آج کا محاورہ : آم کے آم گٹھلیوں کے دام


 🥭💰 تلفظ 💰🥭

"آم کے آم گٹھلیوں کے دام"
(Ām kē ām gaṭhliyōṅ kē dām) 🗣️🎙️

🥭💰 معانی و مفہوم 💰🥭
یہ محاورہ اس صورت حال کے لیے استعمال ہوتا ہے جب:

  • کسی کام یا سودے سے دوہرا یا کئی گنا فائدہ ہو۔ 🤑

  • اصل چیز بھی مل جائے اور اس کی گٹھلیاں بھی پیسوں میں بک جائیں۔

  • ہر طرح سے نفع ہی نفع، کوئی نقصان نہ ہو۔

🔹 سادہ الفاظ میں: ہر صورت میں فائدہ ہی فائدہ، دوہرا یا تہرا نفع۔ 🍯

🥭💰 موقع و محل 💰🥭
یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:

  • کوئی سودا یا کام دونوں طرف سے فائدہ مند ہو۔

  • کسی کی چالاکی یا قسمت سے کئی گنا نفع ہو جائے۔

  • طنزیہ یا خوشی کے انداز میں کسی کی کامیابی کا ذکر ہو۔

مثال:
"اس نے پرانا فون بیچا تو اچھے پیسے ملے، پھر نیا فون سستا پڑ گیا۔۔۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام!" 📱💸
یا
"شادی میں کھانا بھی کھایا، تحفہ بھی ملا، اور رشتہ داروں سے پیسے بھی۔۔۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام!" 🎉

🥭💰 تاریخ و واقعہ 💰🥭
یہ محاورہ دیہی ہندوستان سے نکلا ہے جہاں آم بہت مشہور پھل ہے۔ آم کھانے سے مزہ ملتا ہے اور گٹھلیاں بھی بیچ کر پیسے ملتے تھے (پہلے گٹھلیوں سے تیل نکالا جاتا تھا)۔ اسی سے یہ محاورہ بنا کہ ایک چیز سے دوہرا فائدہ۔ اردو-ہندی مزاح اور روزمرہ گفتگو میں یہ بہت مقبول ہے، خاص طور پر چالاک یا خوش قسمت لوگوں کے لیے! 🕰️📜

🥭💰 پُر لطف قصہ 💰🥭
گاؤں میں ایک شخص نے اپنے پرانے آم کے درخت بیچ دیے۔
خریدار نے درخت کاٹ کر لکڑی بیچی، آم بھی کھائے۔
اصل مالک نے پیسے لے کر نئے درخت لگائے جو جلد ہی پھل دینے لگے۔
گاؤں والوں نے کہا: "ارے، یہ تو آم کے آم گٹھلیوں کے دام ہو گیا!" 😄
وہ شخص ہنس کر بولا: "بھئی، اب تو گٹھلیاں بھی بیچ کر نئے درخت لگاؤں گا!" 😂🌳

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں