♥️ خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع, سبق نمبر 14


 سورۃ الاعراف کا خلاصہ


رکوع نمبر ۱۲ کا خلاصہ: پہلی تباہ شدہ اُمتوں پر تنقیدی 

نگاہ — گزشتہ اُمتیں جب نافرمانی پر اُتر آئیں تو ان کی گوشمالی کی گئی، لیکن جب وہ اس گوشمالی سے بھی باز نہ آئیں تو پھر ان کی رَسی دراز کر دی گئی، اُنہیں مزید مہلت دے دی گئی۔

ہمیشہ سے عادتُ اللہ یہی چلی آ رہی ہے، اس لیے مخالفینِ اسلام کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم اپنی حرکات سے باز آ جاؤ، ورنہ تمہارا حشر بھی بہت بُرا ہوگا۔


رکوع نمبر ۱۳ تا ۱۶ کا خلاصہ: اُممِ سابقہ کی تباہی کا اصل سبب اور قصہ موسیٰ و فرعون

اُممِ سابقہ کو جو تباہ کیا گیا، اس کی اصل وجہ تکذیبِ انبیاء علیہم السلام تھی، جس کے وہ ہمیشہ مرتکب رہے۔ حضرت نوحؑ کی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کا ثمر محض ۸۳ مرد و عورت نکلے، جن میں سے اکثر غریب تھے۔

حضرت موسیٰؑ کی تبلیغ پر بنی اسرائیل کا چھ لاکھ (۶۰۰۰۰۰) کا لشکر مصر سے نکلا۔ ایک بستی پر پہنچے تو وہاں کچھ لوگوں کو بُتوں کی پوجا کرتے دیکھا، تو اپنے لیے بھی اسی قسم کے ایک معبود کی درخواست کی۔ پھر اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا وہ عظیم مطالبہ پیش کر دیا جس کا تحمّل پہاڑ بھی نہ کر سکتے تھے۔

حضرت ہودؑ کی تبلیغ کا نتیجہ ان کی قوم کے لوگوں کے اس جملے سے ظاہر ہوا:

“تم تو ہو ہی بیوقوف” وغیرہ۔

یہ تمام واقعات تکذیبِ رُسل کا نتیجہ تھے، اور انہی میں سے ایک واقعہ حضرت موسیٰؑ اور فرعون علیہ لعنتُ اللہ کا بالتفصیل ذکر کیا جا رہا ہے۔


رکوع نمبر ۱۷ تا ۱۹ کا خلاصہ:حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کوہِ طور پر جانا

حضرت موسیٰؑ کی اُمت دو قسم پر تھی:

(۱) اُمتِ دعوت: یعنی فرعون اور باقی قبطی قوم۔

(۲) اُمتِ اجابت: یعنی بنی اسرائیل۔

تیرہویں رکوع کے وسط سے لیکر سولہویں رکوع کی آیت "فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ" تک اُمتِ دعوت کا ذکر ہے، اور اس کے بعد اُنیسویں رکوع کے آخر تک اُمتِ اجابت کا ذکر ہے۔

اسی اُمتِ اجابت کے لیے حضرت موسیٰؑ قانون لینے کے لیے کوہِ طور پر ایک چِلّہ لگانے گئے۔ پیچھے سے قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔ جب حضرت موسیٰؑ کو اطلاع ملی تو وہ انتہائی ناراضی کے عالم میں ألواحِ تورات زمین پر رکھ دیں، بھائی کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لیے۔

غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد ألواحِ تورات کو اُٹھایا، اُن پر عمل کی ترغیب دی، لیکن یہ قوم شروع ہی سے نافرمان تھی۔ اس نے ان احکامات کی پیروی سے انکار کر دیا، اسی وجہ سے وہ ذلیل و رُسوا ہو گئے۔


رکوع نمبر ۲۰ کا خلاصہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت اور اس کے نتائج

حضرت موسیٰؑ نے جب اپنی قوم کو دعوت دی تو وہ دو گروہوں میں بٹ گئے:

(۱) ہدایت یافتہ، (۲) گمراہی پر ڈٹے ہوئے۔

یعنی حضرت موسیٰؑ کی دعوت پر کچھ لوگوں نے لبیک کہا اور کچھ نے "سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا" کا نعرہ بلند کیا۔ اکثر لوگ اسی دوسرے گروہ میں شامل تھے جو کھا پی کر احسان فراموشی کیا کرتے تھے۔


رکوع نمبر ۲۱ کا خلاصہ: داعی کو دعوت دیتے رہنا چاہئے

بنی اسرائیل کو ہفتے کے دن مچھلی کے شکار سے روکا گیا تھا کیونکہ وہ دن ان کی عبادت کے لیے مخصوص تھا۔ اس پر بنی اسرائیل کی تین جماعتیں بن گئیں:

(۱) شکار سے باز نہ آنے والے،

(۲) شکاریوں کو روکنے والے،

(۳) روکنے والوں کو منع کرنے والے۔

جب عذابِ الٰہی آیا تو صرف دوسری قسم کے لوگ، جو اپنی دعوت کا کام کرتے رہے، بچا لیے گئے، باقی دونوں قسم کے لوگ تباہ کر دیے گئے۔

معلوم ہوا کہ داعی کو اپنا کام جاری رکھنا چاہئے، لوگوں کی باتوں میں آ کر اسے ترک نہ کرے تاکہ خود عذابِ الٰہی سے محفوظ رہے۔


رکوع نمبر ۲۲ کا خلاصہ: عہدِ الست کی یاد دہانی

کتابُ اللہ کی طرف دعوت دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہر انسان اللہ تعالیٰ سے عالمِ اَرواح میں اس کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالنے کا عہد کر کے آیا ہے۔

اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے ہدایت کی ضرورت تھی تاکہ قیامت کے دن علم نہ ہونے کا عذر نہ کر سکیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ شیطان لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ہر وقت کمربستہ رہتا ہے، جیسے اس نے بلعم بن باعوراء کو بہکایا (وَتَفْصِیلُہُ فِی التَّفَاسِیرِ)۔


جو لوگ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اللہ کی دعوت کو رد کر دیتے ہیں، عالمِ اَرواح کے اس وعدے کو بھول جاتے ہیں، وہ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں۔


رکوع نمبر ۲۳ کا خلاصہ: سُنّتُ اللہ یہی ہے

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی دعوت سے اعراض کرتے ہیں اور شیطان کے بہکاوے میں آ کر جامۂ انسانیت سے باہر ہو جاتے ہیں، اُنہیں اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے، جس سے وہ اور خود سَر ہو جاتے ہیں۔

پھر اچانک اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آتا ہے اور وہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیے جاتے ہیں۔

اور اللہ کی یہ سنت ہمیشہ سے یہی چلی آ رہی ہے۔


رکوع نمبر ۲۴ کا خلاصہ: معبودانِ باطلہ کی بے بسی

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا معبودانِ باطلہ کو پکارتے ہیں اور اُنہیں اپنا ماویٰ و ملجأ سمجھتے ہیں، ان کے یہ معبود نہ کچھ کر سکتے ہیں، نہ کچھ بول سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں، نہ سمجھ سکتے ہیں، اور نہ ہی کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں۔

لہٰذا ان کو پکارنے کے بجائے کتابُ اللہ کی دعوت کو قبول کرو، اسلام میں داخل ہو جاؤ، قرآنِ کریم کی تلاوت کثرت سے کرو، اور جب قرآنِ کریم کی تلاوت ہو تو خاموشی اور ادب سے سنو۔

تکبّر عن عبادۃ اللہ سے مکمل طور پر بچو، ورنہ شرک سے بچنا چاہتا تقریباً ناممکن ہے۔


"آج الحمدللہ سورة الاعراف کی 24  رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة انفال شروع کرینگے۔"

♥️🌸🤲🌹🌼

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں