جینے والوں کی قدر کیجئے ۔ ۔ ۔


 آج کی بات

💬 "جینے والوں کی قدر کیجیے — مرجانے والے اپنی تعریف نہیں سُن سکتے۔"

یہ جملہ دل کو چھو لینے والا ہے، کیونکہ یہ ہمیں موجودہ لمحے کی قدر اور زندہ رشتوں کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔ ہم اکثر اس غلطی میں مبتلا رہتے ہیں کہ لوگوں کی قدر ان کے جینے کے بعد کرتے ہیں — جب تعریف کے الفاظ صرف قبروں تک پہنچتے ہیں، اور وہی شخص جس کے لیے یہ الفاظ تھے، انہیں سُن نہیں سکتا۔ 🌸

کیا ہم نے کبھی سوچا:
— کیا ہم اپنی ماں کو اس وقت بھی "بہترین ماں" کہتے ہیں جب وہ ہمارے ساتھ ہوتی ہے؟
— کیا ہم اپنے دوست کی تعریف اس کے سامنے کرتے ہیں، یا صرف اس کی غیر موجودگی میں؟
— کیا ہم اپنے استاد، بھائی، یا بہن کو ابھی بتاتے ہیں کہ وہ ہماری زندگی میں کتنے اہم ہیں؟

اگر جواب "نہیں" ہے، تو ہم وقت کی سب سے بڑی دولت — موجودہ لمحہ — ضائع کر رہے ہیں۔


📖 اسلامی تناظر: قدر دانی = نیکی کا ایک روپ

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا﴾
(سورۃ الاحقاف: 15)
"اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ احسان کرنے کی وصیت کی ہے۔"

اور "احسان" صرف خدمت نہیں — یہ محبت، احترام، اور قدر کا مظہر ہے۔

کسی اللہ والے نے فرمایا:

"لَا تُؤَخِّرْ عَمَلَ يَوْمِكَ إِلَى غَدِكَ"

"اپنے آج کے کام کو کل پر مت ٹالو۔"

اور اگر یہ کام کسی زندہ شخص کی قدر کرنا ہے، تو پھر اسے فوری کرنا چاہیے — کیونکہ کل کا کوئی ضامن نہیں۔

ایک اللہ والے نے اپنے مرحوم والد کو یاد کرکے رونے والے شخص پوچھا :

"کیا آپ نے اپنے والد کی زندگی میں ان کی تعریف کی تھی؟"
انہوں نے جواب دیا:
"نہیں… اور آج یہی میری سب سے بڑی پچھتاوا ہے۔"

یہ الفاظ دل کو چیر دیتے ہیں — کیونکہ تعریف کا وقت صرف وہی ہوتا ہے جب وہ شخص زندہ ہو۔


📜 تاریخ کا سبق: وفات کے بعد کی تعریف بے فائدہ ہے

ایک بار لوگ جنازے کے پیچھے جا رہے تھے،
تو چند افراد نے مرحوم کی بہت تعریف کی۔
کسی نے پوچھا:

"کیا تم نے یہ باتیں اس کے زندہ رہتے ہوئے کہی تھیں؟"
لوگوں نے کہا: "نہیں!"
پوچھنے والے نے کہا:
"پھر تم نے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا — کیونکہ وہ اب سن ہی نہیں سکتا۔"

یہ بات ہمیں سکھاتی ہے کہ تعریف کا مقصد صرف تاریخ رقم کرنا نہیں — بلکہ دل کو خوش کرنا ہے۔
اور جب دل نہیں رہتا، تو تعریف صرف ہوا کے ساتھ اُڑ جاتی ہے۔ 💨


💭 نفسیات کی روشنی: قدر کا اثر

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ "appreciation" (قدر دانی) انسان کی:

  • خود اعتمادی بڑھاتی ہے،
  • تعلقات کو مضبوط کرتی ہے،
  • اور زندگی میں اطمینان پیدا کرتی ہے۔

لیکن ہم اکثر ناقد بن جاتے ہیں،
اور قادر بننا بھول جاتے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ "وہ یہ غلطی کرتا ہے"،
لیکن نہیں دیکھتے کہ "وہ ہمیشہ ہمارا ساتھ دیتا ہے"۔

اگر ہم آج ہی اپنے والد کو کہہ دیں:

"ابّا، آپ کی محنت ہماری زندگی کی بنیاد ہے۔"
تو شاید وہ آج رات سوتے وقت مسکراہٹ کے ساتھ چلے جائیں۔

اگر ہم اپنی بہن کو کہہ دیں:

"تم میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو۔"
تو شاید وہ اپنی تمام چھوٹی چھوٹی تکالیف بھول جائے۔

لیکن اگر ہم یہ سب کل کہیں،
تو شاید کل کو وہ ہمارے سامنے ہی نہ ہو۔


💡 عملی رہنمائی: آج ہی قدر کا اظہار کریں

  1. فون کریں:
    اس شخص کو کال کریں جس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
    صرف اتنا کہیں: "تمہاری یاد آ گئی — تم بہت اچھے ہو!"
  2. تعریف سامنے کریں:
    جو شخص آپ کے لیے اچھا کام کرے، اسے اسی وقت کہہ دیں:
    "تم نے آج میری جان بچا لی!"
  3. والدین کی زندگی میں ہی ان کی عزت کریں:
    ان کے سامنے ان کی تعریف کریں — قبرستان میں نہیں۔
  4. دعا کریں:

    "اللّٰهم احْفَظْ لِي مَنْ أُحِبُّ، وَاجْعَلْنِي سَبَبًا فِي فَرْحَتِهِمْ، وَلَا تَجْعَلْنِي مِمَّنْ يَنْدَمُ عَلَىٰ تَفْرِيطِ الْوَقْتِ مَعَهُمْ."
    "اے اللہ! مجھ سے جن کو میں پیار کرتا ہوں، ان کی حفاظت فرما، مجھے ان کی خوشی کا سبب بنا، اور مجھے ان کے ساتھ وقت ضائع کرنے پر پچھتائے والوں میں نہ بنائے۔"


🌅 خاتمہ: قبروں تک تعریف لے کر جانے سے بہتر ہے کہ دلوں تک پہنچا دیں

دنیا میں کوئی بھی "کل" کا یقین نہیں کر سکتا۔
آج جو آپ کے ساتھ ہے، کل شاید نہ ہو۔
اور جو آج آپ کے الفاظ سن سکتا ہے، کل شاید صرف آپ کے الفاظ کی یاد لے کر چلا جائے۔

🌟 "مر جانے والے کے لیے ہزار تعریفیں بھی بے فائدہ ہیں،
لیکن جینے والے کے لیے ایک مسکراہٹ بھی بہت ہے۔
قبروں پر پھول ڈالنا اچھا ہے،
لیکن زندہ دلوں کو خوش کرنا اللہ کو زیادہ پیارا ہے۔"

🤲 "اے اللہ! ہمیں وہ ہمت دے جو ہم آج ہی اپنے پیاروں کی قدر کریں،
ہمارے الفاظ کو ان کے دلوں تک پہنچانے کی توفیق دے،
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
مرجانے والے اپنی تعریف نہیں سُن سکتے — صرف جینے والے سُن سکتے ہیں۔"


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں