🌼 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع، سبق نمبر 15


 سورہ انفال کا خلاصہ


قوانينِ جنگ و جہاد

اس سے قبل مختلف سورتوں میں مخصوص اقوام کو دعوتِ الی الکتاب اور دعوتِ الی التوحید مختلف انداز سے پیش کی گئی۔ اب اس سورت میں بیان کیا جا رہا ہے کہ ہر انسان کو اپنا مذہب پیارا ہوتا ہے—چاہے وہ مذہب کتنا ہی غلط اور غیر معقول کیوں نہ ہو—اور انسان اپنے مذہب کی حمایت میں حتیٰ کہ جان دینے تک کو تیار ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جب آپ کسی غیر مسلم کو دعوت دیں گے تو ممکن ہے وہ اپنے مذہب کی حمایت اور مدافعت کے لئے لڑنے پر اُتر آئے؛ اس وقت عقلاً مسلمانوں کے لئے تین صورتیں ممکن ہیں:


(1) جان بچا کر بھاگ جائیں۔

(2) مار کھاتے رہیں یہاں تک کہ مارنے والا تھک جائے۔

(3) ڈٹ کر مقابلہ کریں۔


ظاہر ہے کہ جب باطل پرست اپنے باطل مذہب کی حمایت میں لڑ سکتا ہے تو مسلمان کو بطریقِ اولی اپنے حقِ مذہب کی حمایت میں لڑنا چاہئے؛ پہلی دو صورتیں غیرت، حریت اور حمیت و شجاعت کے خلاف ہیں، اس لئے مذہبِ اسلام ان کی اجازت نہیں دیتا۔ لہٰذا تیسری صورت متعین ہوگئی: ڈٹ کر مقابلہ کرو۔ اب مقابلہ کی صورت میں اسلامی فوج پر کون سے قوانین لاگو ہوں گے وہ اسی سورۂ انفال میں بیان کیے گئے ہیں—اور اس قانون کی مجموعی طور پر تیرہ (13) دفعات ہیں جن کی تفصیل عنقریب پیش کی جائے گی (انشاء اللہ)۔


رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: رفع اختلاف متعلق بہ غنیمتِ بدر

غزوۂ بدر کی شاندار فتح کے بعد جو مالِ غنیمت حاصل ہوا اس کی تقسیم کے بارے صحابۂ کرام میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ نوجوان صحابۂ کا کہنا تھا کہ ہم نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں اس لئے ہمیں دو گنا حصہ ملنا چاہیئے؛ بزرگ صحابۂ کا کہنا تھا کہ اگر ہم تمہارے پیچھے نہ ہوتے تو تم کیا کر پاتے، اس لئے تمہارا اور ہمارا حصہ برابر ہونا چاہئے۔ اس اختلاف پر آیاتِ کریمہ نازل ہوئیں اور حضورِ اکرم ﷺ کی مرضی کے مطابق تقسیم کو چھوڑ دیا گیا، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اتفاق و اتحاد پر راضی ہو گئے۔


رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: قانونِ جنگ — پہلی دفعہ

اسلامی شہسواروں کو قتال کے اصول سکھائے جا رہے ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ میدانِ جنگ میں استقامت دکھاؤ؛ پیٹھ پھیرنے کا تصور بھی ذہن میں نہ لانے پاؤ۔ اگر میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر دی تو اللہ کا عذابِ الیم نازل ہوگا لیکن صبر و استقامت سے فتح و نصرت قدم چومے گی۔


رکوع نمبر 3 کا خلاصہ: قانونِ جنگ — دفعات نمبر 2، 3 اور 4

اس رکوع میں تین دفعات بیان ہو رہی ہیں:

دفعہ نمبر 2: میدانِ جنگ میں اللہ اور اس کے رسول کے مطیع رہو؛ نافرمانی کا خیال بھی دل میں نہ آئے۔

دفعہ نمبر 3: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو ہی اپنی زندگی سمجھو؛ اسی میں بقاء ہے۔ اللہ کے نام پر مر جانا حقیقی زندگی کا راز ہے۔

دفعہ نمبر 4: سپرد کردہ فرض کی ادائیگی میں خیانت نہ کرو؛ جو فرض تمہیں سونپا گیا ہے اس میں کوتاہی مت برتو۔


رکوع نمبر 4 کا خلاصہ: دفعہ نمبر 5 — تقویٰ کا التزام

میدانِ جنگ میں اپنے بھلے برے کی تمیز کرنے اور مفید و مَصر حضرات کی شناخت کے لئے تقویٰ لازم ہے۔ تقویٰ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی قوت عطا کرتا ہے جو تمہیں صحیح اور غلط میں امتیاز سکھائے گی۔


رکوع نمبر 5 کا خلاصہ: قانونِ جنگ — دفعات نمبر 6 اور 7

دفعہ نمبر 6: غالِبِہ قتال — یعنی مخلصانِ مملکتِ الٰہی کو چاہیے کہ تلوار نیام میں رکھیں نہ جب تک باغیوں کی قوت مکمل طور پر پاش پاش نہ ہو جائے اور توحید کا جھنڈا پوری دنیا میں سرِفراز نہ ہو۔ قتال برابر جاری رکھو جب تک مقصدِ الہی حاصل نہ ہو۔


دفعہ نمبر 7: قانونِ تقسیمِ غنائم — میدانِ جنگ میں فتح کے بعد مالِ غنیمت کو یوں تقسیم کیا جائے کہ کل مال کے پانچ حصے مقرر کیے جائیں۔ ان میں سے چار حصے مجاہدین کے درمیان برابر تقسیم کیے جائیں اور پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے مخصوص رکھا جائے، جو درج ذیل مصارف میں خرچ کیا جائے:

1.. رسولِ اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار 2.. یتیم 3.. مسکین 4.. مسافر


جاری ہے ۔۔۔۔//

🌹🌼🌸♥️🤲

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں