New Post/Thread Notification: Likhne Main Kiya Harj Hai

Hello,

Jafari2008 has just posted in the Likhne Main Kiya Harj Hai forum of ITDarasgah.com - Urdu Forum for IT Education & Information under the title of جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے : بائیبل کے کچھ نئے انکشافات.

This thread is located at http://www.itdarasgah.com/showthread.php?t=91803

Here is the message that has just been posted:
***************
:bism1:
::slm::
خواتین و حضرات!!!
کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، یعنی کہ جب کسی ایک ہی جھوٹی بات کو مختلف مواقع پر دہرایا جاتا ہے تو ہر بات کچھ نہ کچھ مختلف اور متضاد سامنے آتا ہے اور یہی اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ بیان کردہ بات جھوٹی ہے جبکہ سچ، سچ ہوتا ہے جب بھی اور جہاں بھی بیان کرو ہمیشہ یکساں رہتا ہے۔

برطانيہ کے ايک اسکالر بارٹ ڈي اہرمين کے مطابق بائبل کے کچھ حصے جعلي ہيں۔ يہ حصے بعض نامعلوم افراد کے لکھے ہوئے ہيں اور پيٹر، پال يا جيمس کے نام سے شائع کرديئے گئے ہيں۔ بارٹ کا کہناہے کہ بہت سے محققين جانتے ہيں کہ بائبل کے مختلف ايڈيشنوں ميں متعدد جھوٹ باتيں درج ہيں ليکن يہ محققين اپني شناخت چھپاتے ہيں جبکہ کچھ محققين علانيہ اس کا اظہار کرتے ہيں۔ بارٹ نے ہفنگٹن پوسٹ ميں لکھا ہے کہ جن 31۔ مکاتيب کو پال کے نام سے مشہور کردياگيا ہے، اُن ميں سے 6 مکاتيب جعلي ہيں اور کسي نامعلوم فرد نے لکھ کر بائبل ميں شامل کرديئے ہيں (ٹائمس آف انڈيا 28 مارچ) پال کے مرنے کے بعد بائبل کو مسخ کياگيا تھا۔ اسي طرح نيوٹيسٹ مينٹ کے مختلف ايڈيشنوں ميں متعدد تضادات موجود ہيں ۔ بارٹ ڈي اہرمين کو بائبل کا ممتاز محقق تصور کيا جاتا ہے ۔ اس کي دو کتابيں ''مِسکوٹنگ جيسس'' اور ''جيسس انٹرپٹيڈ'' بہت مشہور ہيں۔ ''بائبل کے نقلي مصنفين '' کے نام سے اس کي نئي کتاب حال ہي ميں شائع ہوئي ہے۔
يسوع مسيح اور مغربي دنيا

حضرت عيسيٰ مسيح کي ذات اور ان سے منسوب کتاب بائبل خود عيسائي دنيا ميں ہميشہ تنازعات کا باعث رہي ہے۔ ہرچند سال کے بعد حضرت مسيح کي ذات اور شخصيت کے بارے ميں کوئي نہ کوئي نيا انکشاف ہوتا ہے۔ چند سال قبل انکشاف کياگيا تھا کہ عيسيٰ مسيح نہ تو صليب پر چڑھائے گئے تھے اور نہ کنوارے تھے، بلکہ انھوں نے شادي کي تھي اور ان کي اولاد بھي تھي نيز يہ کہ ان کي نسل ابھي تک چلي آرہي ہے ۔ کرائسٹ کي ذاتي زندگي پر مغربي دنيا ميں متعدد فلميں بھي بنيں جن ميں کسي نہ کسي پہلو سے ان کي کردار کشي کي گئي، اسي طرح بائبل کے 41۔ مختلف ايڈيشن پائے گئے ہيں۔ ان ميں سے چار موجودہ دور ميں مروج ہيں اور يہ چاروں ايک دوسرے سے مختلف و متضاد ہيں۔ ايک پانچواں ايڈيشن برناباس کے نام سے منسوب ہے ليکن عيسائي محققين کہتے ہيں کہ کسي مسلمان کا ترتيب ديا ہوا ہے کيونکہ اس ميں حضرت مريم اور حضرت عيسيٰ کے کردار وہي ہيں جو اسلام کي کتاب قرآن ميں درج ہيں۔ نیز حضرت عيسيٰ مسيح کي تعليمات بھي بڑي حد تک قرآن کے مطابق ہيں۔

تراجم کے ساتھ يہ يہي ہوا ہے

بائبل يا نيوٹيسٹ منٹ کے بارے ميں خو دعيسائي محققين تسليم کرتے ہيں کہ وہ ان کي زندگي ميں مرتب نہيں ہوئي تھي بلکہ ان کے بعد سينٹ پال نے مرتب کي تھي۔ بائبل جس عبراني زبان ميں ترتيب دي گئي تھي وہ آج موجود نہيں ہے۔ سينٹ پال کے مرنے کے عرصۂ دراز بعد اس کا انگريزي ترجمہ شائع ہوا تھا۔ پھر اُس ترجمے سے مختلف تراجم ہوئے۔ آج کے دور ميں يہي تراجم مروج ہيں۔ پھر مختلف مغربي زبانوں ميں ان تراجم کے تراجم کئے گئے۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ آج بائبل اپني اصل شکل ميں موجود نہيں ہے۔ ايسا کوئي ايڈيشن دنيا ميں پايا نہيں جاتا نہ تاريخ ميں کبھي پاياگيا جس ميں ترجمہ کے ساتھ اصل متن بھي موجود ہو۔ بائبل کي يہ حالت اس لئے ہوئي کہ اس پر ايمان کا دعويٰ کرنے والي اقوام نے اس کي حفاظت نہيں کي۔ تراجم درتراجم ہوتے رہے اور ہر ترجمے کو بائبل سمجھ لياگيا۔ ہر مذہبي کتاب کے ساتھ يہي ہوا ہے۔ اس لئے قرآن کے ترجمے کے ساتھ عربي متن کا شائع ہونا لازمي ہے۔

***************

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں