معارف الحدیث - کتاب الحج - حدیث نمبر 1013
عَنْ طَلْحَةَ بن عبيد الله بن كريز أن رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا رَأَى الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ ، وَلَا أَدْحَرُ ، وَلَا أَحْقَرُوَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِىْ يَوْمِ عَرَفَةَ ، وَمَا ذَاكَ اِلَّا لِمَا يَرَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللهِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ. (رواه مالك مرسلا)
شیطان سب سے زیادہ ذلیل و خوار، دھتکارا اور پھٹکارا ہوا اور جلا بھنا ہوا کس روز ہوتا ہے؟
طلحہ بن عبیداللہ بن کریز (تابعی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: شیطان کسی دن بھی اتنا ذلیل خوار، اتنا دھتکارا اور پھٹکارا ہوا اور اتنا جلا بھنا ہوا نہیں دیکھا گیا جتنا کہ وہ عرفہ کے دن ذلیل و خوار رو سیاہ اور جلا بھنا دیکھا جاتا ہے اور یہ صرف اس لیے کہ وہ اس دن کی رحمت کو (موسلا دھار) برستے ہوئے اور بڑے بڑے گناہوں کی معافی کا فیصلہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے (اور یہ اس لعین کے لیے ناقابل برداشت ہے)۔ (موطا امام مالک مرسلاً)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں