✨ آج کی بات ✨
💬 "سوشل میڈیا پر فرشتے بنے ہم لوگ — اگر حقیقی زندگی میں انسان ہی بن جائیں تو کمال ہو جائے!"
یہ جملہ مذاق لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک گہری تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے: ہم آن لائن دنیا میں "مکمل" بننے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقی زندگی میں "انسان" بننا بھول گئے ہیں۔ 🌐💔
سوشل میڈیا پر ہماری زندگیاں فِلٹرز، سٹیج، اور اسٹوریز کا مجموعہ ہیں:
— صبح کی دعا کی ویڈیو (لیکن دن بھر غصے میں رہنا)،
— روزے کی تصویر (لیکن پیچھے چھپ کر کسی کی غیبت)،
— خیرات کا پوسٹ (لیکن گھر میں ماں باپ کو جواب دینا)…
ہم فرشتے بن کر دکھائی دیتے ہیں،
لیکن اصل زندگی میں انسانیت کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہیں۔
اور اگر ہم فرشتہ بننے کی بجائے انسان ہی بن جائیں — جو غلطیاں کرے، معافی مانگے، دلوں کو چھوئے، اور رشتوں کی دیکھ بھال کرے — تو یہی کمال ہوگا۔ 🌿
📱 سوشل میڈیا: دکھاوے کا مندر
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾
(سورۃ البینۃ: 5)
"انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت خلوص دل سے کریں… اور یہی سیدھا دین ہے۔"
لیکن آج ہم نے عبادت تک کو سوشل میڈیا کے لیے پیش کش بنا دیا ہے۔
ہمارا مقصد اللہ کی رضا نہیں، بلکہ لوگوں کی تعریف ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے خبردار کیا:
"مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللَّهُ بِهِ"
(صحیح بخاری: 6399)
"جو شخص لوگوں کو سننے کے لیے (ریا کر کے) کچھ کرے، اللہ اُسے لوگوں کے سامنے رسوا کرے گا، اور جو کسی کو دکھانے کے لیے کچھ کرے، اللہ اسے دکھائے گا۔"
یعنی ریا کاری کی سزا صرف آخرت میں نہیں — دنیا میں بھی ہوتی ہے۔
اور آج سوشل میڈیا وہی ریا کی منڈی ہے جہاں ہم اپنی "نیکیوں" کا سودا کرتے ہیں۔
📜 تاریخ کا سبق: سلف صالح کی پوشیدہ نیکیاں
حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو بھوکے بچوں کو کھانا پہنچاتے تھے — بغیر کسی کو بتائے۔
ایک دفعہ کسی نے دیکھ لیا، تو حضرت عمر نے کہا:
"اگر تمہیں میری نیکی دکھائی دے رہی ہے، تو سمجھو میں نے اپنا اجر ضائع کر دیا۔"
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کہتے تھے:
"نیکی کو چھپاؤ، جیسے تم اپنی برائی چھپاتے ہو۔"
لیکن آج ہم نیکی کو اسٹوری بناتے ہیں،
اور برائی کو ڈیلیٹ کر کے فراموش کر دیتے ہیں۔
ہماری زندگیاں دوہری ہو گئی ہیں:
— آن لائن: "میں اللہ کا بندہ ہوں!"
— آف لائن: "تمہاری فکر مت کرو، میرا کام چل رہا ہے!"
یہی نفاقِ عصر حاضر ہے۔
💭 نفسیات کی آواز: "فرشتہ" ہونے کا بوجھ
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ "social media persona" (سوشل میڈیا کا روپ) انسان کو:
- ذہنی دباؤ میں ڈالتا ہے،
- حقیقی تعلقات کمزور کرتا ہے،
- اور خود سے دوری پیدا کر دیتا ہے۔
ہم ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں:
"یہ پوسٹ کیسی لگے گی؟"
"کتنے لائیکس آئیں گے؟"
"کیا لوگ مجھے اچھا سمجھیں گے؟"
لیکن کبھی نہیں سوچتے:
"کیا میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کر رہا ہوں؟"
"کیا میں اپنے دل کی صفائی پر توجہ دے رہا ہوں؟"
"کیا میں واقعی اللہ سے ڈرتا ہوں؟"
ہم فرشتہ بننے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں،
جبکہ انسان ہونا ہی ہماری منزل ہونی چاہیے۔
💡 عملی رہنمائی: انسان بننے کے لیے چند قدم
- نیکی چھپاؤ:
اگر صدقہ دیا ہے، تو کسی کو مت بتاؤ۔
اگر روزہ رکھا ہے، تو سوشل میڈیا پر اسٹوری نہ ڈالو۔ - حقیقی رشتوں کو ترجیح دو:
والدین کو فون کرو، بچوں کے ساتھ وقت گزارو، دوست کی مشکل میں ہاتھ بڑھاؤ — بغیر کیمرے کے۔ - فون کو کچھ دیر "آف" رکھو:
روزانہ 15 منٹ کا "ڈیجیٹل ڈائجسٹ" (Digital Detox) کرو — صرف اللہ اور اپنے دل کے لیے۔ - دعا کریں:
"اللّٰهم احْفَظْنِي مِنَ الرِّيَاءِ، وَاجْعَلْ عَمَلِي خَالِصًا لِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ."
"اے اللہ! مجھے ریا سے بچا، اور میرے اعمال کو صرف تیری رضا کے لیے خالص کر دے۔"
🌅 خاتمہ: انسان ہونا ہی کمال ہے
اللہ نے ہمیں فرشتہ نہیں، انسان بنایا ہے۔
فرشتوں کو گناہ کی طاقت نہیں،
لیکن انسانوں کو گناہ کر کے توبہ کرنے کی طاقت ہے۔
فرشتوں کو مشکلات نہیں،
لیکن انسانوں کو مشکلات میں اللہ کو یاد کرنے کی سعادت ہے۔
فرشتوں کو دل نہیں،
لیکن انسانوں کو محبت، رحم، اور معافی کی صلاحیت ہے۔
🌟 "سوشل میڈیا پر فرشتہ بننا آسان ہے —
لیکن گھر میں اچھا بیٹا، اچھا شوہر، اچھا دوست بننا مشکل ہے۔
اگر ہم یہی مشکل کام کر لیں،
تو فرشتے بھی ہمارے لیے دعا کریں گے!"
🤲 "اے اللہ! ہمیں سوشل میڈیا کے فریب سے بچا،
ہمیں وہ توفیق دے جو ہمیں آن لائن نہیں، بلکہ گھر میں نیک بنا دے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
انسان ہونا ہی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا کمال ہے۔"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں