آج کی بات: بے وقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے
✨ آج کی بات ✨
💬 "بے وقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔"
یہ جملہ صرف ایک سادہ مشاہدہ نہیں — یہ حکمت، احتیاط، اور روحانی حفاظت کا گہرا اصول ہے۔ دنیا میں لوگ رشتوں، ملاقاتوں، اور معاشرت کو ہمیشہ "اچھا" سمجھتے ہیں، لیکن اسلام اور عقل دونوں کہتے ہیں: صحبت کی کیفیت، مقدار سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
کیونکہ ایک بُرا ساتھی، سو اچھے خیالات کو مٹا سکتا ہے… جبکہ تنہائی میں بھی ایمان جگمگا سکتا ہے۔ 🌙🕯️
🧠 "بے وقوف" سے مراد کیا؟
یہاں "بے وقوف" سے مراد صرف وہ نہیں جو پڑھا لکھا نہ ہو — بلکہ وہ شخص ہے جس میں عقلِ سلیم، اخلاقی بصیرت، یا دینی ہدایت نہ ہو۔
وہ شخص جو:
- وقت کو ضائع کرتا ہو،
- گناہ کو ہلکا سمجھتا ہو،
- نیکی کو مذاق بناتا ہو،
- یا آپ کو اللہ سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ"
(مسند أحمد، صحیح لغیرہ)
"انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، سو ہر ایک تم میں سے غور کرے کہ وہ کس سے دوستی کرتا ہے۔"
یعنی دوستی صرف وقت گزارنے کا نام نہیں — یہ عقیدے، اخلاق، اور منزلِ آخرت کا اشتراک ہے۔
اور اگر یہ اشتراک نہ ہو، تو صحبت خطرناک ہو جاتی ہے۔
📜 تاریخ کی گواہی: فرعون کا مشیر
قرآن مجید میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے جب فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف اپنے مشیروں سے مشورہ مانگا۔
ایک شخص — جسے "مؤمنِ آلِ فرعون" کہا جاتا ہے — نے ہمت کر کے کہا:
"یَا قَوْمِ إِنَّمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ"
(سورۃ غافر: 39)
"اے میری قوم! یہ دنیا تو صرف ایک عارضی سامان ہے، اور آخرت ہی ہمیشہ کا گھر ہے۔"
اس شخص نے اپنی عقل، ہدایت، اور شجاعت سے ثابت کیا کہ سچا واقف شخص وہ ہے جو حق کی طرف بلائے — چاہے معاشرہ اسے "بے وقوف" ہی کیوں نہ کہے۔
اور جن لوگوں نے فرعون کی بے حسی اور ظلم کی تائید کی، وہ دنیا میں بھی تباہ ہوئے، اور آخرت میں بھی۔
یہی وجہ ہے کہ بے وقوف کی صحبت، تنہائی سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
🌿 تنہائی: کمزگی نہیں، بلکہ حکمت ہے
آج کے دور میں "تنہا" ہونا کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اسلام کہتا ہے:
"خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ"
(حدیث حسن)
"لوگوں میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔"
لیکن اگر آپ کا ساتھی آپ کو نفع کی بجائے نقصان پہنچا رہا ہو — آپ کے وقت، ایمان، اور اخلاق کو گھس رہا ہو — تو الگ ہو جانا ہی نفع ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:
"اجلِسْ في العُزلةِ، فإنَّكَ لا تدري مَن يُفسِدُ قلبَك."
"تنہائی میں بیٹھو، کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کون تمہارے دل کو بگاڑ دے گا۔"
یہ تنہائی خوف یا مایوسی کی نہیں، بلکہ حفاظت اور تزکیہ کی تنہائی ہے۔
جیسے شہد کا چھتہ، جو مکھیوں کے لیے محفوظ ہوتا ہے — ویسے ہی مومن کا دل بھی بُری صحبت سے محفوظ رہنا چاہیے۔ 🐝🍯
💡 عملی رہنمائی: کیسے پہچانیں کہ صحبت "بے وقوف" ہے؟
- کیا یہ شخص آپ کو اللہ کی یاد سے غافل کرتا ہے؟
- کیا آپ کی نیکیوں پر مذاق اُڑاتا ہے؟
- کیا وقت کا زیادہ تر حصہ فضول باتوں، غیبت، یا گناہ میں گزرتا ہے؟
- کیا آپ کے اندر اس کے ساتھ رہنے کے بعد بے چینی، شک، یا گناہ کا احساس بڑھتا ہے؟
اگر جواب "ہاں" ہے، تو یاد رکھیں:
اللہ نے آپ کو عقل دی ہے تاکہ آپ اپنی راہ خود چن سکیں — نہ کہ ہر راستے پر چلنے والے کے پیچھے بھاگیں۔ 🧭
🌅 خاتمہ: تنہائی میں بھی اللہ کی رفقت ہے
دنیا کہتی ہے: "دوست ضروری ہیں!"
لیکن اسلام کہتا ہے: "اللہ کافی ہے!"
﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾
(سورۃ الطلاق: 3)
"اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، وہی اس کے لیے کافی ہے۔"
تنہا ہونا مطلب یہ نہیں کہ آپ اکیلے ہیں۔
اگر آپ کا دل اللہ سے جُڑا ہوا ہے، تو آپ کروڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔
اور اگر آپ کا ساتھی آپ کو اللہ سے دور کر رہا ہے، تو وہ آپ کا دشمن ہے — چاہے وہ "دوست" کہلائے۔
🌟 "بے وقوف کی صحبت آپ کو دنیا میں برباد کر سکتی ہے،
لیکن تنہائی میں بھی اللہ آپ کو جنت تک پہنچا سکتا ہے۔"
تو آئیے، ہم اپنی صحبت کا حساب کتاب کریں۔
کیونکہ زندگی کی کامیابی دوستوں کی تعداد میں نہیں، ان کی کیفیت میں ہے۔ ❤️
🤲 "اے اللہ! ہمیں ایسے دوست عطا فرما جو ہمیں تیری راہ پر چلائیں،
اور اگر کوئی ہمیں تیری راہ سے روکے، تو ہمیں ہمت دے کہ ہم اس سے الگ ہو جائیں۔"

کوئی تبصرے نہیں: