🌹 سلسلہ اسماءُ المصطفیٰ ﷺ 🌹
قسط نمبر 32
✦ اسمِ مبارک: الحَاكِمُ ﷺ ✦
(بطورِ وصفی لقب — قرآنی و حدیثی مفہوم سے ثابت)
✦ تمہید
“الحاکم” کا لقب نبی کریم ﷺ کی اس شان کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ ﷺ نہ صرف مبلغ اور معلم ہیں بلکہ فیصلہ کرنے والے، قاضی اور حاکم بھی ہیں۔
مدینہ منورہ میں آپ ﷺ نے ایک مکمل معاشرہ قائم فرمایا جہاں آپ ﷺ آخری اتھارٹی اور منصف تھے۔
✦ لغوی تحقیق
الحَاكِمُ
مادہ: ح ك م
معنی:
- فیصلہ کرنے والا
- حکم دینے والا
- عدل قائم کرنے والا
“حکم” کا تعلق صرف اقتدار سے نہیں بلکہ عدل و انصاف سے ہے۔
✦ قرآنی تحقیق
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
﴿إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ﴾
(النساء: 105)
﴿فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ﴾
(المائدہ: 49)
📌 ان آیات میں نبی ﷺ کو واضح طور پر حکم (فیصلہ کرنے) کا منصب دیا گیا ہے،
اگرچہ لفظ “الحاکم” بطورِ لقب صراحتاً نہیں آیا۔
✦ حدیثی شواہد
نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا:
“إذا حكم الحاكم فاجتهد…”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہاں “حاکم” کا لفظ عمومی ہے، مگر عملی طور پر سب سے اعلیٰ حاکم نبی ﷺ ہی تھے۔
✦ سیرت کی عملی مثالیں
1️⃣ یہودی کا مقدمہ
نبی ﷺ نے تورات کے مطابق فیصلہ دیا — مکمل عدل کے ساتھ۔
2️⃣ زنا کا مقدمہ (ماعزؓ)
حد جاری کی، مگر بار بار رجوع کا موقع دیا — عدل اور رحمت کا امتزاج۔
3️⃣ خانہ کعبہ میں حجرِ اسود کا فیصلہ
قبائل کے درمیان تنازعہ کو حکمت سے حل کیا۔
✦ درجہ (تحقیقی نتیجہ)
الحَاكِمُ ﷺ
❌ قرآن میں بطورِ مستقل لقب صراحتاً وارد نہیں
❌ حدیث میں بطورِ مستقل اسم صریح نہیں
✔️ قرآن میں حکم و قضاء کا منصب واضح
✔️ سیرت میں بطورِ حاکم و قاضی عملی ثبوت
📌 درجہ: قرآنی منصب اور سیرت سے ثابت وصفی لقب
✦ مفہوم کی گہرائی
نبی کریم ﷺ “الحاکم” ہیں کیونکہ:
- آپ ﷺ نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کیے
- ذاتی خواہش کو کبھی دخل نہ دیا
- عدل کو ہر حال میں قائم رکھا
✦ روحانی پیغام
اگر رسول اللہ ﷺ “الحاکم” ہیں،
تو امت کو:
- انصاف قائم کرنا چاہیے
- ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے چاہئیں
- قرآن و سنت کو معیار بنانا چاہیے
✦ خلاصہ
“الحاکم ﷺ” بطورِ مستقل نصّی اسم ثابت نہیں،
لیکن قرآن و سیرت کی روشنی میں یہ ایک مضبوط وصفی لقب ہے،
جو نبی کریم ﷺ کی عدل، قضاء اور قیادت کی شان کو ظاہر کرتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں