تنبیہِ الٰہی اور قساوتِ قلبی کا انجام


 

تنبیہِ الٰہی اور قساوتِ قلبی کا انجام

"جب آدمی اللہ کی طرف سے آئی ہوئی تنبیہات کو نظر انداز کر دے تو اس کے بعد اس کے بارے میں اللہ کا انداز بدل جاتا ہے۔"

سبق نمبر 36

آیاتِ مبارکہ

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَـٰهُم بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ فَلَوْلَآ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا۟ وَلَـٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَٰبَ كُلِّ شَىْءٍۢ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُوا۟ بِمَآ أُوتُوا۟ أَخَذْنَـٰهُم بَغْتَةًۭ فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ۚ وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ (سورۃ الأنعام: آیات 42 تا 45)


ترجمہ

"اور تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے۔ پھر ہم نے اُن کو پکڑا سختی میں اور تکلیف میں تاکہ وہ گِڑگِڑائیں۔ پس جب ہماری طرف سے اُن پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گِڑگِڑائے؟ بلکہ اُن کے دل سخت ہو گئے، اور شیطان ان کے عمل کو ان کی نظر میں خوشنما کر کے دکھاتا رہا۔ پھر جب انھوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو اُن کو کی گئی تھی، تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر خوش ہو گئے جو انہیں دی گئی تھی، تو ہم نے اچانک اُن کو پکڑ لیا۔ اس وقت وہ ناامید ہو گئے۔ پس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا، اور ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔"


تشریح و بصیرت

آدمی کے سامنے جب حق آتا ہے اور وہ اسے نہیں مانتا، تو اللہ اسے فوراً نہیں پکڑتا بلکہ اسے مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے۔

  • حوادث کی حقیقت: زندگی کے حوادث محض اتفاقات نہیں، بلکہ اللہ کے محسوس پیغامات ہیں تاکہ غفلت میں سوئے انسان کو جگایا جا سکے۔

  • شیطانی توجیہات: اکثر لوگ نصیحت لینے کے بجائے اسے "وقت کا اتار چڑھاؤ" کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ شیطان خوشنما توجیہات پیش کر کے ذہن کو غفلت کی طرف پھیر دیتا ہے۔

  • قساوت: بار بار حق کو نظر انداز کرنے سے دل کی حساسیت ختم ہو جاتی ہے اور انسان بے حسی (قساوت) کا شکار ہو جاتا ہے۔


استدراج: کامیابی کے روپ میں سزا

جب آدمی تنبیہات کو مسلسل نظر انداز کرتا ہے، تو اللہ کا انداز بدل جاتا ہے:

  1. آسانیوں کے دروازے: اس پر کامیابیوں، خوشحالی اور مقبولیت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

  2. خطرناک مہلت: یہ درحقیقت ایک سزا ہے تاکہ اس کی بے حسی اور ڈھیٹ پن اپنے انجام کو پہنچ جائے اور اللہ کی سزا کا استحقاق پوری طرح ثابت ہو جائے۔

  3. اچانک پکڑ: جب وہ اپنی دنیوی ترقی پر پوری طرح مطمئن ہو جاتا ہے، تو اچانک اللہ کا عذاب اسے دبوچ لیتا ہے اور اسے آخرت کی عدالت میں حاضر کر دیا جاتا ہے۔


عظمتِ الٰہی اور انسانی ظلم

یہ دنیا اللہ کی ہے اور یہاں ہر قسم کی بڑائی کا حق صرف اسی کو حاصل ہے۔

  • سب سے بڑا ظلم: جب کوئی شخص اللہ کے حق کو نظر انداز کرتا ہے، تو وہ اللہ کی ناقدری کرتا ہے اور اپنی عظمت قائم کرنا چاہتا ہے۔

  • مطلوبہ رویہ: اللہ کے سامنے عجز کے سوا کوئی دوسرا رویہ انسان کے لیے درست نہیں۔ جو اس کے سامنے گستاخی کرتا ہے، وہ اپنی جڑ کاٹ لیتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں