🌹 قسط نمبر 6 — المُصْطَفَىٰ ﷺ
(اللہ کا چُنا ہوا، منتخب کردہ، برگزیدہ رسول)
الحمد للہ ربّ العالمین، والصلاة والسلام على سید المرسلین، محمدٍ المصطفىٰ، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔
🌟 اسمِ مبارک: المُصْطَفَىٰ ﷺ
درجہ: قرآن کے مفہوم + صحیح احادیث و اقوالِ ائمہ سے ثابت
لغوی معنی: چُن لیا گیا، خالص کر کے منتخب کیا گیا
رومن: Al-Mustafa
🔹 لغوی تحقیق
اصطفىٰ — مادہ: ص ف و
اصل معنی:
-
کسی چیز کو خالص کرنا
-
میل کچیل سے پاک کر کے چن لینا
-
بہترین کو بہترین کے لیے منتخب کرنا
المصطفىٰ کا مطلب ہوا:
👉 وہ ہستی جسے اللہ نے مکمل علم، اخلاق، عصمت اور نور کے ساتھ منتخب فرمایا ہو۔
اہلِ لغت (لسان العرب) کے مطابق:
الاصطفاءُ اختيارٌ مع صفاءٍ وكمالٍ
یعنی انتخاب ایسا جو کمال اور پاکیزگی کے ساتھ ہو۔
🔹 قرآنِ مجید میں مفہومِ مصطفیٰ
اگرچہ لفظ “المصطفىٰ” بطور اسمِ خاص نبی ﷺ کے لیے قرآن میں نہیں آیا،
لیکن اصطفاء (انتخابِ الٰہی) کا مفہوم کئی مقامات پر صراحت سے موجود ہے۔
1. سورۃ الحج (22:75)
اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ
اللہ فرشتوں میں سے بھی رسول چنتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔
مفسرین فرماتے ہیں:
انسانوں میں سب سے اعلیٰ، کامل اور آخری انتخاب — محمد ﷺ ہیں۔
2. سورۃ آل عمران (3:33)
إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ…
یہ آیت بتاتی ہے کہ:
اصطفاء ایک الٰہی سلسلہ ہے،
اور اس سلسلے کی کمال و انتہا نبی اکرم ﷺ کی ذات ہے۔
🔹 احادیثِ مبارکہ میں “مصطفیٰ ﷺ”
1— نسبِ مصطفیٰ ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ،
وَاصْطَفَىٰ قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ،
وَاصْطَفَىٰ مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ،
وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ"
— صحیح مسلم
یہ حدیث صراحت سے بتاتی ہے کہ:
نبی ﷺ نسبًا بھی مصطفیٰ ہیں، اور ذاتًا بھی۔
2— خود آپ ﷺ کا اعلانِ انتخاب
آپ ﷺ نے فرمایا:
"أنا خيارٌ من خيارٍ من خيار"
— مسند احمد
یعنی:
میں بہترینوں میں سے بہترین میں سے بہترین ہوں۔
🔹 مصطفیٰ ﷺ — کن پہلوؤں سے؟
⭐ 1. مصطفیٰ فی النبوۃ
تمام انبیاء میں سے آخری، کامل اور جامع نبی۔
⭐ 2. مصطفیٰ فی الخُلُق
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
اخلاق میں ایسا انتخاب کہ خود قرآن گواہی دے۔
⭐ 3. مصطفیٰ فی الشریعۃ
ایسی شریعت جو قیامت تک کے لیے منتخب کی گئی۔
⭐ 4. مصطفیٰ فی الامت
ایسی امت جو خیر الامم قرار پائی — کیونکہ اس کا نبی مصطفیٰ ہے۔
🔹 ائمۂ امت کی آراء
امام قسطلانی:
مصطفیٰ وہ ہے جسے اللہ نے تمام ممکنہ خوبیوں کے لیے چن لیا۔
ابن حجر عسقلانی:
اصطفاء کا کامل مصداق صرف محمد ﷺ ہیں۔
امام رازی:
محمد ﷺ کا انتخاب محض زمانے کے لیے نہیں، پوری انسانیت کے لیے ہے۔
🔹 محمد ﷺ، احمد ﷺ اور مصطفیٰ ﷺ — باہمی ربط
-
محمد ﷺ → مخلوق کی طرف سے حمد
-
احمد ﷺ → خالق کی کامل حمد
-
مصطفیٰ ﷺ → اللہ کی طرف سے انتخاب
گویا:
حمد → کمال → انتخاب
🔹 روحانی و تربیتی پیغام
-
مصطفیٰ ﷺ ہونا یہ سکھاتا ہے کہ اللہ چن لیتا ہے — لیکن پاکیزگی کے ساتھ
-
جو مصطفیٰ ﷺ کا امتی ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ خود بھی انتخاب کے لائق بنے
-
ایمان، اخلاق، عمل — سب میں صفائی اختیار کرے
🔹 ہماری زندگی کے لیے سبق
-
کیا میرا کردار مصطفیٰ ﷺ کے انتخاب کی لاج رکھتا ہے؟
-
کیا میرا عمل مجھے اللہ کے انتخاب کے قریب لے جاتا ہے؟
-
کیا میں محض نام کا امتی ہوں یا واقعی مصطفوی ہوں؟
🌙 دعائیہ اختتام
اللهم صلِّ وسلِّم وبارك على نبيّك المصطفىٰ،
واجعلنا من المختارين لاتباعه،
والمصطفَين لنصر سنّته،
واحشرنا تحت لوائه يوم القيامة۔
آمین یا رب العالمین۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں