آج کا محاورہ : آفت کا / کی پرکالہ


 🌪️😈 تلفظ 😈🌪️

"آفت کا پرکالہ"
(Āft kā parkāla) 🗣️🎙️

🌪️😈 معانی و مفہوم 😈🌪️
یہ محاورہ اس شخص (یا کنایتاً معشوق) کے لیے استعمال ہوتا ہے جو:

  • نہایت شوخ، شریر اور ہنگامہ آرائی کرنے والا ہو۔ 😜

  • جہاں جائے، شور شرابہ، فساد اور تباہی مچا دے۔

  • ظاہری طور پر آفت لگے لیکن دل موہ لینے والا ہو (خاص طور پر عاشقانہ سیاق میں)۔

🔹 سادہ الفاظ میں: بڑا شرارتی، فسادی، ہنگامہ خیز، مگر دلکش اور پیارا بھی۔ ❤️‍🔥

🌪️😈 موقع و محل 😈🌪️
یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:

  • کوئی بچہ یا شخص بہت شرارتیں کرے اور گھر میں ہنگامہ مچا دے۔

  • طنزیہ انداز میں کسی کی شوخی اور فساد پر تبصرہ کیا جائے۔

  • عاشقانہ گفتگو میں معشوق کی شوخی اور دلکشی کو پیار بھرے انداز میں بیان کیا جائے۔

مثال:
"یہ لڑکا تو آفت کا پرکالہ ہے، جہاں جاتا ہے تباہی مچا دیتا ہے!" 😅
یا (رومانوی انداز میں):
"وہ آفت کا پرکالہ ہے، جہاں دیکھوں دل دھڑک جاتا ہے!" 💕

🌪️😈 تاریخ و واقعہ 😈🌪️
یہ محاورہ دیہی پنجاب، اتر پردیش اور اردو بولنے والے علاقوں میں بہت مشہور ہے۔ "پرکالہ" کا مطلب ہے بڑا ٹکڑا یا بھاری چیز، یعنی ایسی آفت جو بہت بڑی اور نمایاں ہو۔ وقت کے ساتھ یہ لفظ خاص طور پر شوخ، شرارتی اور ہنگامہ خیز شخص (یا معشوق) کے لیے استعمال ہونے لگا۔ اردو شاعری اور عوامی مزاح میں یہ بچوں، شرارتی دوستوں اور معشوقوں کے لیے بہت پیار سے بولا جاتا ہے۔ 🕰️📜

🌪️😈 پُر لطف قصہ 😈🌪️
گاؤں میں ایک لڑکی تھی، بہت شوخ اور شرارتی۔ جہاں جاتی، لڑکوں کے دل دھڑکنے لگتے، گھر والے پریشان۔
ایک بوڑھا دادا ہر وقت کہتے: "ارے، یہ تو آفت کا پرکالہ ہے!"
ایک دن لڑکی دادا کے پاس آئی اور بولی: "دادا جی، میں آفت کا پرکالہ ہوں تو آپ کیوں مسکراتے ہو؟"
دادا ہنس کر بولے: "بیٹی، آفت بھی اگر ایسی پیاری ہو تو روز آئے!" 😍
پوری بستی ہنس پڑی اور دادا کی بات مشہور ہو گئی! 😂

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں