♥️
سبق نمبر 25
خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۃ نحل کا خلاصہ
رکوع نمبر 9: کلامِ الٰہی انسان کی زبان سے
شبہ: خدا کا کلام انسان سے؟ مثال: گوبر/خون سے صاف دودھ، مکھی کا شہد/چھتہ—نظام چھوٹی مکھی کا۔ انکار نہ، تو ﷺ سے کلام بھی ممکن۔
رکوع نمبر 10: ضرورتِ توحید
غلام کو رزق برابر نہ، گونگا/فصیح برابر نہ—مخلوقات اللہ کے برابر کیسے؟
رکوع نمبر 11: دلائلِ توحید
ماں کے پیٹ سے نکالا، آنکھ/کان/ناک/دل، پرندے تھامے، گھر/کھالیں/پہاڑ/زین—اللہ کی عطا، توحید کیوں نہ؟
رکوع نمبر 12: قیامت کی ہولناکی
عیش ختم، توبہ نہ، اسی زندگی پر لعنت—اب توبہ کرو۔
رکوع نمبر 13: قرآن کا اصلاحی نظام
عدل و انصاف
قریبی رشتوں سے حسنِ سلوک
برائی/ظلم سے بچاؤ
وعدے پورا
فساد نہ مچاؤ
اللہ کا وعدہ نہ توڑو
زندگی سنور جائے گی۔
رکوع نمبر 14: قرآن پر اعتراض
تبدیلی پر "خود ساختہ/مجوسی سے سیکھا"—ڈاکٹر نسخہ بدلتا، اللہ احکام تبدیل—اعتراض کا مقصد سمجھ نہ۔
رکوع نمبر 15: منکرین کا جھگڑا
قیامت پر "پیغام نہ آیا"—رسول آئے، تکذیب کی، لعنت—حرام/حلال واضح، جھگڑا بے فائدہ۔
رکوع نمبر 16: اتباعِ ملتِ ابراہیمی
شاکر بنو: ابراہیم علیہ السلام اسوہ (خلیل)—تعلیمات عالم بھر پھیلاؤ۔ حکمت/موعظت/مجادلت جہاں مناسب۔
آج الحمدللہ سورة نحل کی 16 رکوعات مکمل، کل ان شاء اللہ سورة اسراء۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں