سبق نمبر 22: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۂ رعد کا خلاصہ
بعض لوگوں کی شقاوت آفتابِ نبوت کے طلوع ہونے کے بعد بھی بعض لوگوں کی عقلوں پر بدبختی کے ایسے پردے پڑے ہوئے ہیں کہ وہ نورِ ایمانی سے اپنے قلوب کو منور نہیں کرتے بلکہ کفر و ضلالت کے اندھیروں میں گھرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ ان کی ازلی شقاوت کی علامت ہے۔
رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: معاندین کا حق بات سے انکار اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو جامع کتاب نازل ہوئی وہ امت کی ضروریات کے عین مطابق تھی، لیکن معاندین اسے تسلیم نہیں کرتے۔ یہ لوگ اللہ کی تدبیر کے صرف اسی حصے کو مانتے ہیں جو نظر آتا ہو، اور جو اوجھل ہو اس کے منکر ہیں۔ اسی لیے یہ کتابِ الٰہی کی ضرورت کا بھی انکار کرتے ہیں۔
رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: اللہ تعالیٰ کی ذات معاندین سے بے پروا ہے اللہ کا علم ازلی ہے اور وہ ہر بات سے واقف ہے۔ اگر ان کا ارادہ اصلاح کا نہیں ہے تو اللہ کو بھی ان کی پروا نہیں۔ یہ لوگ اللہ سے کسی بھلائی کی امید نہ رکھیں، کیونکہ اگر ان پر عذاب نازل ہوا تو اس کے ذمہ دار یہ خود ہوں گے۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
رکوع نمبر 3 کا خلاصہ: زندگی کے دو متضاد رخ علم زندگی کا بابِ فضیلت ہے اور جہل زندگی کو مکدر کر دیتا ہے۔ جس طرح عالم اور جاہل، بینا (دیکھنے والا) اور نابینا برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح ان کے اعمال کی جزا و سزا بھی برابر نہیں ہو سکتی۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوگا۔
رکوع نمبر 4 کا خلاصہ: قساوتِ قلبی کا اعلیٰ نمونہ مخالفین کا یہ مطالبہ کہ کوئی "نشانی" نازل ہو، محض لغو ہے۔ ایمان والوں کے دل تو اسی قرآن سے مطمئن ہوتے ہیں۔ منکرین اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اگر ان کے سامنے پہاڑ چلا دیے جائیں یا مردے باتیں کرنے لگیں، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
رکوع نمبر 5 کا خلاصہ: انجامِ انکار و تکذیب حضور ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، مگر انہوں نے صبر کیا۔ اللہ نے منکرین کو مہلت دینے کے بعد دنیاوی عذاب میں مبتلا کیا اور آخرت میں دوگنا عذاب ان کا مقدر ہوگا۔ آپ بھی صبر کیجیے، آپ کے مخالفین کا انجام بھی یہی ہوگا۔
رکوع نمبر 6 کا خلاصہ: نبی کا کام صرف دعوت ہے نبی بھی بشری تقاضے رکھنے والا انسان ہوتا ہے۔ اگر ان لوگوں کو آپ ﷺ کے اہل و عیال پر اعتراض ہے تو کیا سابقہ انبیاء کے بیوی بچے نہ تھے؟ ان کا مقصد صرف اعتراض ہے، حق سمجھنا نہیں۔ آپ اپنا کام (دعوت و تبلیغ) جاری رکھیں، حساب کتاب اور جزا و سزا اللہ کا کام ہے۔
آج الحمدللہ سورة رعد کی 06 رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة ابراہیم شروع کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں