🌹 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع سبق نمبر 21


 🌹

سبق نمبر 21

خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۂ یوسف کا خلاصہ

حضورِ ﷺ کے مستقبل کی پیشین گوئی
یوسف علیہ السلام کی طرح ﷺ کو رشتہ داروں سے ایذاء، مکہ سے ہجرت، مدینہ میں سکون، فتحِ مکہ پر شرمندگی، معافی—سب ملتا جلتا۔

رکوع نمبر 1: یوسف کا عہدۂ نبوت

کم عمری میں خواب: شمس، قمر، ستارے سجدہ۔ والد نے بھائیوں سے چھپایا، نبوت کی بشارت دی۔

رکوع نمبر 2: برادران کا حسد

والد کی محبت کھٹکی۔ جنگل لے گئے، کنویں میں ڈالا، " بھیڑیا کھا گیا" کہا۔ قافلہ نکال کر مصر لے گیا۔

رکوع نمبر 3: امانت کا امتحان

حسن کے چرچے، غلام بیچا، شاہ خریدا۔ زلیخا کا فتنہ—عصمت بچائی، براءت کا معجزاتی انتظام۔

رکوع نمبر 4: مصلحت اندیشی

براءت کے باوجود جیل۔ زنانِ مصر کا زخم، دعوتِ زلیخا۔

رکوع نمبر 5: جیل میں فراست

دو قیدیوں کے خواب: توحید کی دعوت، تعبیر بتائی۔

رکوع نمبر 6: ایک اور امتحان

شاہ کا خواب، پادری ناکام۔ زندہ قیدی نے یوسف یاد، تعبیر، خوشخبری، تدبیر بتائی۔

رکوع نمبر 7: سرفرازی

دربار طلب، براءت شرط۔ مجرمین اقرار، وزیرِ خزانہ، پھر شاہ بنا۔

رکوع نمبر 8: قحط، برادران کی پہلی آمد

قحط، بھائی غلہ لینے آئے۔ پہچانا، غلہ+پونجی واپس، "بھائی لاؤ" (بنیامین)۔

رکوع نمبر 9: دوبارہ آمد

بنیامین سمیت، روکا۔ حقیقت آشکار، یعقوب کے لیے غم۔

رکوع نمبر 10: سہ بارہ آمد

صدقہ طلب، "میں یوسف ہوں"۔ غلطی تسلیم، قمیص بینائی کے لیے، مصر آؤ۔

رکوع نمبر 11: بنی اسرائیل کا ورود

قمیص سے بینائی، خاندان مصر، سجدۂ تعظیم—خواب پورا (والدین، بھائی)۔

رکوع نمبر 12: سامانِ عبرت

عقلمندوں کے لیے: ثابت قدمی، عصمت، توحید، نیک سیرت، انصاف، قدردانی، عفو۔ فلاسفر جاہل۔

آج الحمدللہ سورة یوسف کی 12 رکوعات مکمل، کل ان شاء اللہ سورة رعد۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں