✨ آج کی بات ✨
💬 "احساس کیا ہے؟ دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا۔"
یہ جملہ صرف الفاظ کا خوبصورت امتزاج نہیں — یہ رحم، انسانیت، اور ایمان کا وہ دروازہ ہے جہاں سے دل دوسروں کے دکھ میں شریک ہو جاتا ہے۔ 🌿
دنیا میں بہت سے لوگ "سمجھدار" ہیں، لیکن احساس والا کم ہی ہوتا ہے۔
کیونکہ سمجھ دماغ کی ہوتی ہے، اور احساس دل کا نام ہے۔
اور جو شخص دوسروں کا دکھ دیکھ کر اپنا دل دے سکے، وہی سچا انسان، سچا مومن، اور سچا بھائی ہے۔
🌟 اسلام میں احساس = رحم کا دوسرا نام
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
(سورۃ الانبیاء: 107)
"اور ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَٰنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ"
(ترمذی: 1924، صحیح)
"رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے — زمین والوں پر رحم کرو، تاکہ آسمان والا تم پر رحم کرے۔"
یہی وہ جذبہ ہے جسے ہم "احساس" کہتے ہیں —
وہ دل کی وہ کیفیت جو کسی بھوکے کے پیٹ کی گرج کو اپنی گرج سمجھے،
کسی ماں کے آنسو کو اپنے بچے کا آنسو سمجھے،
اور کسی بے گھر کی رات کو اپنی بے چینی سمجھے۔ 💖
📜 تاریخ کی گواہی: دوسروں کا احساس
ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت نے ایک حاکم کے پاس آ کر شکایت کی کہ لوگ اس کی بات نہیں سنتے۔
اُس حاکم نے فوراً اپنے ہاتھ میں اُس کا ہاتھ تھاما، اور مسجد میں داخل ہو کر فرمایا:
"یہ بزرگ خاتون ہے — تمہاری جنت اس کے قدموں تلے ہے!"
حاکمِ وقت نے صرف اس کی بات نہیں سنی —
بلکہ اس کی بے عزتی کو اپنی بے عزتی سمجھا۔
اسی طرح، جب کسی اللہ والے کو ایک ننھے بچے کے دودھ چھُڑنے کی تکلیف کا علم ہوا،
تو اُنہوں نے فرمایا:
"اللہ کی قسم! اللہ کو بھی اپنے بندے کی تکلیف سے اُس سے زیادہ درد ہوتا ہے!"
یہی ہے سچا احساس — جہاں دوسرے کا دکھ، اپنا دکھ بن جاتا ہے۔
💭 دنیا کی کمی: سمجھدار ہیں، احساس والے نہیں
آج کے دور میں:
— ہم سوشل میڈیا پر غریبوں کی تصویریں شیئر کرتے ہیں،
لیکن اپنے محلے کے بھوکے کو روٹی نہیں دیتے،
— ہم کہیں گے: "دل ٹوٹ گیا!"
لیکن کسی روتے ہوئے دوست کا ہاتھ تھامنے نہیں جاتے،
— ہم "کیسے ہو؟" پوچھتے ہیں،
لیکن "تمہاری کیا مدد چاہیے؟" کبھی نہیں پوچھتے۔
لیکن جو شخص اصلی احساس رکھتا ہے،
وہ بولے بغیر سمجھ جاتا ہے،
دیکھے بغیر محسوس کر لیتا ہے،
اور اپنا وقت، وسائل، اور دل دے کر کہتا ہے:
"تم اکیلے نہیں ہو — میں تمہارے ساتھ ہوں۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ مشہور ہے کہ ایک رات ایک خیمے سے بچوں کے رونے کی آواز سنی،
تو پوچھا: "کیوں رو رہے ہیں؟"
ماں نے کہا: "میں انہیں بھوک سے سُلا رہی ہوں۔"
عمر رضی اللہ عنہ فوراً بیت المال سے کھانا لے آئے،
یہی ہے احساس کا مقام — جہاں دوسروں کی تکلیف، اپنی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
💡 عملی رہنمائی: احساس کیسے پیدا کریں؟
- اپنے آپ سے پوچھیں:
"اگر یہ تکلیف میری ہوتی، تو میں کیا چاہتا؟" - چھوٹی مدد کو بڑی سمجھیں:
ایک گلاس پانی، ایک مسکراہٹ، ایک دعا — یہ سب احساس کے ذرائع ہیں۔ - غیبت اور تنقید سے بچیں:
جو شخص دوسروں کی غلطیوں پر رحم کرے، اللہ اُس کی غلطیوں پر رحم کرتا ہے۔ - دعا کریں:
"اللّٰهم اجْعَلْ فِي قَلْبِي رَحْمَةً، وَفِي عَيْنِي دَمْعًا، وَفِي نَفْسِي احْتِمَالًا لِضَعْفِ إِخْوَانِي."
"اے اللہ! میرے دل میں رحم، میری آنکھ میں آنسو، اور میرے نفس میں اپنے بھائیوں کی کمزوری کو برداشت کرنے کی طاقت رکھ دے۔"
🌅 خاتمہ: احساس ہی وہ نور ہے جو دل کو زندہ کرتا ہے
دنیا میں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں،
لیکن کم ہی محسوس کرتے ہیں۔
بہت سے لوگ بولتے ہیں،
لیکن کم ہی دل سے سنتے ہیں۔
لیکن جو شخص دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھے،
وہی اللہ کے نزدیک عزیز ہے،
کیونکہ رحم کرنے والا اللہ کا ہوتا ہے۔
🌟 "احساس صرف لفظ نہیں — یہ عمل ہے، یہ عبادت ہے، یہ ایمان ہے۔
جو دل دوسروں کے دکھ میں پگھل جائے،
وہی دل اللہ کی رحمت میں ڈوب جاتا ہے۔"
🤲 "اے اللہ! ہمارے دلوں کو سختی سے بچا،
ہمیں وہ احساس عطا فرما جو ہمیں دوسروں کے دکھ میں شریک کر دے،
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
احساس ہی وہ نعمت ہے جس نے انبیاء کو انبیاء بنا دیا!"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں