سبق نمبر 16: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۃ انفال کا خلاصہ
رکوع نمبر 6 کا خلاصہ: قانونِ جنگ کی دفعہ نمبر 8 اور 9
قانونِ جنگ کی دفعہ نمبر 8: ذکرِ الٰہی سے رطبِ اللسان ہونا، یعنی اللہ کے ذکر سے زبان تر و تازہ رہتی ہے۔ غور فرمایے کہ عینِ قتال کی حالت میں بھی ذکر کی ترغیب دی جا رہی ہے؛ اس سے ذکرِ الٰہی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
دفعہ نمبر 9 (ترکِ منازعت): یعنی آپس میں کسی قسم کے جھگڑے اور فساد کو پیدا مت ہونے دیجئے، ورنہ تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی، تمہارے اندر بزدلی پیدا ہو جائے گی اور پھر تم سے اللہ کی مدد و نصرت اٹھالی جائے گی۔
رکوع نمبر 7 کا خلاصہ: مسلمانوں کی کامیابی کا راز اس رکوع میں قانونِ جنگ کی دفعات کے بیان سے ہٹ کر مسلمانوں کی کامیابی کا راز بیان کیا گیا ہے: منافقین اس دین کی صداقت پر اعتماد نہیں رکھتے اور کفار کا اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی ٹھیک نہیں۔ لہٰذا نہ منافقین تم پر غالب آ سکتے ہیں اور نہ ہی کفار — بلکہ تم ہی غالب آؤ گے اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔
رکوع نمبر 8 کا خلاصہ: قانونِ جنگ کی دفعات نمبر 10 اور 11 جملہِ معترضہ کے بعد قانونِ جنگ کی بقیہ دفعات بیان کی جا رہی ہیں۔
دفعہ نمبر 10 (آلاتِ جنگ کی تیاری): میدانِ جنگ میں جانے سے قبل اپنے آلاتِ جنگ اچھی طرح تیار رکھو اور جتنا اسلحہ جمع کرنا ممکن ہو، کر لو؛ چاہے وہ قدیم ہوں یا جدید، یعنی جدید زمانے کے تقاضوں کے مطابق تیاریاں کرو Bra۔
دفعہ نمبر 11 (اسلام مصالحت کے لیے ہر وقت تیار ہے): مسلمان مقابلے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں، مگر اگر دشمن صلح کا ہاتھ بڑھائے تو تم بھی اعراض نہ کرو؛ صلح کر لو، بشرطِ یہ کہ اس کے پیچھے کوئی سازش نہ ہو۔ اگر سازش ہو تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی کفایت کرے گا۔
رکوع نمبر 9 کا خلاصہ: قانونِ جنگ کی دفعہ نمبر 12
دفعہ نمبر 12 (تحریضِ علی القتال): اس رکوع میں حضورِ اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو جہاد و قتال کی ترغیب دیں اور انہیں اعلائے کلمۃِ اللہ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کی دعوت دیں۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت شاملِ حال رہے گی؛ یہاں تک کہ اگر ایک کا مقابلہ ایک سے ہو تو وہ نہ گھبراۓ اور اللہ کے بھروسے سے لڑ پڑے۔ بعد میں اس حکم میں تخفیف بھی آتی ہے کہ اگر مقابلہ دو سے ہو تو حدودِ شریعت کے اندر رہ کر فیصلہ کیا جائے — ورنہ زبردستی نہیں؛ البتہ جو ہمت کرے اللہ کی نصرت اس کے ساتھ ہو گی۔
رکوع نمبر 10 کا خلاصہ: قانونِ جنگ کی دفعہ نمبر 13 مسلمان تین جماعتوں میں تقسیم ہیں:
مرکزِ اسلام میں رہنے والے۔
مرکزِ اسلام میں ہجرت کر کے بسنے والے۔
مرکزِ اسلام سے دور رہنے والے جن کا مرکز سے کوئی تعلق نہیں۔
سیاسی مقاصد میں صرف پہلی اور دوسری جماعت متحد ہوں گی۔ اگر کسی غیر مسلم جماعت کا مرکزِ اسلام کے ساتھ حفاظتی معاہدہ ہو اور وہ جماعت دشمن کے حملے کی زد میں آئے تو مرکزِ اسلام اسے مدد فراہم کرے گا؛ مگر اگر تیسری جماعت (جو مرکز سے دور ہے اور اس کا کوئی تعلق نہیں) پر حملہ ہو اور اس دشمن کا مرکزِ اسلام کے ساتھ معاہدہ ہو تو مرکزِ اسلام کے لیے اس تیسری جماعت کی امداد جائز نہیں۔ خلاصہ یہ کہ سیاسی مقاصد میں پہلی اور دوسری جماعت مرکزِ اتحاد کا حصہ ہوں گی، تیسری جماعت نہیں ہوگی۔
آج الحمدللہ سورة انفال کی 10 رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة توبہ شروع کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں