🗣️ محاورہ: "اُشقلے چھوڑنا"
🗣️ تلفظ (Ushqaly chhoṛnā) 🎙️
📖 معانی و مفہوم اس محاورے کا مطلب ہے کہ:
کوئی ایسی بات یا خبر مشہور کر دینا جس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ ❌🗞️
لوگوں میں سنسنی پھیلانے کے لیے کوئی من گھڑت شوشہ چھوڑنا۔
فتنہ و فساد یا شرارت کے طور پر کوئی جھوٹی افواہ اڑانا۔
🔹 سادہ الفاظ میں: شوشہ چھوڑنا یا افواہ سازی کرنا۔ 🌬️💬
📍 موقع و محل یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:
کوئی شخص محفل میں بیٹھے بیٹھے اچانک کوئی عجیب و غریب بات کہہ دے جس سے سب پریشان ہو جائیں۔
سیاسی یا سماجی حلقوں میں کسی کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی خبر پھیلائی جائے۔
جب کسی کی عادت ہو کہ وہ ہر وقت نئی نئی شرارتیں گھڑتا رہتا ہو۔
مثال: "اس کی باتوں پر یقین نہ کرو، اسے تو ہر وقت نئے نئے اُشقلے چھوڑنے کی عادت ہے!" 🤨
📜 تاریخ و پس منظر "اُشقلہ" غالباً "شوشہ" یا کسی انوکھی بات کے معنوں میں مستعمل ہے۔ قدیم اردو میں اسے "اشگلہ" بھی کہا جاتا تھا۔ یہ محاورہ ان لوگوں کی عکاسی کرتا ہے جو خاموشی اور سکون کو برداشت نہیں کر پاتے اور معاشرے میں کوئی ایسی لہر پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے سب کی توجہ ان کی طرف ہو جائے، خواہ وہ بات جھوٹ پر ہی مبنی کیوں نہ ہو۔ 🕰️📜
🎭 پُر لطف قصہ ایک صاحب اپنی گپ بازی کے لیے بہت مشہور تھے۔ ایک دن وہ گاؤں کے چوپال میں آئے اور بڑے پراسرار انداز میں بولے: "سنا ہے حکومت ہر اس بندے کو انعام دے گی جس کے پاس کالے رنگ کی بکری ہوگی!" 🐐💰 پھر کیا تھا، پورے گاؤں میں افرا تفری مچ گئی، لوگوں نے مہنگے داموں کالی بکریاں خریدنا شروع کر دیں۔ ہفتے بعد پتہ چلا کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں تھی۔ جب ان صاحب سے پوچھا گیا تو وہ ہنس کر بولے: "بھئی! میں تو بس دیکھ رہا تھا کہ تم لوگ کتنے سادہ ہو، میں نے تو ذرا سا اُشقلہ چھوڑا تھا اور تم لوگوں نے اسے سچ مان لیا!" گاؤں کے نمبردار نے سر پکڑ کر کہا: "تمہارے اشقلوں نے تو ہمیں بکریوں کا چرواہا بنا دیا!" 😂

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں