مسجد کی اہمیت اور اہلِ ایمان کی صفات


 

مسجد کی اہمیت اور اہلِ ایمان کی صفات

"انسانی جسم میں جو مقام دل کا ہے، وہی مقام انسانی بستی میں مسجد کا ہے۔ انسان کا دل ایمان سے آباد ہوتا ہے اور مسجد اللہ کی عبادت سے آباد ہوتی ہے۔"

سبق نمبر 33

آیاتِ مبارکہ

﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ ٱللَّهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا ٱسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُۥ فِيهَا بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْآصَالِ ۝٣٦ رِجَالٌۭ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَـٰرَةٌۭ وَلَا بَيْعٌۭ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَإِقَامِ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءِ ٱلزَّكَوٰةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًۭا تَتَقَلَّبُ فِيهِ ٱلْقُلُوبُ وَٱلْأَبْصَـٰرُ ۝٣٧ لِيَجْزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا۟ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍۢ ۝٣٨﴾ (سورۃ النور: آیات ۳۶ تا ۳۸)


ترجمہ

ایسے گھروں میں جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے، ان میں صبح و شام ایسے مرد اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں نہ تجارت اور نہ خرید و فروخت اللہ کے ذکر، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غافل کرتی ہے۔ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ تاکہ اللہ انہیں ان کے بہترین اعمال کا بدلہ دے اور انہیں اپنے فضل سے اور زیادہ عطا فرمائے، اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔


تشریح و بصیرت

انسانی جسم میں جو مقام دل کا ہے، وہی مقام انسانی بستی میں مسجد کا ہے۔

  • آبادی کا معیار: انسان کا دل ایمان سے آباد ہوتا ہے اور مسجد اللہ کی عبادت سے آباد ہوتی ہے۔

  • مقصدِ تعمیر: مسجد اللہ کا گھر ہے، وہ اسی لیے بنائی جاتی ہے کہ وہاں اللہ کی یاد کی جائے۔

  • اہلِ مسجد: وہاں آنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس لیے آتے ہیں کہ وہاں کے روحانی ماحول میں اللہ کی طرف متوجہ ہو سکیں۔ وہ اس لیے آتے ہیں کہ اپنے آپ کو یکسو کرکے کچھ وقت اللہ کی عبادت میں گزاریں۔


ایمان اور ہیبتِ الٰہی

جس انسان کو یہ توفیق ملے کہ وہ اپنی فطرت کی آواز کو پہچان کر اللہ پر ایمان لائے، اور پھر وہ اپنے آپ کو مسجد والے اعمال میں مشغول کرلے:

  1. سب سے بڑی نعمت: اس کے دل میں اللہ اپنی ہیبت کا احساس ڈال دیتا ہے، جو موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔

  2. قربانی اور تقویٰ: یہی وہ لوگ ہیں جو قربانی کی سطح پر پرہیزگاری کو اختیار کرتے ہیں اور غیر اللہ سے کٹ کر اللہ والے بنتے ہیں۔


انعامِ الٰہی

یہی وہ انسان ہے جو اللہ کے یہاں بہترین انعام کا مستحق ہے۔ اللہ اسے بے حساب فضل عطا فرمائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں