♥️ سبق نمبر 23 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


 ♥️

سبق نمبر 23

خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۃ ابراہیم کا خلاصہ

مقصدِ بعثتِ انبیاء علیہمُ السلام
انبیاء کا مقصد: کفر کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لانا۔

رکوع 1-2: بعثت کا مشترک مقصد
آدم سے ﷺ تک ایک ہی: ظلمات سے نور کی طرف (مثال: موسیٰ و محمد ﷺ)۔

رکوع 3-4: کفر سرغنوں کی بیزاری
قیامت پر سرغنے ماتحتوں سے براءت، ابلیس: "اپنے آپ کو ملامت کرو"۔ خائل/مضل عذابِ الیم۔

رکوع 5: محسنِ حقیقی کی اطاعت
اللہ نے نعمتیں دیں—اس کے غلام بنو، دنیاوی احسان سے زیادہ۔

رکوع 6: نمونۂ ابراہیمی
ابراہیم علیہ السلام اُسوۂ حسنہ، خانہ کعبہ درسگاہ—مرکز سے تعلق نہ ٹوٹے۔

رکوع 7: منکرین کا انجام
عذاب دیکھ مہلت مانگیں—"لبیک کہیں گے"۔ زنجیریں، گندھک، آگ—أَعَاذَنَا اللّٰهُ مِنْهَا۔

سورۃ حجر کا خلاصہ

مظاہرۂ صفاتِ خداوندی
دعوت کے ساتھ حِلم، عفو—مہلت، پھر رسی کھینچی جائے۔

رکوع 1: حفاظتِ قرآن
عذاب کی مدت معین، قرآن کی حفاظت ہماری—مخالفین نہ بگاڑ سکیں۔

رکوع 2: روحانی غذا
جسمانی/روحانی غذا کا اہتمام، شیاطین روکے—پہلے خبریں چراتے۔

رکوع 3: شیطان کی دشمنی
خلاف ورزی=شیطانی بہکاوا، ازلی دشمن—قسمیں کھائیں، بچاؤ۔

رکوع 4: قرآن کے عاملین
عمل کرنے والے شیطان سے بچے، جنت کے وارث—نعمتیں ملیں گی۔

رکوع 5-6: تذکیرِ ایامِ اللہ
لوط، اصحابِ حجر جھٹلائے—پتھر، آگ سے ہلاک۔ عمل کرو، معرضین سے منہ موڑو—اللہ کافی۔

آج الحمدللہ سورة ابراہیم و حجر مکمل، کل ان شاء اللہ سورۃ نحل۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں