🤍✨🕌📿⭐️سیرت النبی ﷺ قدم بقدم🌴𝟐𝟖🌴


 🤍✨🕌📿⭐️سیرت النبی ﷺ قدم بقدم🌴𝟐𝟖🌴

 سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل  تذکرہ

☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼

✍🏻 عبداللہ فارانی

☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰

*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

اب اس ہندوستانی نے ان سے پوچھا: 

" تم کس کی عبادت کرتے ہو ۔"

انہوں نے جواب دیا: 

" ہم اس الله کی عبادت کرتے ہیں جو سامنے نہیں ہے۔"

اس پر اس ہندی عالم نے پوچھا: 

" تمہیں اس کی خبر کس نے دی۔ "

امام رکن الدین بولے: 

" حضرت محمد ﷺ نے۔"

اس پر اس ہندی عالم نے کہا: 

" تمہارے پیغمبر نے روح کے بارے میں کیا کہا ہے۔"

امام بولے

"یہ روح میرے رب کے حکم سے قائم ہے۔"

اس پر اس ہندی عالم نے کہا؛ 

" تم سچ کہتے ہو۔"

پھر وہ مسلمان ہوگیا۔

ایک روز حضور نبی کریم ﷺ اپنے چند صحابہ رضی الله عنہم کے ساتھ مسجد حرام میں تشریف فرما تھے۔ ایسے میں قبیلہ زبید کا ایک شخص وہاں آیا۔ اس وقت نزدیک ہی قریش مکہ بھی مجمع لگائے وہاں بیٹھے تھے۔ قبیلہ زبید کا وہ شخص ان کے نزدیک گیا اور اردگرد گھومنے لگا۔ پھر اس نے کہا: 

"اے قریش! کوئی شخص کیسے تمہارے علاقے میں داخل ہوسکتا ہے اور کوئی تاجر کیسے تمہاری سرزمین پر آسکتا ہے جبکہ تم ہر آنے والے پر ظلم کرتے ہو؟ "

یہ کہتے ہوئے جب وہ اس جگہ پہنچا جہاں آپ ﷺ تشریف فرما تھےتو آپ نے اس سے فرمایا: 

" تم پر کس نے ظلم کیا۔"

اس نے بتایا: 

" میں اپنے اونٹوں میں سے تین بہترین اونٹ بیچنے کے لیے لے کر آیا تھا مگر ابوجہل نے یہاں ان تینوں اونٹوں کی اصل قیمت سے صرف ایک تہائی قیمت لگائی۔اور ایسا اس نے جان بوجھ کر کیا، کیونکہ وہ جانتا ہے وہ اپنی قوم کا سردار ہے۔ اس کی لگائی ہوئی قیمت سے زیادہ رقم کوئی نہیں لگائے گا، مطلب یہ کہ اب مجھے وہ اونٹ اس قدر کم قیمت پر فروخت کرنے پڑیں گے، یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ میرا تجارت کا یہ سفر بے کار جائےگا۔"

نبی کریم ﷺ نے اس کی پوری بات سن کر فرمایا: 

" تمہارے اونٹ کہاں ہیں ۔"

اس نے بتایا: 

" یہیں خزورہ کے مقام پر ہیں ۔"

آپ اس وقت اٹھے،اپنے صحابہ کو ساتھ لیا، اونٹوں کے پاس پہنچے۔ آپ نے دیکھا، اونٹ واقعی بہت عمدہ تھے۔ آپ نے اس سے ان کا بھاؤ کیا اور آخر خوش دلی سے سودا طے ہوگیا۔


 آپ نے وہ اونٹ اس سے خریدلیے۔ پھر آپ نے ان میں سے دو زیادہ عمدہ فروخت کردیے اور ان کی قیمت بیوہ عورتوں میں تقسیم فرمادی۔ وہیں بازار میں ابوجہل بیٹھا تھا ۔اس نے یہ سودا ہوتے دیکھا، لیکن ایک لفظ بول نہ سکا۔ آپ اس کے پاس آئے اور فرمایا:

" خبردار عمرو! ( ابوجہل کا نام) اگر تم نے آئندہ حرکت کی تو بہت سختی سے پیش آوں گا۔"

یہ سنتے ہی وہ خوف زدہ انداز میں بولا: 

" محمد! میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا... میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔"

اس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ وہاں سے لوٹ آئے۔ادھر راستے میں امیہ بن خلف ابوجہل سے ملا۔ اس کے ساتھ دوسرے ساتھی بھی تھے۔ان لوگوں نے ابوجہل سے پوچھا: 

"تم تو محمد کے ہاتھوں بہت رسوا ہوکر آرہے ہو، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو تم ان کی پیروی کرنا چاہتے ہو یا تم ان سے خوف زدہ ہوگئے ہو۔"

اس پر ابوجہل نے کہا: 

" میں ہرگز محمد کی پیروی نہیں کرسکتا، میری جو کمزوری تم نے دیکھی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب میں نے محمد(صلی الله علیہ وسلم)کو دیکھا تو ان کے دائیں بائیں بہت سارے آدمی نظر آئے۔ ان کے ہاتھوں میں نیزے اور بھالے تھےاور وہ ان کو میری طرف لہرا رہے تھے۔اگر میں اس وقت ان کی بات نہ مانتا تو وہ سب لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑتے۔"

ابوجہل ایک یتیم کا سرپرست بنا، پھر اس کا سارا مال غضب کرکے اسےنکال باہر کیا۔ وہ یتیم حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس ابوجہل کے خلاف فریاد لے کر آیا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم اس یتیم کو لیے ابوجہل کے پاس پہنچے۔ آپ نے اس سے فرمایا:

" اس یتیم کا مال واپس کردو۔"

ابوجہل نے فوراً مال اس لڑکے کے حوالے کردیا۔ مشرکین کو یہ بات معلوم ہوئی تو بہت حیران ہوئے، انہوں نے ابوجہل سے کہا: 

"کیا بات ہے؟ تم اس قدر بزدل کب سے ہوگئے کہ فوراً ہی مال اس لڑکے کے حوالے کردیا۔"

اس پر اس نے کہا: 

" تمہیں نہیں معلوم! محمد صلی الله علیہ وسلم کے دائیں بائیں مجھے بہت خوفناک ہتھیار نظر آئےتھے۔ میں ان سے ڈر گیا۔ اگر میں اس یتیم کا مال نہ لوٹاتا تو وہ ان ہتھیاروں سے مجھے مار ڈالتے۔"

قبیلہ خشعم کی ایک شاخ اراشہ تھی۔ اس کے ایک شخص سے ابوجہل نے کچھ اونٹ خریدے، لیکن قیمت ادا نہ کی۔ اس نے قریش کے لوگوں سے فریاد کی۔ ان لوگوں نے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا مذاق اڑانے کا پروگرام بنالیا۔انہوں نے اس اراشی سے کہا: 

" تم محمد کے پاس جاکر فریاد کرو۔"

ایسا انہوں نے اس لیے کہا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ ابوجہل کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

اراشی حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپ نے فوراً اسے ساتھ لیا اور ابوجہل کے مکان پر پہنچ گئے۔ اس کے دروازے پر دستک دی۔ابوجہل نے اندر سے پوچھا: 

" کون ہے؟ "

آپ نے فرمایا: 

" محمد! "

ابوجہل فوراً باہر نکل آیا۔آپ کا نام سنتے ہی اس کا چہرہ زرد پڑھ چکا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا:‌

" اس شخص کا حق فوراً ادا کردو"۔

اس نے کہا: 

" بہت اچھا! ابھی لایا۔"

اس نے اسی وقت اس کا حق ادا کردیا۔اب وہ شخص واپس اسی قریشی مجلس میں آیا اور ان سے بولا: 

" الله تعالیٰ ان( یعنی آنحضرت صلی الله علیہ وسلم)کو جزائے خیر دے۔ اللہ کی قسم! انہوں نے میرا حق مجھے دلوادیا۔"

مشرک لوگوں نے بھی اپنا ایک آدمی ان کے پیچھے بھیجا تھا اور اس سے کہا تھا کہ وہ دیکھتا رہے، حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کیا کرتے ہیں ، چنانچہ جب وہ واپس آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا: 

" ہاں ! تم نے کیا دیکھا؟ "

جواب میں اس نے کہا: 

" میں نے ایک بہت ہی عجیب اور حیرت ناک بات دیکھی ہے۔"

’’اللہ کی قسم! محمد نے جیسے ہی اس کے دروازے پر دستک دی تو وہ فورا اس حالت میں باہر نکل آیا گویا اس کا چہرہ بالکل بے جان اور زرد ہورہا تھا۔ محمد نے اس سے کہا کہ اس کا حق ادا کردو، وہ بولا، بہت اچھا۔ یہ کہہ کر وہ اندر گیا اور اسی وقت اس کا حق لاکردے دیا۔‘‘

قریشی سردار یہ سارا واقعہ سنب کر بہت حیران ہوئے۔ اب انہوں نے ابوجہل سے کہا: 

’’تمہیں شرم نہیں آتی، جو حرکت تم نے کی، ایسی تو ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔‘‘

جواب میں اس نے کہا:

’’تمہیں کیا پتا، جونہی محمد نے میرے دروازے پر دستک دی اور میں نے ان کی آواز سنی تو میرا دل خوف اور دہشت سے بھر گیا۔ پھر میں باہر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک بہت قدآور اونٹ میرے سر پر کھڑا ہے، میں نے آج تک اتنا بڑٓ اونٹ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اگر میں ان کی بات ماننے سے انکار کردیتا تو وہ اونٹ مجھے کھالیتا۔‘‘

کچھ مشرک ایسے بھی تھے جو مستقل طور پر آپ کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا:

ترجمہ: یہ لوگ جو آپ پر ہنستے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو معبود قرار دیتے ہیں ، ان سے آپ کے لئے ہم کافی ہیں (سورۃ الحجر آیت95)۔

ان مذاق اڑانے والوں میں ابوجہل، ابولہب، عقبہ بن ابی معیط، حکم بن عاص بن امیہ (جو حضرت عثمان ؓ کا چچا تھا) اور عاص بن وائل شامل تھے۔

ابولہب کی حرکات میں سے ایک حرکت یہ تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کے دروازے پر گندگی پھینک جایا کرتا تھا۔ ایک روز وہ یہی حرکت کرکے جارہا تھا کہ اسے اس کے بھائی حضرت حمزہ ؓ نے دیکھ لیا، حضرت حمزہ رضٰی اللہ عنہ نے وہ گندگی اٹھاکر فورا ابولہب کے سر پر ڈال دی۔

اسی طرح عقبہ بن ابی معیط نبی کریم ﷺ کے دروازے پر گندگی ڈال جایا کرتا تھا۔ عقبہ نے ایک روز آپ کے چہرہ مبارک کی طرف تھوکا، وہ تھوک لوٹ کر اسی کے چہرے پر آپڑا۔ جس حصے پر وہ تھوک گرا، وہاں کوڑھ جیسا نشان بن گیا۔

ایک مرتبہ عقبہ بن ابی معیط سفر سے واپس آیا تو اس نے ایک بڑی دعوت دی۔ تمام قریشی سرداروں کو کھانے پر بلایا۔ اس موقعے پر اس نے آنحضرت ﷺ کو بھی بلایا مگر جب کھانا مہمانوں کے سامنے چنا گیا تو آپ ﷺ نے کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا:

’’میں اس وقت تک تمہارا کھانا نہیں کھاوٗں گا جب تک کہ تم یہ نہ کہو، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘

چوں کہ مہمان نوازی عرب کے لوگوں کی خاص علامت تھی اور وہ مہمان کو کسی قیمت پر ناراض نہیں ہونے دیتے تھے اس لئے عقبہ نے کہہ دیا: 

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘

یہ سن کر آپ ﷺ نے کھانا کھالیا۔ کھانے کے بعد سب لوگ اپنے گھر چلے گئے۔ عقبہ بن ابی معیط، ابی بن خلف کا دوست تھا۔ لوگوں نے اسے بتایا کہ عقبہ نے کلمہ پڑھ لیا ہے۔ ابی بن خلف اس کے پاس آیا اور بولا: 

’’عقبہ! کیا تم بے دین ہوگئے ہو؟‘‘

جواب میں اس نے کہا:

’’خدا کی قسم! میں بے دین نہیں ہوا (یعنی مسلمان نہیں ہوا ہوں )۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ایک معزز آدمی میرے گھر آیا اور اس نے یہ کہہ دیا کہ میں جب تک اس کے کہنے کے مطابق توحید کی گواہی نہیں دوں گا، وہ میرے ہاں کھانا نہیں کھائے گا، مجھے اس بات سے شرم آئی کہ ایک شخص میرے گھر آئے اور کھانا کھائے بغیر چلا جائے۔ اس لئے میں نے وہ الفاظ کہہ دیے اور اس نے کھانا کھالیا، لیکن سچ یہی ہے کہ میں نے وہ کلمہ دل سے نہیں کہا تھا۔‘‘


یہ بات سن کر ابی بن خلف کا اطمینان نہ ہوا، اس نے کہا:

’’میں اس وقت تک نہ اپنی شکل تمہیں دکھاؤں گا، نہ تمہاری شکل دیکھوں گا جب تک کہ تم محمد کا منہ نہ چڑاؤ، ان کے منہ پر نہ تھوکو اور ان کے منہ پر نہ مارو۔‘‘

یہ سن کر عقبہ نے کہا: 

’’یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔‘‘

اس کے بعد جب حضور نبی کریم ﷺ اس بدبخت کے سامنے آئے، اس نے آپ کا منہ چڑایا، آپ کے چہرہ مبارک پر تھوکا، لیکن اس کا تھوک آپ کے چہرہ مبارک تک نہ پہنچا بلکہ خود اس کے منہ پر آکر گرا۔ اس نے محسوس کیا، گویا آگ کا کوئی انگارہ اس کے چہرے پر آگیا ہے۔ اس کے چہرے پر جلنے کا نشان باقی رہ گیا اور مرتے دم تک رہا۔ 

اسی عقبہ بن معیط کے بارے میں سورہ فرقان کی آیت 37 نازل ہوئی: 

ترجمہ: جس روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا اور کہے گا، کیا ہی اچھا ہوتا، میں رسول کے ساتھ دین کی راہ پر لگ جاتا۔ 

اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: 

’’جس روز ظالم آدمی جہنم میں کہنی تک اپنا ایک ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، پھر دوسرے ہاتھ کو کاٹ کر کھائے گا، جب دوسرا کھاچکے گا تو پہلا پھر اُگ آئے گا اور وہ اس کو کاٹنے لگے گا۔ غرض اسی طرح کرتا رہے گا۔‘‘

اسی طرح حکم بن عاص بھی آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسخرہ پن کرتا تھا۔ ایک روز آپ ﷺ چلے جارہے تھے۔ یہ آپ کے پیچھے چل پڑا۔ آپ کا مذاق اڑانے کے لئے منہ اور ناک سے طرح طرح کی آوازیں نکالنے لگا۔ آپ چلتے چلتے اس کی طرف مڑے اور فرمایا:

’’تو ایسا ہی ہوجا۔‘‘

چنانچہ اس کے بعد یہ ایسا ہوگیا تھا کہ اس کے منہ اور ناک سے ایسی ہی آوازیں نکلتی رہتی تھیں ۔ ایک ماہ تک یہ بے ہوشی کی حالت میں رہا۔ اس کے بعد مرنے تک اس کے منہ اور ناک سے ایسی ہی آوازیں نکلتی رہیں ۔ 

اسی طرح عاص بن وائل بھی آپ ﷺ کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا:

’’محمد! اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو (نعوذ باللہ) یہ کہہ کر دھوکا دے رہے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، خدا کی قسم ہماری موت صرف زمانے کی گردش اور وقت کے گزرنے کی وجہ سے آتی ہے۔‘‘

اسی عاص بن وائل کا ایک واقعہ اور ہے۔ حضرت خباب بن ارت ؓ مکہ میں لوہار کا کام کرتے تھے، تلواریں بناتے تھے۔ انہوں نے عاص بن وائل کو کچھ تلواریں فروخت کی تھیں ، ان کی اس نے ابھی قیمت ادا نہیں کی تھی۔ خباب بن ارت ؓ اس سے قیمت کا تقاضا کرنے کے لئے گئے تو اس نے کہا:

’’خباب! تم محمد کے دین پر چلتے ہو، کیا وہ یہ دعوی نہیں کرتے کہ جنت والوں کو سونا، چاندی، قیمتی کپڑے، خدمت گار اور اولاد مرضی کے مطابق ملے گی؟‘‘

حضرت خباب بن ارت ؓ بولے: 

’’ہاں ! یہی بات ہے۔‘‘

اب عاص نے ان سے کہا:

’’میں اس وقت تک تمہارا قرض نہیں دوں گا جب تک کہ تم محمد کے دین کا انکار نہیں کروگے۔‘‘

*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں