آج کی بات: لاتعلقی نفرت سے زیادہ بدترین سزا ہے


 آج کی بات


💬 "لاتعلقی نفرت سے زیادہ بدترین سزا ہے۔"

یہ جملہ صرف جذبات کا اظہار نہیں — یہ روحانی سردی، انسانی بے رحمی، اور رشتوں کی موت کا اعلان ہے۔ دنیا میں لوگ نفرت کو سب سے بڑا جذبہ سمجھتے ہیں، لیکن اسلام اور عقل دونوں کہتے ہیں: نفرت میں بھی جذبہ ہوتا ہے، لیکن لاتعلقی میں جذبہ تک نہیں ہوتا۔
نفرت کا مطلب ہے "تم سے نفرت ہے!"
لیکن لاتعلقی کا مطلب ہے "تمہارا وجود ہی میرے لیے بے معنی ہے۔"
اور وجود کو منسوخ کرنا، انسانیت کے خلاف سب سے بڑا جرم ہے۔ 💔


🌫️ لاتعلقی: جذبات کی موت

نفرت میں انسان کم از کم ردعمل دیتا ہے — چاہے وہ غلط ہو۔
لیکن لاتعلقی میں کوئی ردعمل نہیں ہوتا — نہ غصہ، نہ محبت، نہ دُکھ، نہ خوشی۔
وہ شخص جو لاتعلقی کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ دوسرے کو ایک شے کی طرح سمجھتا ہے — جیسے ہوا، جیسے دھول، جیسے کوئی چیز جو دیکھی بھی نہ جائے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا"
(صحیح مسلم: 2559)
"آپس میں حسد نہ کرو، نفرت نہ رکھو، اور ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو (لاتعلقی مت کرو) — بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بنو۔"

لفظ "تَدَابَرُوا" یعنی ایک دوسرے کی طرف پیٹھ پھیرنا — جو آج کی زبان میں "لاتعلقی" کہلاتی ہے۔
یعنی اسلام نے لاتعلقی کو نفرت سے بھی زیادہ سنگین جرم قرار دیا ہے، کیونکہ یہ رشتے کی آخری سانس ہے۔


📜 تاریخ کا درس: رسول اللہ ﷺ کا سلوک

مکہ کے کفار نے حضور ﷺ کے خلاف ہر قسم کی نفرت دکھائی:
— آپ ﷺ کو جھوٹا، دیوانہ، جادوگر کہا،
— آپ کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا،
— آپ کے گھر والوں کو ستایا۔

لیکن کیا حضور ﷺ نے لاتعلقی کا مظاہرہ کیا؟
نہیں!
آپ ﷺ نے ہر دشمن کے لیے دعا کی:

"اللّٰهم اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ"
"اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، کیونکہ وہ نہیں جانتے۔"

یہاں تک کہ جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا،
اور آپ ﷺ کے چچا کا جسم نا قابلِ شناخت ہو گیا،
تب بھی آپ ﷺ نے نفرت کی بجائے دُکھ کا اظہار کیا — نہ کہ لاتعلقی۔

کیونکہ لاتعلقی دل کو سخت کر دیتی ہے،
اور سخت دل والے کو اللہ کی رحمت سے دوری ہو جاتی ہے۔


💭 نفسیات اور رشتوں کی تباہی

جدید نفسیات کہتی ہے کہ "emotional neglect" (جذباتی غفلت) بچپن کی سب سے بڑی چوٹ ہے۔
اور بالغ زندگی میں، لاتعلقی رشتوں کو زہر دیتی ہے:
— شوہر اور بیوی کے درمیان لاتعلقی = گھر کی تباہی،
— والدین اور بچوں کے درمیان لاتعلقی = اعتماد کا خاتمہ،
— دوستوں کے درمیان لاتعلقی = وفاداری کی قبر۔

نفرت میں انسان کم از کم بہت کچھ کہہ سکتا ہے:

"میں تم سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ تم نے یہ کیا!"

لیکن لاتعلقی میں صرف ایک ہی پیغام ہوتا ہے:

"تمہارا وجود میرے لیے اتنا بھی اہم نہیں کہ میں تم سے نفرت کروں۔"

اور یہ انسان کی عزت نفس کے لیے سب سے بڑا ہتھیار ہے۔


💡 اسلامی حل: رحم کرو، غصہ کرو، مگر لاتعلقی نہ کرو

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ:

  • اگر تم غصے میں ہو، تو خاموش رہو — لیکن دل میں برداشت رکھو،
  • اگر تمہیں کوئی پسند نہیں، تو عدالت کے ساتھ پیش آؤ — لیکن انسانیت مت چھوڑو،
  • اور اگر رشتہ ختم کرنا پڑے، تو احسان کے ساتھ الگ ہو — نہ کہ سردی سے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَن صَدَدتُمْ عَن مَّسَاجِدِ اللَّهِ أَن تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾
(سورۃ المائدہ: 8)
"کسی قوم کی نفرت تمہیں اس بات پر اُکسا نہ دے کہ تم عدل سے روکھے ہو جاؤ۔ عدل کرو — یہ تقویٰ کے قریب تر ہے۔"

یعنی نفرت ہو یا لاتعلقی — دونوں کو عدل اور رحم سے روکنا چاہیے۔


🌅 خاتمہ: لاتعلقی = دل کی بے رحمی

نفرت میں دل زخمی ہوتا ہے،
لیکن لاتعلقی میں دل مر جاتا ہے۔
نفرت میں امید ہوتی ہے کہ شاید کل سُلجھ جائے،
لیکن لاتعلقی میں کل کا خیال ہی نہیں ہوتا۔

🌟 "نفرت کرنے والا تمہیں دیکھتا ہے — لاتعلقی والا تمہیں دیکھتا ہی نہیں۔
نفرت کرنے والا تم سے بات کرتا ہے — لاتعلقی والا تمہارے وجود کو ہی نظرانداز کر دیتا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ لاتعلقی نفرت سے کہیں زیادہ ظالمانہ ہے۔"

🤲 "اے اللہ! ہمارے دلوں کو لاتعلقی کی سردی سے بچا،
ہمیں وہ رحم عطا فرما جو غصے کو بھی انسانیت میں بدل دے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
جو دل لاتعلق ہو جاتا ہے، وہ اللہ کی رحمت سے بھی لاتعلق ہو جاتا ہے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں