✨ آج کی بات ✨
💬 "جو ٹھوکر رب تک لے جائے، وہ سزا نہیں ہوتی۔"
یہ جملہ صرف ایک روحانی تسلی نہیں — یہ ایمان، صبر، اور الهی حکمت کا گہرا سچ ہے۔ دنیا میں ہر مصیبت کو سزا سمجھ لیا جاتا ہے، ہر ناکامی کو شکست، ہر دکھ کو عذاب۔
لیکن اسلام کہتا ہے: کچھ ٹھوکریں سزا ہوتی ہیں، اور کچھ رحمت ہوتی ہیں۔
اور جو ٹھوکر آپ کو اللہ کی طرف گھسیٹ لے،
آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے نم کر دے،
اور دل کو فана فی اللہ کی منزل کی طرف لے جائے —
وہ ٹھوکر سزا نہیں، بلکہ سندِ رحمت ہے۔ 🌧️🕊️
🌟 مصیبت: سزا یا سبق؟
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾
(سورۃ البقرہ: 155)
"ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں میں کمی کے ذریعے آزمائیں گے — اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سناؤ!"
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر مصیبت امتحان ہے — نہ سزا۔
اور جو شخص اس امتحان میں صبر کرے، اللہ کی طرف رجوع کرے،
تو اللہ اس کے لیے ایمان میں اضافہ، گناہوں کی معافی، اور درجات میں بلندی رکھتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ"
(صحیح بخاری: 5641)
"مومن کو جو بھی تکلیف، تھکاوٹ، فکر، غم، یا دُکھ پہنچتا ہے — حتیٰ کہ کانٹا بھی جو اسے چبھے — اللہ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"
یعنی ہر ٹھوکر، اگر ایمان کی طرف لے جائے، تو وہ سزا نہیں — بلکہ کفارہ ہے۔
📜 تاریخ کی روشنی: ایوب علیہ السلام کی کہانی
حضرت ایوب علیہ السلام کو ایمان کے عظیم ترین امتحان میں ڈالا گیا:
— بیماری نے جسم کو جکڑ لیا،
— مال و دولت غائب ہو گیا،
— بیٹے بیٹیاں چلے گئے،
— اور لوگوں نے کہنا شروع کر دیا: "یہ گناہگار ہے!"
لیکن کیا حضرت ایوبؑ نے اللہ سے شکوہ کیا؟
نہیں!
انہوں نے کہا:
﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
(سورۃ الانبیاء: 83)
"میرے رب! مجھے تکلیف پہنچی ہے، اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہے۔"
یہ دعا نہیں — یہ ایمان کا اعلان تھا۔
اور نتیجہ؟
اللہ نے نہ صرف ان کی صحت، دولت، اور اولاد واپس کر دی،
بلکہ انہیں صبر کی عظیم مثال بنا دیا۔
یعنی وہ ٹھوکر جو انسان کو اللہ کی طرف لے جائے، اللہ اسے کبھی ضائع نہیں کرتا۔
💭 نفسیات اور روحانیت: دکھ کا مقصد
جدید سائنس کہتی ہے کہ "post-traumatic growth" (مصیبت کے بعد روحانی ترقی) ایک حقیقی نفسیاتی تصور ہے:
— لوگ مصیبت کے بعد زندگی کی اہمیت سمجھتے ہیں،
— رشتوں کی قدر کرتے ہیں،
— اور ذاتی طاقت محسوس کرتے ہیں۔
لیکن اسلام اسے "توبہ"، "استغفار"، اور "رب کی طرف رجوع" کا نام دیتا ہے۔
کیونکہ دکھ صرف دل کو توڑتا نہیں — وہ دل کو صاف بھی کرتا ہے۔
جیسے آگ سونے کو صاف کرتی ہے،
ویسے ہی مصیبت مومن کے دل کو دُنیا کی گندگی سے پاک کرتی ہے۔
💡 عملی رہنمائی: ٹھوکر کو سزا نہیں، سبق سمجھیں
- ہر مشکل میں دعا کریں:
"اللّٰهم لا سَهْلَ إلّا ما جَعَلْتَهُ سَهْلًا، وأنت تَجْعَلُ الحَزْنَ إذا شِئْتَ سَهْلًا."
"اے اللہ! کوئی کام آسان نہیں مگر جو تو آسان کر دے، اور تو ہی غم کو چاہے تو آسان کر دیتا ہے۔" - سوال نہیں، ایمان کریں:
"کیوں میرے ساتھ ہوا؟" کی بجائے پوچھیں:
"اللہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟" - صبر کریں، لیکن ہاتھ نہ ڈالیں:
صبر = رونا نہیں،
صبر = اللہ پر بھروسہ کر کے کام کرتے رہنا۔ - غفلت سے باہر آئیں:
جو ٹھوکر آپ کو نماز، قرآن، اور دُعائیں کی طرف لے جائے،
وہ سزا نہیں — وہ ہدایت کا دروازہ ہے۔
🌅 خاتمہ: ہر ٹھوکر رحمت کا پیغام ہے
دنیا کہتی ہے:
"تم گر گئے — اب سب ختم ہو گیا!"
لیکن اسلام کہتا ہے:
"تم گرے ہو — اب اللہ تمہارے قریب ہے!"
کیونکہ اللہ کے قریب آنے کا سب سے آسان راستہ ہے:
آنکھیں نم کرنا، دل توڑنا، اور کہنا:
"یا اللہ! میں تیرے سوا کسی کا نہیں…"
🌟 "جو ٹھوکر تمہیں اللہ کی طرف لے جائے،
وہ تمہاری تباہی نہیں — تمہاری نجات ہے۔
وہ سزا نہیں — وہ رحمت ہے۔
وہ خاتمہ نہیں — وہ آغاز ہے۔"
🤲 "اے اللہ! ہماری ہر ٹھوکر کو ہدایت کا ذریعہ بنا دے،
ہمارے ہر آنسو کو توبہ کا وسیلہ بنادے،
اور ہماری ہر مصیبت کو جنت کی سیڑھی بنا دے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
جو ٹھوکر تجھ تک لے جائے، وہ سزا نہیں ہوتی!"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں