♥️
سبق نمبر 22
خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۂ رعد کا خلاصہ
بعض لوگوں کی شقاوت
نبوت کے بعد بھی شقاوت کے پردے، نورِ ایمانی سے محروم، کفر میں گھرے—ازلی بدبختی۔
رکوع نمبر 1: معاندین کا انکار
جامعِ جمال و جلال قرآن امت کے مطابق، مگر معاندین منکر۔ زمین آسمان تسلیم، اوجھل حصہ نہ—کتاب کی ضرورت منکر۔
رکوع نمبر 2: اللہ بے پروا
اللہ کا علم حاوی، اصلاح نہ چاہیں تو پروا نہ۔ بھلائی کی امید نہ، عذاب کے ذمہ دار خود—ظلم نہ کرتا۔
رکوع نمبر 3: زندگی کے متضاد رخ
علم فضیلت، جہل لذتوں کا مکدر۔ بینا مرضی تابع، نابینا رحم پر—عالم/جاہل، اعمال کی جزا میں فرق۔
رکوع نمبر 4: قساوتِ قلبی
نشانی طلب (لغو)—قرآن سے ایمان والے مطمئن۔ پہاڑ چلے، مردے بولیں تو بھی نہ مانیں۔
رکوع نمبر 5: انجامِ انکار
رسولوں کا مذاق، صبر—عذاب دنیا و آخرت۔ ﷺ صبر کریں، مخالفین کا یہی انجام۔
رکوع نمبر 6: نبی کا کام دعوت
نبی بشری، بیوی بچے اعتراض—پہلے انبیاء کے بھی تھے۔ دعوت کرو، حساب ہمارا۔
آج الحمدللہ سورة رعد کی 06 رکوعات مکمل، کل ان شاء اللہ سورة ابراہیم۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں