🌹 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌹
سلسلہ مسائل فقہیہ
احکام النکاح
پوسٹ نمبر 02
عاقل بالغ لڑکا یا لڑکی کو کسی رشتہ پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
بعض علاقوں میں عاقل بالغ لڑکے اور لڑکی کو کسی کے ساتھ نکاح کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، حالانکہ ان کی رضامندی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان سے پوچھا جاتا ہے۔ یاد رکھیں، اولیاء کی جانب سے بالغ لڑکے یا لڑکی کو ان کی خواہش اور رضا کا خیال کیے بغیر کسی رشتہ پر مجبور کرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔ اولیاء کا اپنی رائے پر اصرار اور اس پر مجبور کرنے کے لیے طرح طرح کی دھمکیاں دینا اسلام کے دیئے ہوئے حقوق سے محروم کرنے کی ناروا کوشش ہے، اور اس طرح کے رشتے کامیاب نظر نہیں آتے۔ دوسری طرف، لڑکے یا لڑکی کو بھی اولیاء کی اجازت اور رضامندی سے نکاح کرنا چاہیے تاکہ رشتہ میں برکت ہو۔
📚 حوالہ جات
الدر المنتقی فی شرح الملتقی 1/490
الدر المختار مع رد المحتار 4/118
الفتاوی الہندیہ 1/287
المسائل المهمہ 2/159
مرتب: ✍
مفتی عرفان اللہ درویش ہنگو عفی عنہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں