🌻 قرعہ اندازی کی ایک مخصوص صورت کا حکم


 📿 قرعہ اندازی کی ایک مخصوص صورت کا حکم:

آجکل بعض جگہوں پر قرعہ اندازی/لکی ڈرا کا یہ طریقہ رائج ہے کہ اس کے لیے موٹر سائیکل وغیرہ متعین کی جاتی ہے کہ اس مہینے کی قرعہ اندازی کے لیے یہ موٹر سائیکل ہوگی، پھر لوگوں کو پانچ چھ ہزار کا ایک ٹکٹ فروخت کیا جاتا ہے، پھر  مہینے کے آخر میں قرعہ کے ذریعے ٹکٹ خریدنے والوں میں سے کسی ایک کا نام منتحب کرکے اس کو وہ موٹر سائیکل انعام میں دے دی جاتی ہے۔ جبکہ بعض جگہ اس کو جائز کرنے کے لیے یہ حیلہ اختیار کیا جاتا ہے کہ پانچ چھ ہزار کے عوض وہ ٹکٹ خریدنے والے کو شہد کا ڈبہ، یا بچوں کا اسکول بیگ، یا کوئی اور چیز دے دی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ دونوں صورتیں قِمار یعنی جوے کے حکم میں ہیں جو کہ حرام ہے۔ اور دوسری صورت میں اس سے بچنے کے لیے جو حیلہ اختیار کیا گیا ہے یہ بھی ناجائز ہے  بلکہ یہ بھی جوے ہی کے حکم میں ہے، کیونکہ پانچ چھ ہزار روپے کے مقابلے میں مذکورہ چیزوں کی قیمت کافی کم ہوتی ہے، اس لیے یہ قیمت ان کا پوری طرح عوض نہیں بن سکتی۔ نیز لوگوں کا مقصود مذکورہ چیزیں خریدنا نہیں ہوتا بلکہ اس قرعہ اندازی میں شامل ہونا ہوتا ہے، اس لیے یہ بھی جوا ہے جو کہ حرام ہے۔

☀️ سورة المائدة:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ  عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ  لَعَلَّکُمْ  تُفْلِحُوْنَ ﴿۹۰﴾

☀️ مصنَّف ابن أبي شیبة:

26693- حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَن لَيْثٍ، عَن طَاوُس قَالَ: كَانَ يَكْرَهُ الْقِمَارَ وَيَقُولُ: إِنَّهُ مِنَ الْمَيْسِرِ 

حَتَّى لَعِبِ الصِّبْيَانِ بِالْجَوْزِ وَالْكِعَابِ.

26694- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ سِيرِينَ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ يَوْمَ 

الْعِيدِ بالْمِرْبَد وَهُمْ يَتَقَامَرُونَ بِالْجَوْزِ فَقَالَ: يَا غِلْمَانُ، لَا تُقَامِرُوا؛ فَإِنَّ الْقِمَارَ مِنَ الْمَيْسِرِ.

26695- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ فِيهِ خَطَرٌ فَهُوَ مِنَ الْمَيْسِرِ.

26696- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن سُفْيَانَ، عَن لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ وَطَاوُس أَوِ اثْنَيْنِ مِنْهُمْ قَالَا: كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْقِمَارِ فَهُوَ مِنَ الْمَيْسِرِ حَتَّى لَعِبِ الصِّبْيَانِ بِالْجَوْزِ.

☀️ الموسوعة الفقهية الکویتية:

حُكْمُ مَيْسِرِ الْقِمَارِ: اتَّفَقَ الْفُقَهَاءُ عَلَى تَحْرِيمِ مَيْسِرِ الْقِمَارِ.

بحوث في قضايا فقهية معاصرة:

1- الجوائز على شراء المنتجات:

وإن النوع الأول من هذه الجوائز غالبا ما تُمنح على أساس القرعة ونحوها، لمشتري بضاعةٍ مخصوصةٍ أو منتجٍ مخصوص؛ فإن كثيرا من التجار يُعلنون جوائز يُوزّعونها على جملةٍ منتخبةٍ من المشترين الذين يشترون بضاعتهم، ويقع انتخاب المجازين إما عن طريق القرعة، أو على أساس أرقام الكوبونات التي توضع مع البضاعة. فمن اشترى بضاعةً حصل على كوبون، فلو وافق رقم كوبونه الرقمَ المنتخب للجائزة، استحق أن يحوز الجائزة المخصصة لذلك الرقم.

وإن حكم مثل هذه الجوائز أنها تجوز بشروط:

الشرط الأول: أن يقع شراء البضاعة بثمنِ مِثلِه، ولا يُزاد في ثمن البضاعة من أجل احتمال الحصول على الجوائز؛ وهذا لأنه إن زاد البائع على ثمن المثل، فالمقدار الزائد إنما يُدفع من قبل المشتري مقابل الجائزة المحتملة، فصارت الجائزة بمقابلٍ ماليٍّ فلم تَبْقَ تبرعا، وإن هذا المقابل المالي إنما وقع به المخاطرة، فصارت العملية قِمارا.

أما إذا بيعت البضاعة بثمن مثلها، فإن المشتري قد حصل على عوضٍ كاملٍ للثمن الذي بذله، ولم يُخاطر بشيء، فالجائزة التي يحصل عليها جائزةٌ بدون مقابل، فيدخل في التبرعات المشروعة.

الشرط الثاني: أن لا تُتخذ هذه الجوائز ذريعةً لترويج البضاعات المغشوشة؛ لأن الغش والخداع حرامٌ لا يجوز بحال.

الشرط الثالث: أن يكون المشتري يقصد شراء المنتج للانتفاع به، ولا يشتريه لمجرد ما يتوقع من الحصول على الجائزة؛ لأنه إن لم يكن يقصد شراء المنتج، فإن ما يبذله من الثمن، إنما يبذله من أجل الجائزة، فكأن فيه شبهةَ المخاطرة، فلا يخلو من شبهة القمار.

ويدخل في هذا النوع جميع الجوائز التي تُمنح من قبل التجار لعملائهم على أساس عددٍ معينٍ من التعاملات مثل: الجوائز التي تعطيها شركات الخطوط الجوية والفنادق الكبيرة على أساس النقاط التي تُحسب في حساب العميل، وكلما بلغت هذه النقاط إلى عددٍ معين، استحق العميل جائزةً معلومة. (البحث التاسع عشر: أحكام الجوائز: ص:158-159 ج:2 ط: دار القلم – دمشق)


✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم 

فاضل جامعہ دار العلوم کراچی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں