میاں بیوی کا ایک دوسرے کو خون دینے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

🌹 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌹


احکام النکاح

پوسٹ نمبر 01

میاں بیوی کا ایک دوسرے کو خون دینے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

اگر شوہر یا بیوی کو خون چڑھانے کی ضرورت ہو، اور دونوں کا بلڈ گروپ (Blood Group) بھی ایک ایسا ہو کہ ایک دوسرے کو چڑھایا جاسکتا ہے، تو بیوی کا خون شوہر کو یا شوہر کا خون بیوی کو چڑھانے سے رشتہ زوجیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نکاح بدستور قائم رہتا ہے، کیونکہ شریعت اسلام نے محرمیت کو نسب، مصاہرت اور رضاعت کے ساتھ خاص کیا ہے اور ان تینوں میں سے کوئی بھی یہاں نہیں پایا جاتا۔

📚 حوالہ جات

  • کتاب الفقہ علی المذاہب الأربعة 4/63

  • الدر المختار مع رد المحتار 4/100

  • الدر المنتقی علی ہامش مجمع الآنہر 1/475

  • جواہر الفقہ 2/40

  • فتاوی رحیمیہ 10/176

  • فتاوی محمودیہ 18/331

  • المسائل المهمہ 1/107

مرتب: ✍
مفتی عرفان اللہ درویش ہنگو عفی عنہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں