اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنا ۔ ۔ ۔ ۔


 آج کی بات

💬 "اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنا حماقت کی پہلی سیڑھی ہے۔"

یہ جملہ صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں — یہ غرور، ناپائیداری، اور روحانی زوال کا وہ دروازہ ہے جس سے داخل ہوتے ہی انسان اپنی عقل، ایمان، اور انسانیت سے دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ 🌫️

دنیا میں ہر شخص کچھ نہ کچھ کمی یا فضیلت رکھتا ہے۔
لیکن جب انسان صرف اپنی فضیلت دیکھ کر دوسروں کو کم تر سمجھنے لگتا ہے،
تو وہ نہ صرف حقیقت سے ناواقف ہو جاتا ہے،
بلکہ اللہ کی نظروں میں ذلیل ہو جاتا ہے۔
کیونکہ اللہ غرور کرنے والے کو نہیں دیکھتا — وہ صرف عاجز، شکر گزار، اور متواضع دلوں کو دیکھتا ہے۔ 🌿


📖 اسلامی تعلیم: غرور = ایمان کی تباہی

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا﴾
(سورۃ النساء: 36)
"بے شک اللہ اُس سے محبت نہیں کرتا جو خود پر فخر کرنے والا اور مغرور ہو۔"

اور ایک اور جگہ:

﴿وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا﴾
(سورۃ الإسراء: 37)
"زمین میں تکبر سے مت چلو — تم زمین کو پھاڑ نہیں سکتے، اور نہ ہی پہاڑوں کی اونچائی تک پہنچ سکتے ہو!"

یہ آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ اپنے آپ کو عظیم سمجھنا، ایک فطری احمقانہ غلطی ہے — کیونکہ ہر فضیلت اللہ کی عطا ہے، نہ کہ ہماری ذاتی کامیابی۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ"
(صحیح مسلم: 91)
"جس کے دل میں ذرّے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"

اور جب صحابہ نے پوچھا:

"یا رسول اللہ! کوئی شخص اچھے کپڑے پہنتا ہے، اچھی جوتیاں پہنتا ہے — کیا یہ تکبر ہے؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ جمال پسند ہے۔ تکبر یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھو، اور ان کی بے عزتی کرو۔"

یعنی اصل تکبر دل کی وہ کیفیت ہے جو دوسروں کو نیچا دکھائے۔


📜 تاریخ کی سبق آمیز گواہی: فرعون کا غرور

فرعون نے کہا:

﴿أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَٰذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِن تَحْتِي أَفَلَا تُبْصِرُونَ﴾
(سورۃ الزخرف: 51)
"کیا میرے لیے مصر کی بادشاہی نہیں، اور یہ دریا میرے نیچے بہہ رہے ہیں؟ کیا تم نہیں دیکھتے؟"

اس نے اپنے آپ کو خدا سمجھ لیا — اور نتیجہ؟
اللہ نے اسے اور اس کی فوج کو دریا کے پانی میں غرق کر دیا،
اور آج تک وہ تکبر کی مثال بن کر رہ گیا۔ 🌊

اسی طرح، ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھ کر کہا:

﴿أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ﴾
(سورۃ الأعراف: 12)
"میں اس سے بہتر ہوں — تم نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے!"

اور اسی "میں بہتر ہوں" والے جملے نے اسے اللہ کی رحمت سے محروم کر دیا۔


💭 نفسیات اور حقیقت: غرور = ناانصافی

جدید نفسیات کہتی ہے کہ "superiority complex" (برتری کا احساس) دراصل کم خود اعتمادی کا ہی دوسرا رخ ہے۔
جو شخص دوسروں کو نیچا دکھانے پر مجبور ہو،
وہ اپنے اندر کی خالی جگہ کو چھپا رہا ہوتا ہے۔

لیکن اسلام کہتا ہے:

"تمہاری برتری تمہارے خاندان، دولت، یا علم سے نہیں، بلکہ تمہاری تقوا سے ہے۔"
(الحجرات: 13)

اور تقوا غرور کی بجائے متواضع ہونے میں ہے۔
کیونکہ جتنی زیادہ عبادت، علم، یا نیکی ہو — انسان اپنی کمزوری کو اتنا ہی زیادہ محسوس کرتا ہے۔

حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے:

"کُلَّمَا ازْدَادَ عِلْمِي، ازْدَادَ خَوْفِي."
"جتنا میرا علم بڑھتا گیا، میرا خوف (اللہ سے) اُتنا بڑھتا گیا۔"

یہی سچی عظمت ہے — جہاں علم غرور نہیں، بلکہ عاجزی پیدا کرے۔


💡 عملی رہنمائی: غرور سے کیسے بچیں؟

  1. ہر فضیلت کو اللہ کی نعمت سمجھیں:
    علم؟ دولت؟ خوبصورتی؟ — سب اللہ کی عطا ہے، آپ کی ذاتی کامیابی نہیں۔
  2. دوسروں کی خوبیاں دیکھیں:
    جب کوئی شخص آپ سے کم لگے، تو اس کی کوئی ایک خوبی تلاش کریں جو آپ میں نہ ہو۔
  3. نماز میں سجدہ کو غور سے کریں:
    سجدہ وہ حالت ہے جہاں انسان زمین پر سب سے نیچے ہوتا ہے، اور اللہ کے سامنے سب سے قریب۔
  4. دعا کریں:

    "اللّٰهم لا تَجْعَلْ فِي قَلْبِي غَضَبًا عَلَىٰ أَحَدٍ، وَلا حَسَدًا، وَلا كِبْرًا، وَاجْعَلْنِي لِلنَّاسِ كَأَحْسَنِهِمْ خُلُقًا."
    "اے اللہ! میرے دل میں کسی پر غصہ، حسد، یا تکبر نہ ڈال، اور مجھے لوگوں کے لیے ان کے بہترین اخلاق والا بنا دے۔"


🌅 خاتمہ: عاجزی ہی سچی عظمت ہے

دنیا کہتی ہے: "اپنے آپ کو بڑا دکھاؤ!"
لیکن اسلام کہتا ہے: "اپنے آپ کو چھوٹا سمجھو — اللہ تمہیں بڑا بنائے گا۔"

🌟 "اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنا،
اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنا ہے —
کیونکہ تم اپنی کمزوریاں نہیں دیکھ پاتے،
اور دوسروں کی مضبوطیوں کو نظرانداز کر دیتے ہو۔
اور یہی حماقت کی پہلی سیڑھی ہے —
جس کا آخری قدم ذلت ہوتی ہے۔"

🤲 "اے اللہ! ہمیں وہ عاجزی عطا فرما جو ہمیں غرور سے بچائے،
اور ہمیں وہ بصیرت دے جو ہمیں دوسروں کی عزت دلانے پر مجبور کرے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
جو اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے، اللہ اُسے بڑا بناتا ہے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں