خوش فہمیاں بمقابلہ حقیقت: اللہ کی رحمت کا حقدار
"اللہ کا وہ بندہ کون ہے جس پر اللہ اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا؟"
سبق نمبر 31
آیاتِ مبارکہ
لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (123) وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا (124) وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَٱتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًا ۗ وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبْرَٰهِيمَ خَلِيلًا (125) وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ مُّحِيطًۭا (126) (سورۃ النساء: آیات 123 تا 126)
ترجمہ
نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے اور نہ اہلِ کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برا عمل کرے گا، اسے اس کی سزا دی جائے گی، اور وہ اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مددگار۔ اور جو نیک عمل کرے گا، مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مؤمن ہو، تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔ اور دین میں اس سے بہتر کون ہوگا جس نے اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دیا، وہ نیکی کرنے والا بھی ہو، اور ابراہیمؑ کے یکسو دین کی پیروی کرے — اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا تھا۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ سب اللہ ہی کا ہے، اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
تشریح و بصیرت
اللہ اور آخرت کو ماننے والے لوگ جب دنیا پرستی میں غرق ہوتے ہیں تو وہ اللہ اور آخرت کا انکار کر کے ایسا نہیں کرتے، وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ:
آخرت کا درجہ: آخرت کے معاملہ کو رسمی عقیدہ کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔
عملی جدوجہد: عملاً اپنی تمام محنتیں اور سرگرمیاں دنیا کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔
سنجیدگی کا فرق: دنیا کی عزت اور فائدے کے لیے وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتے ہیں، مگر آخرت کی کامیابی کے لیے صرف خوش فہمیاں ان کو کافی نظر آنے لگتی ہیں۔
خوش خیالیوں کا فریب
کسی بزرگ کی سفارش، کسی بڑے گروہ سے وابستگی، یا کچھ پاک کلمات کا ورد — ان سطحی اعمال سے یہ امید قائم کر لی جاتی ہے کہ یہ جہنم سے بچا کر جنت میں لے جائیں گے۔
اللہ کا نظام حد درجہ محکم نظام ہے، اس کے یہاں تمام فیصلے حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ محض آرزوؤں کی بنیاد پر۔ اللہ کی عدالت میں ہر آدمی کا اپنا عمل دیکھا جائے گا، اور جیسا جس کا عمل ہوگا، ٹھیک اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔
تاریخی مثال: حضرت ابراہیم علیہ السلام
اللہ کا وہ بندہ کون ہے جس پر اللہ اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا؟ اس کی ایک بہترین مثال ابراہیم علیہ السلام ہیں۔
یکسوئی: انہوں نے اپنے آپ کو ہمہ تن اپنے رب کی طرف یکسو کر لیا۔
وفاداری: اپنی تمام وفاداریاں اللہ کے لیے خاص کر دیں۔
پورے وجود کی سپردگی: چہرہ اللہ کی طرف پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کو اللہ کی طرف پھیر دے۔
حقیقتِ حال
اللہ تمام کائنات کا مالک ہے، مگر اس نے اپنے آپ کو غیب کے پردے میں چھپا دیا ہے۔
خرابیوں کا سبب: دنیا میں خرابیاں اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی اللہ کو نہیں دیکھتا اور خود کو آزاد سمجھ لیتا ہے۔
کاش انسان جان لے: اگر آدمی یہ جان لے کہ انسان کے اختیار میں کچھ نہیں، تو آدمی پر جو کچھ قیامت کے دن بیتنے والا ہے، وہ اس پر آج ہی بیت جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں