💖✧༺♥༻∞˚سلسلہ اسماء الحسنٰی˚∞༺♥༻✧💖★➒⓿➊★💖 اَلْمُبِيْنُ ﷻ💖معنیٰ ومفہوم، فضائل و برکات اور اذکار و وظائف 💖
🌿 اَلْمُبِيْنُ – معنیٰ، مفہوم، فضائل، برکات، اذکار و وظائف 🌿
🔹 لغوی معنیٰ:
اَلْمُبِينُ (Al-Mubīn) کا مطلب ہے:
"صاف ظاہر کرنے والا، واضح بیان کرنے والا، روشن کرنے والا، حق کو کھول کر دکھانے والا۔"
یہ لفظ "بَانَ – يَبِينُ" سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں ظاہر ہونا یا ظاہر کرنا۔
پس اَلْمُبِينُ وہ ذات ہے جو ہر چیز کو واضح کرتی ہے، حق کو باطل سے جدا کر کے نمایاں کرتی ہے، اور اپنی قدرت کے نشانات کو سب کے سامنے روشن کر دیتی ہے۔
🌸 مفہوم و تشریح:
اللہ تعالیٰ اَلْمُبِينُ ہے —
یعنی وہی ذات ہے جو اپنی نشانیوں، احکام، اور کلام (قرآن) کے ذریعے حق کو آشکار کر دیتی ہے۔
اس کی قدرت، حکمت، اور رحمت ہر شے میں کھلی ہوئی ہے۔
-
وہ اپنے دین کو واضح کرتا ہے۔
-
اپنی مخلوق پر اپنی قدرت ظاہر کرتا ہے۔
-
اپنے بندوں کو حق و باطل کی تمیز بخشتا ہے۔
دنیا میں جتنا نظامِ کائنات، عدل، حسن، اور توازن ہے، وہ سب اَلْمُبِينُ کی صفات کا مظہر ہے۔
📖 قرآنی حوالہ:
يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ
"اس دن اللہ انہیں ان کا پورا بدلہ دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حقِ ظاہر کرنے والا ہے۔"
(سورۃ النور: 25)
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف حق کو واضح کرنے والا ہے بلکہ آخرت میں اپنے عدل کے ساتھ سب پر حق کو ظاہر کر دے گا۔
📜 حدیثِ مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ
"اے اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی پیروی کی توفیق دے، اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق دے۔"
(مسند احمد: 1398)
یہ دعا دراصل اللہ کے اسم اَلْمُبِينُ کی صفت کا تقاضا کرتی ہے — کہ وہ حق کو ہمارے لیے واضح فرما دے۔
✨ صفاتِ ربانی کی جھلک:
-
وہی حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔
-
وہی باطل کو مٹا دینے والا ہے۔
-
وہی دلوں کو بینائی دینے والا ہے۔
-
وہی اپنی نشانیوں سے اپنی ذات کو واضح کرنے والا ہے۔
🌿 فضائل و برکات:
-
دل میں بصیرت، فہم، اور روحانی روشنی پیدا ہوتی ہے۔
-
حق و باطل کی پہچان بڑھتی ہے۔
-
انسان کے فیصلے واضح اور درست ہوتے ہیں۔
-
اندھیروں، شک، اور الجھن سے نجات ملتی ہے۔
🕊 ذکر و ورد:
ذکر: "یَا مُبِينُ"
طریقہ:
جب دل میں الجھن، شک، یا کسی فیصلے میں تذبذب ہو،
تو دل کی توجہ کے ساتھ بار بار "یَا مُبِينُ" پڑھا جائے۔
اللہ تعالیٰ سچائی کو ظاہر فرما دیتا ہے۔
💫 روحانی اثرات:
-
دل میں روشنی اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
-
پیچیدہ معاملات میں حق واضح ہونے لگتا ہے۔
-
ظالم اور فریب کار کے مقابلے میں سچائی ظاہر ہو جاتی ہے۔
-
بندہ خود بھی حق کا نمائندہ اور عدل کا قائل بن جاتا ہے۔
📚 تصوف و معرفت میں مقام:
صوفیاء فرماتے ہیں:
"جب بندہ 'یَا مُبِينُ' کا ورد اخلاص سے کرتا ہے تو اللہ اس کے دل کے پردے ہٹا دیتا ہے، حقیقت اس پر روشن ہو جاتی ہے، اور وہ ظاہری دنیا سے آگے باطنی سچائیوں کو دیکھنے لگتا ہے۔"
"اَلْمُبِينُ" بندے کے لیے حق کی بصیرت اور باطن کی روشنی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
🌷 سبق آموز نکتہ:
جب دنیا کے حالات دھندلے ہوں،
جب سچ جھوٹ میں فرق نہ رہے،
تب "یَا مُبِينُ" کہہ کر اللہ سے دعا کرو —
کہ وہ حق کو تمہارے لیے واضح کر دے،
کیونکہ وہی حقِ ظاہر کرنے والا ہے۔
وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ
"اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حقِ ظاہر کرنے والا ہے۔"
(سورۃ النور: 25)

کوئی تبصرے نہیں: