سبق نمبر 19: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورہ یونس کا خلاصہ
دعوتِ قرآن و نتائجِ دعوت سورۂ توبہ کے بعد قرآنِ کریم کی جتنی بھی سورتیں ہیں ان سب میں عموماً ایک ایک مضمون پر بحث کی گئی ہے۔ چنانچہ سورۂ یونس کا موضوع دعوتُ الی القرآن ہے، جس میں اس کے نتائج اور شواہد پر روشنی ڈالی جائے گی۔
رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: قرآن کے سحر اور صاحبِ قرآن کے ساحر ہونے کی تردید اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کے لیے قرآنِ کریم نازل فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے قرآن سنانے والا بھی انسان ہی بھیجا۔ مشرکین اس کتابِ ہدایت سے نفع اٹھانے کے بجائے الٹا اسے "جادو" اور صاحبِ قرآن ﷺ کو "جادوگر" ٹھہرا رہے ہیں، حالانکہ یہ اللہ کا کلام ہے جس کی توحید پر کثیر دلائل موجود ہیں۔
رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: مطلبی لوگ کفار و مشرکین قرآن کی دعوت سے اعراض کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی مصیبت آتی ہے تو اللہ کی بارگاہ میں دستِ توبہ دراز کرتے ہیں۔ ادھر مصیبت ٹلی، تو پھر اپنی سابقہ روش پر لوٹ آتے ہیں، گویا کبھی خدا کو پکارا ہی نہیں تھا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر حال میں اللہ ہی کو پکارا جائے۔
رکوع نمبر 3 کا خلاصہ: دنیا کی زندگی ناپائیدار ہے دنیا کی زندگی ایک ڈھلتی چھاؤں اور لہلہاتی کھیتی کی مانند ہے جو اچانک امرِ الٰہی سے نیست و نابود ہو جاتی ہے۔ اس لیے دنیا پر فریفتہ ہو کر اپنی آخرت کو برباد نہ کرو۔
رکوع نمبر 4 کا خلاصہ: قرآن کا چیلنج مشرکین اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خالق اور رازق صرف اللہ ہے، مگر پھر بھی احکاماتِ الٰہیہ سے جی چراتے ہیں اور قرآن کو (نعوذ باللہ) گھڑا ہوا کہتے ہیں۔ انہیں چیلنج کیا گیا کہ اگر یہ انسانی کلام ہے تو تم بھی اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ۔ اس پر سب کی بولتیاں بند ہو گئیں۔
رکوع نمبر 5 کا خلاصہ: نتیجۂ تکذیب و مخالفت حضورِ اکرم ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر یہ لوگ حق سننے سے بہرے اور دیکھنے سے اندھے بنے رہیں تو آپ ان سے براءت کا اعلان کر دیں۔ یہ لوگ درحقیقت عقل سے عاری حیوان ہیں جو انسان کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔
رکوع نمبر 6 کا خلاصہ: منکرین کا انجام جو لوگ آج قرآن کے بتائے ہوئے علاج سے اپنی روحانی بیماریاں دور نہیں کرتے، کل قیامت کے دن وہ دنیا بھر کے خزانے دے کر بھی عذاب سے نجات چاہیں گے، لیکن انہیں نجات نہیں ملے گی اور وہ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔
رکوع نمبر 7 کا خلاصہ: اولیاء اللہ کو تسلی اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے ہر عمل اور تلاوت سے بخوبی واقف ہے۔ اولیاء اللہ کے لیے بشارت ہے کہ نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ کوئی غم۔ مخالفین کی زبان درازی سے رنجیدہ نہ ہوں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
رکوع نمبر 8 و 9 کا خلاصہ: تذکیر بِایامِ اللہ حضرت نوحؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کے قصے سنا کر متنبہ کیا جا رہا ہے کہ سابقہ امتوں نے جب تکذیب کی تو وہ عذاب سے نہ بچ سکیں۔ فرعون کی طرح تم بھی غرق کیے جا سکتے ہو۔
رکوع نمبر 10 کا خلاصہ: قرآنِ کریم کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھو قرآن کو شک کی نگاہ سے دیکھنا عذابِ الٰہی کو دعوت دینا ہے۔ یاد رکھو! جب عذاب آ جائے تو ٹالا نہیں جاتا، سوائے قومِ یونس کے (جن کی توبہ قبول ہوئی)۔ لہٰذا تکذیب کر کے خود کو مستحقِ عذاب نہ بناؤ۔
رکوع نمبر 11 کا خلاصہ: لوگوں کے شک کی وجہ سے قرآن کو چھوڑنا درست نہیں حضور ﷺ اعلان فرما دیں کہ لوگوں کی تشکیک کی وجہ سے آپ دعوتِ قرآن کو ترک نہیں کر سکتے۔ جو عمل کرے گا وہ نفع پائے گا اور جو ٹھکرائے گا وہ اپنا انجام خود دیکھ لے۔
آج الحمدللہ سورة یونس کی 11 رکوعات کا خلاصہ مکمل ایک ساتھ بیان ہوا، کل ان شاء اللہ سورة ہود شروع کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں