☁️🤮 تلفظ 🤮☁️
"آسمان کا تھوکا منھ پر آتا ہے"
(Āsmān kā thūkā muṅh par ātā hai) 🗣️🎙️
☁️🤮 معانی و مفہوم 🤮☁️
یہ محاورہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب:
کوئی کسی نیک، پاکیزہ یا بے قصور شخص پر الزام لگائے یا برائی کرے۔
وہ الزام یا برائی پلٹ کر خود اسی شخص پر لگ جائے اور اس کی بدنامی ہو جائے۔
بدزبانی یا بہتان کا انجام خود بہتان لگانے والے کو بھگتنا پڑے۔
🔹 سادہ الفاظ میں: دوسرے پر کیچڑ اچھالو تو خود ہی گندے ہو جاؤ گے۔ 😏
☁️🤮 موقع و محل 🤮☁️
یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:
کوئی بے گناہ کو بدنام کرنے کی کوشش کرے اور خود رسوا ہو جائے۔
چغل خور یا بہتان لگانے والے کی اصلیت کھل جائے۔
اخلاقی سبق دینے یا طنزیہ انداز میں کسی کو چپ کرایا جائے۔
مثال:
"اس نے پڑوسی کی بیوی پر الزام لگایا، پتہ چلا اس کی اپنی بیوی کا افیئر ہے۔۔۔ سچ میں آسمان کا تھوکا منھ پر آ گیا!" 😆
یا
"استاد پر رشوت لین کا الزام لگایا، ریکارڈنگ نکل آئی کہ خود طالب علم رشوت دے رہا تھا۔۔۔ تھوکا منھ پر!" 🎤
☁️🤮 تاریخ و واقعہ 🤮☁️
یہ محاورہ دیہی پنجاب، اتر پردیش اور اردو بولنے والے علاقوں میں بہت مشہور ہے۔ جب کوئی اوپر تھوکتا ہے تو ہوا کے ساتھ وہ خود اس کے منھ پر گرتا ہے۔ اسی قدرتی مثال سے یہ محاورہ بنا۔ اردو مزاح، نصیحت اور کہانیوں میں بہت استعمال ہوتا ہے۔ 🕰️📜
☁️🤮 پُر لطف قصہ 🤮☁️
گاؤں میں چاچا جی ہر وقت امام مسجد صاحب پر تنقید کرتے تھے کہ وہ رات کو دیر سے گھر جاتے ہیں۔
ایک دن چاچا جی خود رات 2 بجے کسی کے گھر سے نکلے تو گلی میں گر پڑے۔
اگلے دن پوری بستی میں خبر پھیل گئی۔
امام صاحب مسکراتے ہوئے بولے:
"چاچا جی، آسمان کا تھوکا منھ پر آتا ہے!" 😇
چاچا جی شرمندہ ہو کر بولے: "بس اب سے زبان بند!" 😂🙊

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں