🌼 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع, سبق نمبر 13


 سورۃ الأعراف کا خلاصہ 


 اقوامِ عالم کو دعوت 

اس سے قبل مخصوص اقوام کو مختلف انداز میں دعوت دی گئی — کسی کو توحید کی، کسی کو کتاب اللہ کی۔

اب اس سورت میں عمومی طور پر بقیہ اقوامِ عالم کو قرآنِ کریم کی طرف دعوت دی جا رہی ہے کہ اس جامع اور ہمہ گیر کتابِ ربّ الارباب پر عمل کرو؛ یہ دنیا اور آخرت دونوں میں تمہارے کام آئے گی۔


رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: نصیحت کے مختلف انداز

اس رکوع میں لوگوں کو مختلف انداز میں قرآنِ کریم کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔

کہیں گزرے ہوئے ایام یاد کرائے جا رہے ہیں کہ اس سے قبل کتنی ہی قومیں ہلاک و تباہ ہو چکیں،

اور اگر تم نے بھی اس دعوت کو قبول نہ کیا تو تمہارا انجام ان سے مختلف نہ ہوگا۔

کہیں موت کے بعد کے واقعات سے ڈرایا جا رہا ہے،

اور کہیں نعمتوں کا ذکر کر کے احساس دلایا جا رہا ہے کہ اپنے خالقِ حقیقی کے نافرمان نہ بنو،

بلکہ فرمانبرداری کی زندگی گزار کر آخرت کی دائمی نعمتوں کے مستحق بنو۔


رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: ضرورتِ اتباعِ کتاب اللہ

چونکہ شیطانِ مردود لوگوں کو جہنم میں داخل کرانے اور جنت سے نکلوانے کا ٹھیکہ لے چکا ہے،

اور تمہیں راہِ راست سے گمراہ کرنا اس نے اپنا نصب العین بنایا ہوا ہے۔

اس نے تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوّا علیہا السلام کو دھوکہ دے کر جنت سے نکلوا دیا۔

تو تم اس کی چالوں اور فریبوں سے کیسے بچ سکتے ہو؟

ہاں! ایک صورت ہے — اور وہ ہے اتباعِ کتاب اللہ۔

جس طرح حضرت آدمؑ کا تعلقِ الٰہی الہامی کلمات کے ذریعے بحال ہوا،

اسی طرح تمہارا تعلق بھی بجز اتباعِ کتاب اللہ کے درست نہ ہوگا۔

یاد رکھنا! کہیں شیطان تمہیں دھوکے میں مبتلا کر کے

جنت کی نعمتوں سے نکال کر جہنم کے عذاب میں گرفتار نہ کروا دے۔


رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: اتباعِ کتاب اللہ کا ثمرہ

جب تم کتاب اللہ کی اتباع کرو گے، اس کے اوامر پر عمل پیرا رہو گے،

اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو گے تو تمہیں تقویٰ کا نورانی لباس حاصل ہوگا،

اور اس کی برکات کا تم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرو گے۔

یہ لباسِ تقویٰ جسمانی لباس سے کہیں بہتر ہے،

لہٰذا اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔


رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: لباسِ جسمانی ممنوع نہیں

گزشتہ رکوع میں لباسِ تقویٰ کی اہمیت بیان کی گئی تھی۔

اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ لباسِ جسمانی ممنوع نہیں،

البتہ لباسِ تقویٰ اور لباسِ روحانی زیادہ بہتر ہے۔

اگر کسی نے اس لباسِ روحانی کو ترک کر دیا اور دنیاوی زیب و زینت کے پیچھے پڑ گیا،

تو وہ ملعونین کی فہرست میں شامل ہو گیا اور جہنم کا مستحق بن گیا۔


رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: لباسِ تقویٰ کی جزا

جو لوگ لباسِ تقویٰ سے محروم ہیں وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے

جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہو جائے،

اور ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں۔

اس لیے یہ لوگ ابدُ الآباد تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔

اور جو لباسِ تقویٰ سے ملبوس ہیں وہ ہمیشہ کی نعمتوں، راحتوں اور لذتوں میں رہیں گے۔

ان کے دلوں کی آپس کی کدورتیں بھی دور کر دی جائیں گی۔

لہٰذا لباسِ تقویٰ بہترین لباس ہے۔


رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: ایک تیسری جماعت

اس سے قبل دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا:

1. جو لباسِ تقویٰ میں ملبوس ہیں۔

2. جو لباسِ تقویٰ سے عاری ہیں۔

اب تیسری جماعت کا ذکر کیا جا رہا ہے —

جو اگرچہ لباسِ تقویٰ سے ملبوس نہیں،

مگر تعلیمِ صحیح کے مخالف بھی نہیں۔

اگر انہیں تعلیمِ صحیح نصیب ہو جائے تو وہ ضرور اس کی قدر کرتے ہیں۔

ایسے لوگ نہ جنت میں داخل ہوں گے، نہ جہنم میں،

بلکہ جنت اور جہنم کے درمیان مقامِ اعراف میں ٹھہرائے جائیں گے،

پھر روحانی ترقی کر کے جنت میں داخل ہوں گے۔


رکوع نمبر ۷ کا خلاصہ: تذکیر بآلاءِ اللہ سے دعوت الی الکتاب

رات دن کا بدل بدل کر آنا،

چاند اور سورج کا انسانوں کی خدمت میں مصروف رہنا،

ہوائیں بھیج کر بارش برسائی جانا —

یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں۔

ان نعمتوں کا بدلہ کیا یہ ہونا چاہئے کہ اپنے محسن کی ناشکری کی جائے؟

اس کی عبادت سے گریز کیا جائے؟

یا اس کی کتاب اور تعلیمات کا انکار کیا جائے؟

یہ تو بڑی احسان‌فراموشی ہے،

جسے کوئی بھی شریف آدمی پسند نہیں کرتا۔


رکوع نمبر ۸ تا ۱۱ کا خلاصہ: تذکیر بایامِ اللہ سے دعوت الی الکتاب

سابقہ اقوام مثلاً عاد، ثمود، قومِ نوح، قومِ شعیب، قومِ لوط وغیرہ کے واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔

ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو جھٹلایا،

رسولوں کی تکذیب کی،

اور آیاتِ الٰہی کا انکار کیا۔

نتیجتاً ان پر عذابِ الٰہی نازل ہوا۔

اگر تم بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے

تو تم پر بھی عذاب نازل ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی،

اور تم بھی دیکھتے ہی دیکھتے صفحۂ ہستی سے مٹ جاؤ گے۔


جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔//

🌼🌸🤲♥️🌹

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں