🌹
سبق نمبر 16
خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۃ انفال کا خلاصہ
رکوع نمبر 6: قانونِ جنگ کی دفعہ نمبر 8 اور 9
دفعہ نمبر 8: ذکرِ الٰہی سے رطبِ اللسان
اللہ کے ذکر سے زبان تر و تازہ رہتی ہے۔ عینِ قتال کی حالت میں بھی ذکر کی ترغیب دی جا رہی ہے، جو اس کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
دفعہ نمبر 9: ترکِ منازعت
آپس میں جھگڑے اور فساد پیدا نہ ہونے دیں، ورنہ بزدلی آئے گی اور اللہ کی مدد چھن جائے گی۔
رکوع نمبر 7: مسلمانوں کی کامیابی کا راز
منافقین دین کی صداقت پر اعتماد نہیں رکھتے اور کفار کا اللہ سے تعلق ٹھیک نہیں۔ نہ منافقین غالب آ سکتے ہیں اور نہ کفار—مسلمان ہی غالب آئیں گے۔
رکوع نمبر 8: قانونِ جنگ کی دفعات نمبر 10 اور 11
دفعہ نمبر 10: آلاتِ جنگ کی تیاری
میدانِ جنگ سے پہلے آلاتِ جنگ تیار رکھیں، جتنا ممکن ہو اسلحہ جمع کریں—قدیم ہو یا جدید۔
دفعہ نمبر 11: اسلام مصالحت کے لیے تیار
مسلمان مقابلے کے لیے تیار رہیں، مگر دشمن صلح کا ہاتھ بڑھائے تو قبول کریں (اگر سازش نہ ہو)۔ اللہ مسلمانوں کی کفایت کرے گا۔
رکوع نمبر 9: قانونِ جنگ کی دفعہ نمبر 12
دفعہ نمبر 12: تحریضِ علی القتال
لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیں، اعلائے کلمۃِ اللہ کے لیے جان نذرانہ کریں۔ اللہ کی نصرت شاملِ حال—ایک کا مقابلہ ایک سے ہو تو نہ گھبرائیں۔ بعد میں تخفیف: دو سے زیادہ ہوں تو شریعت کے اندر فیصلہ کریں۔
رکوع نمبر 10: قانونِ جنگ کی دفعہ نمبر 13
مسلمان تین جماعتوں میں تقسیم:
مرکزِ اسلام میں رہنے والے
ہجرت کر کے بسنے والے
مرکز سے دور رہنے والے (کوئی تعلق نہیں)
سیاسی مقاصد میں پہلی اور دوسری متحد ہوں گی۔ حفاظتی معاہدے کی صورت میں مدد دیں، مگر تیسری جماعت کی نہیں اگر دشمن کا معاہدہ ہو۔
آج الحمدللہ سورة انفال کی 10 رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة توبہ شروع کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں