"آفتاب لبِ بام ہونا"
(Āftāb lab-e bām honā) 🗣️🎙️
🌅🕰️ معانی و مفہوم 🕰️🌅
یہ محاورہ اس شخص یا چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو:
اپنی زندگی، طاقت یا عہدے کے آخری مراحل میں ہو۔ 🌇
قریبِ ختم یا غروب ہونے والا ہو، جیسے سورج چھت کے کنارے پر پہنچ کر غروب ہونے والا ہو۔
نہایت بوڑھا، کمزور یا چراغِ سحری کی طرح جلتا بجھتا ہو۔
🔹 سادہ الفاظ میں: عمر یا طاقت کا آخری حصہ، بوڑھاپا یا خاتمہ قریب ہونا۔ 👴💡
🌅🕰️ موقع و محل 🕰️🌅
یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:
کسی بوڑھے شخص کی کمزوری یا آخری عمر کا ذکر ہو۔
کوئی عہدہ، سلطنت یا چیز اپنے زوال کے قریب ہو۔
شاعرانہ یا اداس انداز میں زندگی کی عارضی طبیعت بیان کی جائے۔
مثال:
"چچا جی اب آفتاب لبِ بام ہو گئے ہیں، اب زیادہ چل پھر نہیں سکتے۔" 👴
یا
"یہ کمپنی اب آفتاب لبِ بام ہے، جلد ہی بند ہو جائے گی۔" 🏭🌇
🌅🕰️ تاریخ و واقعہ 🕰️🌅
یہ محاورہ فارسی-اردو شاعری اور ادب سے آیا ہے۔ "لبِ بام" کا مطلب چھت کا کنارہ ہے، جہاں سورج غروب سے پہلے نظر آتا ہے۔ فارسی غزلوں اور اردو شاعری میں یہ بوڑھاپے، زوال اور زندگی کے آخری لمحات کی علامت ہے۔ مرزا غالب اور دیگر شعرا نے اس طرح کی علامتیں بہت استعمال کیں۔ عوامی بول چال میں بھی یہ بوڑھے لوگوں یا ختم ہونے والی چیزوں کے لیے پیار بھرے مگر اداس انداز میں بولا جاتا ہے۔ 🕰️📜
🌅🕰️ پُر لطف قصہ 🕰️🌅
گاؤں میں ایک بزرگ تھے، بہت عمر رسیدہ۔ بچے ان سے پوچھتے: "دادا جی، آپ کتنے سال کے ہو؟"
دادا جی مسکراتے ہوئے بولتے: "بیٹا، میں تو آفتاب لبِ بام ہو گیا ہوں، اب غروب ہونے والا ہے!" 🌇
ایک دن بچوں نے دادا کو سرپرائز دیا اور کیک لایا۔ دادا ہنس کر بولے: "ارے، ابھی تو تھوڑی دیر اور رہوں گا، چراغ سحری کی طرح جلتا رہوں گا!" 🥺❤️
بچے گلے لگ گئے اور بولے: "دادا جی، آپ کا سورج کبھی نہ ڈوبے!" 😍

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں