🕌🛡️⚔️⭐معرکہٴ حق و باطل ⭐⚔️🛡️🕌🌴حصہ ہِفدہ 🌴
تذکرہ: امامِ عالی مقام ، نواسۂ رسول ، حضرت حسین ابن علی و اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم
🕌⭐🌴 یزید کی حرکت پر سفیرِ روم کی حیرت اور تنقید🌴⭐🕌
✍🏻 حماد حسن خان
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
☰☲☷ گذشتہ قسط☷☲☰
https://bit.ly/Haq-O-Batil16
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
جس وقت اہل ِ نبوت کے شہداء کے سروں کویزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو اس وقت دربار میں قیصرِ روم کا سفیر بھی موجود تھا۔وہ یہ سب دیکھ کر حیران ہوا اور معاملے کی تہہ تک نہ پہنچ سکا۔ آخر اس سے رہا نہ گیا اور پوچھنے لگا کہ بتاؤ تو سہی کہ یہ کس کا سر ہے جس کے لبوں پر یزید چھڑی مار رہا ہے۔
اور بڑے تفاخر و تمکنت سے کہہ رہا ہے کہ کاش بدر میں مرنے والے میرے بڑے آج زندہ ہوتے تو میں انہیں بتاتا کہ دیکھو ہم نے تمہارے قتل کا بدلہ نبی ﷺ کے خاندان سے لے لیا ہے اور معاملہ برابر کر دیا ہے۔
لوگوں نے بتایا کہ یہ ہمارے رسول ﷺ کا نواسہ ہے۔ عیسائی پر یہ سن کر کپکپی طاری ہو گئی اور وہ کہنے لگا۔
ظالمو! مجھے کوئی شبہ نہیں رہا کہ تم قدر نا شناس، ظالم اور دنیا پرست ہو ۔
ہمارے پاس ایک گرجے میں حضرت عیسی کی سواری کے ایک پاؤں کا نشان محفوظ ہے۔ہم سال ہا سال سے اس نشان کی تکریم کرتے آئے ہیں ۔اور جیسے تم کعبہ کی زیارت کو چلے جاتے ہو ہم بھی اس کی زیارت کو چل کر جاتے ہیں۔ہم تو اپنے نبی کی سواری کے نشان کو اپنی جان بنائے ہوئے ہیں ۔اور تم ہو کہ اپنے نبی ﷺ کے بیٹے کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہو۔(الصداعق المحرقہ)
ایک یہودی کی لعنت
یزید کے دربار میں ایک یہودی بھی موجود تھا ۔
اس نے بتایا کہ میں حضرت داؤد کی نسل سے ہوں ۔اب تک ستر پشتیں گزر چکی ہیں۔لیکن اس کے باوجود حضرت داؤد کے امتی میری بے حد تعظیم کرتے ہیں۔اور ایک تم ہو کہ اپنے نبی کے نواسے کو ہی بے دردی سے قتل کر دیا اور اس پر اترا رہے ہوجب کہ یہ تمہارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔اور اپنی اس بد بختی پر جتنا بھی تم ماتم کرو کم ہے۔(الصداعق المحرقہ)
یزید کی منافقانہ سیاست
حضرت امام حسین کا سرِ انور جب یزید کے دربار میں پہنچا تو یزید پہلے بہت خوش ہوا۔
اس کی نظر میں ابن زیاد کی قدر و منزلت بہت بڑھ گئی ۔چنانچہ یزید نے سب سے پہلے تو ابن زیاد کو انعام و اکرام سے نوازنے کا اعلان کیا ۔مگر تھوڑے عرصے کے بعد اسے معلوم ہو گیا کہ لوگوں کے دلوں میں اس اقدام سے میری ہیبت پیدا ہونے کے بجائے نفرت پیدا ہو گئی ہے اور لوگ سرِ عام مجھ پر لعن طعن کرنے لگ گئے ہیں۔اسے یہ احساس اب شدت سے ستانے لگا کہ جس اقتدار کی خاطر اس نے یہ مظالم ڈھائے ہیں وہ پھر بھی خطرے میں ہے کیوں کہ لوگوں کی نفرت کا لاوہ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
اور یہ سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا ۔چنانچہ اس گستاخ نے خونی واقعات پر یوں ندامت کا اظہار کرنا شروع کر دیا کہ:
خدا کی مار ہو ابن مرجانہ ( ابن زیاد ) پر جس نے میدان ِ کربلا میں اہل ِ بیت کی توہین کی۔ اور ان کے چیدہ چیدہ افراد کو قتل کیا۔اور نہایت سفاکی اور بے رحمی کا ثبوت دیا۔میں اس کے اس عمل پر خوش نہیں ہوں ۔
اگر وہ حسین کو زندہ لاتا تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔مگر اس ستمگر نے بہت جبر کیا اور ظلم و ستم کی انتہا کر دی ہے۔خدا اس پر لعنت کرے۔ وہ بہت بڑی لعنت و ملامت کا مستحق ہے۔
علامہ ابن کثیر نے البدایہ وا لنہایہ میں اس بات کو یوں بیان کیا ہے کہ جب ابن ِ زیاد نے حضرت امامِ حسین کو ان کے رفقا ء سمیت قتل کر دیا تو ان کے سروں کو یزید کے پاس بھیج دیا۔
یزید امامِ حسین کے قتل سے اول تو خوش ہوا اور اس کی وجہ سے ابن زیاد کی قدر و منزلت اس کی نظر میں زیادہ ہو گئی ۔مگر وہ خوشی پر زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا ۔بلکہ جلد نادم ہو گیا۔بیشک یزید نے ابن زیاد پر اس کے اس عمل کی وجہ سے لعنت تو کی اور اس کو بُرا بھلا کہا جیسا کہ ظاہر ہے ۔لیکن نہ تو اس نے ابنِ زیاد کی اس ناپاک حرکت پر معزول کیا اور نہ اس کو سزا دی۔
اور نہ کسی کو بھیج کر اس کا یہ شرم ناک عیب اس کو جتایا۔
یزید کی ان منافقانہ باتوں کی بنا پر جس میں اس نے ابن زیاد پر لعنت کی اور اس کو بُرا بھلا کہا ہے۔بعض نادان اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں کہ وہ قتلِ حسین سے خوش نہ تھا اور اسے اس واقعہ سے بے حد صدمہ پہنچا ۔ایسی سوچ رکھنے والے سے یہ سوال ہے کہ اگر یزید ابن زیاد کی اس کارروائی سے نا خوش تھا تو پھر اس نے ابن زیاد اور ابن سعد سے قصاص کیوں نہ لیا؟ قتل کا قصاص لینا تو دور کی بات ان کو معزول کیوں نہ کیا؟یا ان کے عہدوں میں کمی کیوں نہ کی؟ان سب صورتوں کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے ان سے باز پرس تک نہ کی اور نہ ہی کوئی سزا دی۔
یہ صورت ِ حال اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اندر سے خوش تھا اور ابن زیاد اور ابن سعد کی کارروائی کو حق بجانب جانتا تھا ۔بعد میں اس نے جو مگر مچھ کے آنسو بہائے اور باتیں کیں وہ سب اپنے سیاسی انجام سے بچنے اور اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کی تھیں کیونکہ قتلِ حسین نے اس کے تخت و اقتدار کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔اور یزید نے جو امامِ عالی مقام کے اور باقی شہداء کے سروں کے بارے میں کہا کہ انہیں دمشق کے بازاروں میں پھرایا جائے کیا یہی ہے وہ یزید جو قتلِ حسین پر ناخوش تھا ؟ اگر وہ خوش نہ تھا تو پھر کیا قتل ِ حسین کے بعد کوئی گنجائش رہ گئی تھی جو اس نے سروں کی نمائش کا بھی اہتمام کیا ۔
بے شک یزید ابن سعد اور ابن زیاد کی منافقانہ کارروائی پر دل و جان سے خوش تھا۔اور وہ ابنِ زیاد کو برا بھلا کہہ کے اور قتلِ حسین پر افسوس کا اظہا ر کر کے صرف اوپر سے لیپا پوتی کر رہا تھا تاکہ لوگ اس سے بد ظن نہ ہو جائیں۔اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ یزید کے حکم سے اہلِ بیت کے قافلے کو دمشق کے بازاروں میں پھرایا گیا۔شہداء کے سروں کی نمائش کی گئی اور نیزوں پر لٹکے ہوئے ان سروں کاجلوس نکالا گیا۔
اہلِ بیت کی مدینہ منورہ واپسی
صحابیِ رسول نعمان بن بشیر جو حضرت مسلم بن عقیل کے ساتھ کوفہ میں سختی نہ کرنے کی وجہ سے گورنری سے معزول کر دیے گئے تھے۔یزید نے انہیں اہل ِ بیت رسالت کا ہمدرد سمجھ کر بلایا اور کہا کہ حسین کے اہل و عیال کو عزت و احترام کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچانے کا انتظام کرو اور پھر اپنے آپ کو قتل ِ حسین سے بری ثابت کرنے لیے حضرت زین العابدین کو تنہائی میں بلا کر کہا کہ خدا کی لعنت ابن ِ زیاد پر ۔
اگر براہ ِ راست آپ کے والد کا اور میرا سامنا ہو جاتا تو جو کچھ وہ فرماتے میں منظور کر لیتا اور ان کو قتل کرنا ہرگز گوارہ نہ کرتا۔لیکن جو خدا کو منظور تھا وہ ہوا ۔اب آپ مدینہ منورہ تشریف لے جائیں۔
مجھ کو وہاں سے خط لکھتے رہیئے گا ۔جس کی ضرورت ہو گی مجھے خبر کیجیے گا(طبری)
حضرت نعمان بن بشیر کے ہمراہ تیس آدمیوں کا حفاظتی دستہ کیا گیا۔
وہ اہل ِ بیت کو لے کر مدینہ روانہ ہوئے۔اور راستہ بھر نہایت تعظیم و تکریم سے پیش آتے رہے۔
مدینہ طیبہ کے لوگوں کو واقعہ کربلا کی خبر پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔جب یہ ستم رسیدہ قافلہ مدینہ شہر میں داخل ہوا تو اس قافلے کو دیکھنے کے لیے تمام اہل ِ مدینہ اپنے گھروں سے نکل آئے۔حضرت اُم لقمان بن عقیل بن ابی طالب اپنے خاندان کی عورتوں کے ساتھ روتی ہوئی نکلیں۔
اور یہ اشعار پڑھے :
”لوگو! کیا جواب دو گے جب نبیٴ کریم ﷺ تم سے پوچھیں گے کہ تم نے آخری امت ہونے کے باوجود کیا کیا،میرے بعد میری اولاد اور اہل ِ بیت کے ساتھ، ان میں سے بعض کو تم نے اسیر کیا اوربعض کا خون بہایا۔میں نے تم کو جو نصیحت کی تھی کہ میرے بعد میرے قرابت داروں کے ساتھ بُرا سلوک نہ کرنا ....سب کی جزا یہ تو نہ تھی“(البدایہ و النہایہ۔
ابن اثیر)
تمام اہل ِ مدینہ حضرت محمد بن حنفیہ ، ام المومنین حضرت سلمہ اور خاندان کی دیگر خواتین بھی روتی ہوئی نکل آئیں ۔قافلہ سیدھا حضور بنیٴ کریم ﷺ کے روضہٴ اقدس پر حاضر ہوا۔ حضرت امام زین العابدین جو ابھی تک صبر و رضا کے پیکر بنے ہوئے خاموش تھے جیسے ہی ان کی نظر قبرِ انور پر پڑی بس اتنا ہی کہنا تھا کہ نانا جان اپنے نواسے کا سلام قبول فرمائیں...کہتے ہی ان کا صبر کا پیمانہ چھلک گیا۔
اور وہ اس طرح درد کے ساتھ روئے اور حالات بیان کرنا شروع کیے کہ کہرام برپا ہو گیا۔
حضرت امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد حضرت امام زین العابدین کی ہمیشہ یہ حالت رہی کہ آپ دن کو روزہ رکھتے اور رات کو اللہ کی عبادت میں گزار دیتے۔افطار کے وقت جب کھانا اور پانی سامنے آتا تو آپ فرماتے کہ میرے باپ اور بھائی بھوکے پیاسے شہید ہوئے۔
افسوس یہ کھانا اور پانی ان کو نہ ملا اور رونے لگتے۔یہاں تک کہ بمشکل چند لقمے اور چند گھونٹ پانی ہی پیتے۔اس میں بھی آپ کے آنسو مل جاتے تھے۔آپ کی آنکھوں سے کربلا کا تصور اور دل سے باپ اور بھائیوں کی یاد کبھی محو نہ ہوتی اور عمر بھر آنکھیں اشک بار ہی رہیں۔
سید الشہداء حضرت امامِ حسین کا سرِ انور کہاں دفن کیا گیا اس میں اختلاف ہے۔
مشہور یہ ہے کہ اسیرانِ کربلا کے ساتھ یزید نے آپ کے سر مبارک کو مدینہ طیبہ روانہ کیاجو سیدہ فاطمہ زہرہ یا حضرت امامِ حسن کے پہلومیں دفن کیاگیا۔
سرِ حسین کی اعجازی شان
یزید بد بخت کے حکم پر شہداء کے سر اور اسیران ِ کربلا کو تین روز تک دمشق کے بازاروں میں پھرایا گیا ۔
حضرت منہال بن عمرو سے مروی ہے کہ خدا کی قسم !میں نے حسین کے سر کو نیزے پر چڑھے ہوئے دیکھا اور میں اس وقت دمشق میں تھا ۔سر مبارک کے سامنے ایک آدمی سورة کہف پڑھ رہا تھا۔جب وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ( کیا تو نے جانا کہ بیشک اصحاب ِ کہف اور رقیم ہماری نشانیوں میں سے ایک عجوبہ تھے) پر پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے سر مبارک کو گویائی دی۔اس نے یہ واضح کہا کہ اصحاب ِ کہف کے واقعہ سے میرا قتل کیا جانا اور میرے سر کا نیزے پر اٹھائے جانا عجیب تر ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امامِ حسین کاقتل کیا جانا اور آپ کے سرِمبارک کو تن سے جدا کر کے نیزے پر چڑھا کر دمشق کے بازاروں میں پھرایا جانا یہ اصحابِ کہف کے واقعہ سے عجیب تر ہے۔کیوں کہ اصحابِ کہف نے تو کفر کے خوف سے اپنے گھر بار کو چھوڑا اور ترک ِ وطن کر کے ایک غار میں پناہ لی تھی۔مگر امامِ حسین اور ان کے اہل ِ بیت اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ جو ظلم و ستم اور ناروا سلوک ہوا وہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں ہوا جو اسلام اور ایمان کے دعوے دار تھے ۔
جبکہ حضرت امامِ حسین پیغمبر ِ اسلام ﷺ کے نواسے اور جگر کے ٹکڑے تھے۔اصحابِ کہف نے اگرچہ کئی سوسال کی نیند کے بعد اٹھ کر کلام کیا تھا ۔مگر بہرحال وہ زندہ تھے مگر حضرت امامِ حسین کے سرِ انور کاجسم ِ اقدس سے جدا ہو جانے کے کئی روز بعد بھی نیزے کی نوک پہ بولنا یقینا اصحابِ کہف کے واقعے سے عجیب تر ہے۔
معرکہٴ کربلا کے بعد یزید کی خباثت
حضرت امامِ حسین کی ذات مبارکہ یزید کی آزادیوں کے لیے بہت بڑی رکاوٹ تھی۔
آپ کی شہادت کے بعد وہ بالکل ہی بے لگام ہو گیا۔پھر تو ہر قسم کی بُرائیوں کا بازار گرم ہو گیا۔زنا، حرام کاری، بھائی بہن کا نکاح، سود اور شراب وغیرہ اعلانیہ طور پر رائج ہو گئے۔اور نمازوں کی پابندی اٹھ گئی۔پھر اس کی شیطانیت یہاں تک پہنچی کہ 63 ہجری میں مسلم بن عقبہ کو بارہ یا بیس ہزار لشکر کے ساتھ مدینہ طیبہ اور مکہ معظمہ پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔
اس بد بخت لشکر نے مدینہ منورہ میں وہ طوفان برپا کیا کہ الامان و الحفیظ۔قتل و غارت گری اور طرح طرح کے مظالم کا بازار گرم کیا ۔سات سو صحابہ کو بے گناہ شہید کیا۔ اور تابعین وغیرہ کو ملا کر دس ہزار سے زیادہ کو شہید کیا ۔لڑکوں کو قید کر لیا۔ سرکار ِ رحمت ِ دو عالم ﷺ کے روضئہ اقدس کی سخت بے حرمتی کی۔
مسجد ِ نبوی ﷺ میں گھوڑے باندھے ، ان کے لید اور پیشاب منبرِ اطہر پر پڑے۔
تین دن تک لوگ مسجد ِ نبوی ﷺ میں نماز سے مشرف نہ ہو سکے۔حضرت سعید بن مسیب جو بڑے تابعین میں سے تھے ،پاگل بن کر وہاں حاضر رہے۔آخر میں ظالموں نے انہیں بھی گرفتار کر لیا۔مگر پھر دیوانہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔خبیث لشکر نے ایک نوجوان کو پکڑ لیا۔ اس کی ماں نے آ کر مسلم بن عقبہ کو فریاد کی اور اس کی رہائی کے لیے بڑی عاجزی سے منت کی۔مسلم نے اس کے لڑکے کو بلا کر گردن مار دی۔
اور سر اس کی ماں کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا کہ تو اپنے زندہ ہونے کی غنیمت نہیں سمجھتی جو اپنے بیٹے کو لینے آ گئی۔ایک شخص کو جب قتل کیا گیا تو اس کی ماں ام ِ یزید بن عبد اللہ بن ربیعہ نے قسم کھائی کہ اگر میں قدرت پاؤں گی تو اس ظالم مسلم کو زندہ یا مردہ جلاؤں گی۔
جب وہ ظالم مدینہ منورہ میں قتل و غارت کے بعد مکہ معظمہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ وہاں جا کر حضرت عبد اللہ بن زبیر اور دوسرے لوگوں کا بھی کام تمام کر دیں جو یزید کے خلاف ہیں تو اتفاقاً اس پہ رستے میں فالج گرا اور مر گیا۔
اس کی جگہ یزید کے حکم کے مطابق حصین بن نمیر سکونی قائد ِ لشکر بنا ۔مسلم کو انہوں نے وہیں دفن کر دیا ۔جب یہ خبیث لشکر آگے بڑھا تو اس عورت کو مسلم کے مرنے کا پتہ چلا ۔وہ کچھ آدمیوں کو ساتھ لے کر اس کی قبر پر آئی تاکہ اس کو قبر سے نکال کر اس کو جلائے ۔جب قبر کھولی تو کیا دیکھتی ہے کہ ایک بڑا سا سانپ اس کی گردن سے لپٹا ہوا ہے اور اس کی ناک کی ہڈی کو پکڑے چوس رہا ہے۔
یہ دیکھ کر سب کے سب ڈرے اور اس عورت سے کہنے لگے ۔خدا تعالیٰ خود ہی اس کے اعمال کی سزا اس کو دے رہا ہے اور اس نے عذاب کا فرشتہ اس پر مسلط کر دیا ہے۔اس عورت نے کہا نہیں خدا کی قسم میں اپنے عہد اور قسم کو ضرور پورا کروں گی۔اور اس کو جلا کر اپنے دل کو ٹھنڈا کروں گی۔مجبور ہو کر سب نے کہا کہ اچھا اس کے پیروں کی طرف سے اس کو نکالنا چاہیے جب پیروں کی طرف سے مٹی ہٹائی تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کے پیروں کی طرف بھی ایک سانپ لپٹا ہوا ہے۔
پھر اس عورت سے سب نے کہا کہ اس کو چھوڑ دیں اس کے لیے یہی عذاب کافی ہے۔مگر وہ عورت نہ مانی۔وضو کر کے دو رکعت نماز اداکی اور اللہ کے حضور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی الہٰی تُو خوب جانتا ہے کہ اس ظالم پر میرا غصہ محض تیری رضا کے لیے ہے۔مجھے یہ قدرت دے کہ میں اپنی یہ قسم پوری کروں اور اسے جلاؤں ۔یہ دعا کر کے اس نے ایک لکڑی سانپ کی دم پہ ماری تو وہ گردن سے اتر کر چلا گیا۔پھر دوسرے سانپ کو ماری وہ بھی اتر کر چلا گیا۔تب انہوں نے مسلم کی لاش کو قبر سے نکالا اور جلا دیا۔
فضائلِ مدینہ
حضرت سعد سے روایت ہے کہ نبیٴ اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص اہل ِ مدینہ سے مکر و فریب کرے یا جنگ کرے تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جیسے کہ پانی میں نمک پگھلتا ہے۔
اور حضرت سعد بن وقاص سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مدینہ منورہ والوں سے بُرائی کا ارادہ کرے گا خدا تعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ میں (رانگا) کی طرح پگھلائے گا۔
اور حضرت سائب بن خلاد سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اہل ِ مدینہ کو اپنے ظلم سے خوفزدہ کیا خدا تعالیٰ اس کو خوف میں مبتلا کرے گا۔اور اس پر اللہ ، ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی نہ فرض عبادت قبول کرے گا نہ نوافل ۔
ان احادیث ِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ جو اہل مدینہ کو ڈرائے ، ان سے جنگ کرے اور ان پر ظلم ڈھائے بلکہ ان سے برائی کا ارادہ کرے تو خدائے تعالیٰ انہیں جہنم کی آگ میں (رانگا ) کی طرح پگھلائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور اس کی کوئی عبادت چاہے وہ فرض ہو یا نفل خدائے تعالیٰ قبول نہیں فرمائے گا۔
مکہ معظمہ پر حملہ
مسلم بن عقبہ کی ہلاکت کے بعد حصین بن نمیر جو شامی لشکر کا سپہ سالار مقرر ہوا اس نے مکہ معظمہ پہنچ کر حملہ کر دیا۔ اہل ِ مکہ جو حجاز والے یزید پلید کی بیعت کو توڑ کر حضرت عبد اللہ بن زبیر سے بیعت کر چکے تھے ۔ان کی فوج نے لشکر یزید کا مقابلہ کیا اور صبح سے شام تک لڑائی جاری رہی مگر فتح و شکست کا فیصلہ نہ ہوا ۔
دوسرے دن حصین بن نمیر نے منجیق( جو پتھر پھینکنے کی مشین ہوتی ہے) اسے کوہ ِ ابو قیس پر نصب کر کے پتھر برسانے شروع کیے۔ سنگ باری سے حرم شریف کا صحن مبارکہ پتھروں سے بھر گیا۔اس کے صدمہ سے مسجد ِ حرم کے ستون ٹوٹ گئے۔کعبہ شریف کی دیواریں شکستہ ہو گئیں اور چھت گر گئی۔شامی پتھر پھینکنے کے ساتھ روئی ، گندھک اور رال گولے بنا کر اور جلا کر پھینکنے لگے جس سے خانہ کعبہ میں آگ لگ گئی۔
اس کا غلاف جل گیا۔وہ دنبہ جو حضرت اسماعیل کی جگہ قربان کیا گیا تھا اس کے سینگ تبرک کے طور پر کعبہ شریف میں محفوظ تھے وہ بھی جل گئے۔حرم کے باشندوں کا گھروں سے نکلنا دشوار تھا۔ تقریبا ً دو ماہ تک وہ سخت مصیبت میں مبتلا رہے ۔
یہاں شامی لشکر کعبہ شریف کی بے حرمتی میں لگا ہوا تھا ۔ادھر شہرِحمص میں پندرہ ربیع الاول چونسٹھ ہجری کو انتالیس سال کی عمر میں یزید ہلاک ہو گیا ۔
سب سے پہلے یہ خبر حضرت عبد اللہ بن زبیر کو ملی انہوں نے بلند آواز سے پکار کر کہا۔اے شامی بد بختو! تمہارا گمراہ سردار یزید ہلاک ہو گیا ہے تو اب کیوں لڑ رہے ہو؟ شامیوں نے پہلے اس بات کو حضرت عبد اللہ بن زبیر کے فریب پر مجہول کیا لیکن تیسرے دن جب انہیں ثابت بن قیس نہعی نے کوفہ سے آ کر یزید کے مرنے کی خبر سنائی تو انہیں یقین ہوا۔اب ان کے حوصلے پست ہو گئے اور حضرت عبد اللہ بن زبیر کی فوج کے حوصلے بلند ہو گئے۔
وہ شامیوں پر ٹوٹ پڑے اور شامی بھاگے۔اس طرح اہل ِ مکہ کو ان کے شر سے پناہ ملی۔
یزید پلید نے کل تین برس سات ماہ حکومت کی ۔جب وہ قریہ ہوارین میں ہلاک ہوا تو اس کی موت پر ابن عروہ نے چند اشعار کہے۔جن کے معنی یہ ہیں:
اے بنی امیہ ! تمہارے بادشاہ کی لاش ہوارین میں پڑی ہے ۔موت نے ایسے وقت میں آ کر مارا جبکہ اس کے تکیے کے پاس کوزہ، شراب کا مشکیزہ سر بمہر لبالب بھرا ہوا رکھا تھا اور اس کے نشے سے مست ہونے والے پر ایک گانے والی سرنگی لیے رو رہی تھی۔
جو کبھی بیٹھ جاتی اور کبھی کھڑی ہو جاتی تھی۔
یزید کی موت کے بعد
حجاز و یمن اور عراق و خراسان والوں نے یزید کی موت کے بعد حضرت عبد اللہ بن زبیر کے دست ِ مبارک پر بیعت کی اور شام و مصر کے لوگوں نے یزید کے بیٹے معاویہ کو اس کا جانشین مقرر کیا ۔معاویہ اگرچہ یزید پلید کا بیٹا تھا ۔
مگر نیک و صالح تھا اور باپ کے بُرے کاموں سے نفرت کرتا تھا ۔ بیماری کی حالت میں اسے تخت پر بیٹھایا گیا جو آ خری دم تک بیمار ہی رہا ۔اس نے کسی طرف فوج کشی کی اور نہ کوئی دوسرا اہم کارنامہ سر انجام دیا۔یہاں تک کہ صرف چالیس روز ، دویا تین ماہ کی حکومت کے بعد اکیس سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔آخری وقت میں لوگوں نے کہا کہ کسی کو خلیفہ نامزد کر دیں ۔
معاویہ نے جواب دیا کہ میں نے خلافت میں کوئی حلاوت نہیں پائی تو پھر اس کی تلخی میں کسی دوسرے کو کیوں مبتلا کروں ؟؟معاویہ بن یزید کی موت کے بعد شام و مصر کے لوگوں نے بھی حضرت عبد اللہ بن زبیر کے دست ِ مبارک پر بیعت کر لی۔کچھ دنوں بعد مروان نے خفیہ سازشوں کے بعد مصر و شام پر قبضہ جما لیا ۔اور جب وہ مرنے لگا تو اپنے بیٹے عبد المالک کو اپنا جانشین بنا دیا ۔
جس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن زبیر فرمایا کرتے تھے کہ لوگ بیٹے پیدا کرتے ہیں مگر مروان نے اپنا باپ پیدا کیا ۔
عبد الملک دانش مند ، فقیہ اور قرآن و حدیث کا جاننے والا اور تخت نشین ہونے سے پہلے بہت بڑا عابد و زاہد تھا ۔اور مدینہ منورہ کے عبادت گزار لوگوں میں اس کا شمار ہوتا تھا ۔مگر بعد میں وہ بد عمل ہو گیا۔
یحییٰ غسانی کا بیان ہے کہ عبد الملک اکثر حضرت ام ِ دردہ کے پاس بیٹھا اٹھا کرتا تھا۔ایک دن ام دردہ نے فرمایا اے امیر المومنین!میں نے سنا ہے کہ تم عبادت گزار ہونے کے بعد شراب خور بن گئے ہو۔اس نے جواب دیا کہ شراب خوری کے ساتھ ساتھ خون خوار بھی ہو گیا ہوں۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::اگلی قسط :::::::::::::::>
https://bit.ly/Haq-O-Batil18