائی ہیں:
جس طرح ایک انسان اپنے غلام کو رزق میں اپنے برابر نہیں کرتا، تو یہ عاجز مخلوق خالق کے برابر کیسے ہو سکتی ہے؟
جس طرح ایک گونگا اور بے بس شخص ایک فصیح اللسان شخص کے برابر نہیں ہو سکتا، ویسے ہی بت اور معبودانِ باطلہ اللہ کے برابر نہیں ہو سکتے۔
رکوع نمبر 11 کا خلاصہ: دلائلِ توحید انسانی زندگی کے مادی پہلوؤں سے توحید ثابت کی جا رہی ہے: ماؤں کے پیٹ سے نکالنا، حواس (آنکھ، کان، دل) کی عطا، فضا میں پرندوں کا اڑنا، رہائشی مکانات کا سکون، جانوروں کی کھالوں اور پہاڑوں کی پناہ گاہوں کا استعمال—یہ سب صرف اللہ کی عنایت ہے۔ تو پھر اس کی توحید کا اقرار کیوں نہیں؟
رکوع نمبر 12 کا خلاصہ: قیامت کی ہولناکی دنیا کی عارضی عیش و عشرت ایک دن ختم ہو جائے گی۔ اس دن نہ توبہ قبول ہوگی اور نہ کوئی عذر سنا جائے گا۔ جس زندگی پر آج یہ لوگ نازاں ہیں، کل اسی پر لعنت بھیجیں گے۔ اس لیے توبہ کا وقت یہی ہے۔
رکوع نمبر 13 کا خلاصہ: قرآنِ کریم کا اصلاحی نظام قرآن کے اصلاحی پروگرام کے چھ بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں:
عدل و انصاف۔
رشتہ داروں سے حسنِ سلوک۔
برائی، بے حیائی اور ظلم سے اجتناب۔
وعدے کی پابندی۔
زمین میں فساد سے گریز۔
دنیاوی لالچ میں اللہ کا عہد نہ توڑنا۔
رکوع نمبر 14 کا خلاصہ: قرآنِ کریم پر ایک اعتراض جب اصلاحی ضرورت کے تحت احکامات میں تبدیلی (نسخ) ہوتی ہے تو کفار اعتراض کرتے ہیں۔ انہیں سمجھایا گیا کہ جس طرح ایک ماہر ڈاکٹر مریض کی بدلتی حالت کے مطابق نسخہ بدلتا ہے، ویسے ہی اللہ تعالیٰ انسانی ضرورت کے مطابق احکام بدلتا ہے۔ ان کا مقصد صرف اعتراض ہے، سمجھنا نہیں۔
رکوع نمبر 15 کا خلاصہ: منکرینِ توحید کا جھگڑا قیامت کے دن منکرین یہ عذر کریں گے کہ ہمارے پاس پیغام نہیں آیا، حالانکہ رسول آ چکے تھے اور حرام و حلال واضح ہو چکا تھا۔ اس دن ان کا جھگڑا ان کے کسی کام نہ آئے گا اور وہ اللہ کی لعنت کے مستحق ٹھہریں گے۔
رکوع نمبر 16 کا خلاصہ: اتباعِ ملتِ ابراہیمی نجات کا راستہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ اختیار کرنے میں ہے، جو اللہ کے شاکر اور محبوب بندے تھے۔ ان کی تعلیمات کو پوری دنیا میں پھیلانے کا حکم دیا گیا ہے۔ دعوت و تبلیغ کے لیے حکمت، موعظت (نصیحت) اور مجادلت (بحث) کو حالات کے مطابق استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
آج الحمدللہ سورة نحل کی 16 رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة اسراء شروع کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں