🌹 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع سبق نمبر 21


سبق نمبر 21: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۂ یوسف کا خلاصہ

حضور ﷺ کے مستقبل کی پیشین گوئی جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے سگے بھائیوں نے ستایا، ان کے بھائیوں نے اپنی غلطی تسلیم کی اور حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں معاف فرمایا؛ بالکل اسی طرح حضور ﷺ کو بھی اپنوں کی ایذائیں، وطن سے ہجرت اور پھر فتحِ مکہ کے موقع پر رشتہ داروں کی ندامت اور آپ ﷺ کی طرف سے عفو و درگزر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ سورت ایک طرح سے مستقبل کی تصویر کشی ہے۔

رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: حضرت یوسف علیہ السلام کا عہدۂ نبوت سے سرفراز ہونا حضرت یوسف علیہ السلام نے کم عمری میں خواب دیکھا کہ شمس و قمر اور گیارہ ستارے انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ ان کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام نے انہیں یہ خواب بھائیوں سے چھپانے کی تاکید کی اور تعبیر بتائی کہ اللہ انہیں عہدۂ نبوت سے سرفراز فرمائے گا۔

رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: برادرانِ یوسف کا حسد سوتیلے بھائیوں نے والد کی محبت میں یوسف علیہ السلام کو حائل سمجھ کر انہیں راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔ سیر و تفریح کے بہانے لے جا کر انہیں کنوئیں میں ڈال دیا اور گھر آ کر جھوٹی کہانی سنائی کہ بھیڑیا کھا گیا۔ ادھر ایک قافلے نے انہیں نکال کر مصر میں فروخت کر دیا۔

رکوع نمبر 3 کا خلاصہ: امانتِ یوسف علیہ السلام کا امتحان مصر پہنچ کر شاہِ مصر (عزیزِ مصر) نے انہیں خریدا۔ جوانی میں آپ کو زلیخا کی طرف سے کڑے امتحان کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ علیہ السلام نے عصمتِ نبوت کی حفاظت کی اور شیطانی حربوں کو ٹھکرا دیا۔ الزام لگنے پر اللہ نے ایک بچے کی گواہی کے ذریعے آپ کی براءت ثابت کر دی۔

رکوع نمبر 4 کا خلاصہ: مصلحت اندیشی یا جانبداری باوجودیکہ براءت ہو چکی تھی، لیکن سیاسی مصلحت یا اپنوں کی طرف داری کی خاطر حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل بھیج دیا گیا۔ جہاں زلیخا کے ساتھ ساتھ مصر کی دیگر عورتیں بھی آپ کے حسن و کردار سے متاثر تھیں۔

رکوع نمبر 5 کا خلاصہ: جیل میں فراستِ یوسف کا امتحان جیل میں دو قیدیوں نے اپنے خواب بیان کیے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے تعبیر بتانے سے پہلے انہیں توحید کی دعوت دی اور پھر ان کے خوابوں کی درست تعبیر بتا دی۔ یہ آپ کی فراست کا پہلا مظاہرہ تھا۔

رکوع نمبر 6 کا خلاصہ: ایک اور امتحان کئی سال بعد شاہِ مصر نے ایک پیچیدہ خواب دیکھا جس کی تعبیر دربار کے عالم نہ بتا سکے۔ قیدی (جو اب رہا ہو چکا تھا) کو یوسف علیہ السلام یاد آئے۔ آپ نے نہ صرف تعبیر بتائی بلکہ قحط سے بچنے کی تدبیر بھی سمجھائی۔

رکوع نمبر 7 کا خلاصہ: امتحانِ امانت و فراست کے بعد سرفرازی شاہِ مصر نے آپ کو طلب کیا۔ آپ نے پہلے اپنی بے گناہی ثابت کروائی، مجرمین نے اعتراف کیا، اور پھر آپ باعزت طریقے سے رہا ہو کر وزیرِ خزانہ اور بعد ازاں مصر کے حکمران بنے۔

رکوع نمبر 8 کا خلاصہ: مصر میں قحط سالی اور برادرانِ یوسف کی پہلی آمد قحط کے دوران کنعان سے بھائی غلہ لینے مصر آئے۔ آپ نے انہیں پہچان لیا مگر انہوں نے نہ پہچانا۔ آپ نے ان کی پونجی بھی چھپا کر واپس کر دی اور شرط رکھی کہ اگلی بار اپنے چھوٹے بھائی (بنیامین) کو بھی ساتھ لانا۔

رکوع نمبر 9 کا خلاصہ: برادرانِ یوسف کی دوبارہ آمد بھائی بنیامین کو ساتھ لائے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک حکمتِ عملی کے تحت بنیامین کو اپنے پاس روک لیا۔ اس واقعے سے حضرت یعقوب علیہ السلام کے غم میں مزید اضافہ ہو گیا اور کثرتِ گریہ سے ان کی بینائی چلی گئی۔

رکوع نمبر 10 کا خلاصہ: برادرانِ یوسف کی سہ بارہ آمد تیسری بار بھائیوں نے آ کر اپنی مفلسی کی دہائی دی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی حقیقت ظاہر کر دی۔ بھائیوں نے معافی مانگی۔ آپ نے اپنا قمیص دے کر بھیجا کہ اسے والد کی آنکھوں پر لگائیں اور سب خاندان سمیت مصر آ جائیں۔

رکوع نمبر 11 کا خلاصہ: بنی اسرائیل کا مصر میں ورود قمیص کی برکت سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹ آئی۔ پورا خاندان مصر پہنچا، جہاں والدین اور گیارہ بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو (تعظیمی) سجدہ کیا اور بچپن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔

رکوع نمبر 12 کا خلاصہ: عقلمندوں کے لیے سامانِ عبرت اس واقعے کے اہم اسباق:

  1. مصیبت پر ثابت قدمی۔

  2. عصمت و کردار کی حفاظت۔

  3. ہر حال میں دعوتِ توحید۔

  4. فراستِ ایمانی سے انصاف۔

  5. دشمنوں کے لیے فراخ دلی اور عفو و درگزر۔

آج الحمدللہ سورة یوسف کی 12 رکوعات کا خلاصہ مکمل ایک ساتھ بیان ہوا، کل ان شاء اللہ سورة رعد شروع کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں