🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴45🌴


 🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴45🌴

سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

اذان کی تصدیق اور یہودیوں کے سوالات


📢 حضرت عمرؓ کی اذان کی تصدیق

جونہی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان گونجی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے — وہ جلدی سے چادر سنبھالتے ہوئے اُٹھے اور تیز تیز چلتے مسجد نبوی میں پہنچے۔

مسجد میں پہنچ کر انہیں حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کے بارے میں معلوم ہوا — تو انھوں نے عرض کیا:

"اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے — میں نے بھی بالکل یہی خواب دیکھا ہے۔"

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبانی خواب کی تصدیق سن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"اللہ کا شکر ہے۔"


🔔 دیگر مواقع پر اعلان

اب پانچوں وقت کی نمازوں کے لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے۔

ان پانچ نمازوں کے علاوہ کسی موقع پر لوگوں کو جمع کرنا ہوتا — مثلاً سورج گرہن اور چاند گرہن ہو جاتا — یا بارش طلب کرنے کے لیے نماز پڑھنی ہوتی — تو وہ "الصلاۃ جامعۃ" کہہ کر اعلان کرتے تھے۔

اس طرح نبی اکرم ﷺ کے زمانے تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ موذن رہے — ان کی غیر موجودگی میں حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے۔


📜 یہودیوں کی پہلے کی پیش گوئیاں اور پھر انکار

آنحضرت ﷺ کے ظہور سے پہلے — مدینہ منورہ کے یہودی قبیلہ اوس اور قبیلہ خزرج کے لوگوں سے یہ کہا کرتے تھے:

"بہت جلد ایک نبی ظاہر ہوں گے — ان کی ایسی ایسی صفات ہوں گی (یعنی حضور ﷺ کی نشانیاں بتایا کرتے تھے) — ہم ان کے ساتھ مل کر تم لوگوں کو سابقہ قوموں کی طرح تہس نہس کر دیں گے — جس طرح قوم عاد اور قوم ثمود کو تباہ کیا گیا — ہم بھی تم لوگوں کو اسی طرح تباہ کر دیں گے۔"

جب نبی پاک ﷺ کا ظہور مبارک ہو گیا — تو یہی یہود حضور پاک ﷺ کے خلاف ہو گئے اور سازشیں کرنے لگے۔

جب اوس اور خزرج کے لوگ اسلام کے دامن میں آ گئے — تو بعض صحابہ نے ان یہودیوں سے کہا:

"اے یہودیو! تم تو ہم سے کہا کرتے تھے کہ ایک نبی ظاہر ہونے والے ہیں — ان کی ایسی ایسی صفات ہوں گی — ہم ان پر ایمان لا کر تم لوگوں کو تباہ و برباد کر دیں گے — لیکن اب جبکہ ان کا ظہور ہو گیا ہے — تو تم ان پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ تم تو ہمیں نبی کریم ﷺ کا حلیہ تک بتایا کرتے تھے۔"

صحابہ کرام نے جب یہ بات کہی — تو یہودیوں میں سلام بن مشکم بھی تھا — یہ قبیلہ بنی نضیر کے بڑے آدمیوں میں سے تھا — اس نے ان کی یہ بات سن کر کہا:

"ان میں وہ نشانیاں نہیں ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے تھے۔"

اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 89 نازل فرمائی:

"اور جب انہیں کتاب پہنچی (یعنی قرآن) جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کی بھی تصدیق کرنے والی ہے جو پہلے سے ان کے پاس ہے یعنی تورات — حالانکہ اس سے پہلے وہ خود (اس نبی کے وسیلے سے) کفار کے خلاف اللہ سے مدد طلب کرتے تھے — پھر وہ چیز آ پہنچی جس کو وہ خود جانتے پہچانتے تھے (یعنی حضور ﷺ کی نبوت) — تو اس کا صاف انکار کر بیٹھے — بس اللہ کی مار ہو ایسے کافروں پر۔"


🗣️ مالک بن صیف کے ساتھ گفتگو

اس بارے میں ایک روایت میں ہے کہ ایک رات حضور نبی کریم ﷺ نے یہودیوں کے ایک بڑے سردار مالک بن صیف سے فرمایا:

"میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں — جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل فرمائی — کیا تورات میں یہ بات موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ موٹے تازے 'حبر' یعنی یہودی راہب سے نفرت کرتا ہے — کیونکہ تم بھی ایسے ہی موٹے تازے ہو — تم وہ مال کھا کھا کر موٹے ہوئے جو تمہیں یہودی لا لا کر دیتے ہیں۔"

یہ بات سن کر مالک بن صیف بگڑ گیا اور بول اٹھا:

"اللہ تعالیٰ نے کسی بھی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری۔"

گویا اس طرح اس نے خود حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب تورات کا بھی انکار کر دیا — اور ایسا صرف جھنجھلاہٹ کی وجہ سے کہا۔

دوسرے یہودی اس پر بگڑے — انھوں نے اس سے کہا: "یہ ہم نے تمہارے بارے میں کیا سنا ہے؟"

جواب میں اس نے کہا:
"محمد نے مجھے غصہ دلایا تھا — بس میں نے غصے میں یہ بات کہہ دی۔"

یہودیوں نے اس کی اس بات کو معاف نہ کیا اور اسے سرداری سے ہٹا دیا — اس کی جگہ کعب بن اشرف کو اپنا سردار مقرر کیا۔


❓ یہودیوں کے مشکل سوالات

اب یہودیوں نے حضور اکرم ﷺ کو تنگ کرنا شروع کر دیا — ایسے سوالات پوچھنے کی کوشش کرنے لگے جن کے جوابات ان کے خیال میں آپ ﷺ نہ دے سکیں گے۔

1. روح کے بارے میں سوال

ایک روز انھوں نے پوچھا:

"اے محمد ﷺ! آپ ہمیں بتائیں — روح کیا چیز ہے؟"

آپ ﷺ نے اس سوال کے بارے میں وحی کا انتظار فرمایا — جب وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے۔"

یعنی آپ ﷺ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی:

"اور یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں — آپ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے۔"
(سورۃ بنی اسرائیل: آیت 85)

2. قیامت کے بارے میں سوال

پھر انھوں نے قیامت کے بارے میں پوچھا — کہ کب آئے گی — آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا:

"اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے — اس کے وقت کو اللہ کے سوا کوئی اور ظاہر نہیں کرے گا۔"
(سورۃ الأعراف)

3. موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو دی گئی ہدایات

اسی طرح دو یہودی آپ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا:

"آپ بتائیے! اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو کن باتوں کی تاکید فرمائی تھی؟"

جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ — بدکاری نہ کرو — اور حق کے سوا (یعنی شرعی قوانین کے سوا) کسی ایسے شخص کی جان نہ لو جس کو اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کیا ہے — چوری مت کرو — سحر اور جادو ٹونہ کر کے کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ — کسی بادشاہ اور حاکم کے پاس کسی کی چغل خوری نہ کرو — سود کا مال نہ کھاؤ — گھروں میں بیٹھنے والی (پاک دامن) عورتوں پر بہتان نہ باندھو — اور اے یہودیو! تم پر خاص طور پر یہ بات لازم ہے کہ ہفتے کے دن کسی پر زیادتی نہ کرو — اس لیے کہ یہ یہودیوں کا متبرک دن ہے۔"

یہ نو ہدایات سن کر دونوں یہودی بولے:

"ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نبی ہیں۔"

اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"تب پھر تم مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے؟"

انھوں نے جواب دیا:

"ہمیں ڈر ہے — اگر ہم مسلمان ہو گئے تو یہودی ہمیں قتل کر ڈالیں گے۔"


🕍 دو یہودی علماء کا آنا اور ایمان لانا

دو یہودی عالم ملک شام میں رہتے تھے — انہیں ابھی نبی کریم ﷺ کے ظہور کی خبر نہیں ہوئی تھی — دونوں ایک مرتبہ مدینہ منورہ آئے۔

مدینہ منورہ کو دیکھ کر ایک دوسرے سے کہنے لگے:

"یہ شہر اس نبی کے شہر سے کتنا ملتا جلتا ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہونے والے ہیں۔"

اس کے کچھ دیر کے بعد انہیں پتا چلا کہ آنحضرت ﷺ کا ظہور ہو چکا ہے — اور آپ ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے اس شہر مدینہ منورہ میں آ چکے ہیں۔

یہ خبر ملنے پر دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے — انھوں نے کہا:

"ہم آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتے ہیں — اگر آپ نے جواب دے دیا — تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔"

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"پوچھو! کیا پوچھنا چاہتے ہو؟"

انھوں نے کہا:
"ہمیں اللہ کی کتاب میں سب سے بڑی گواہی اور شہادت کے متعلق بتائیے۔"

ان کے سوال پر سورۃ آل عمران کی آیت 19 نازل ہوئی — آپ ﷺ نے وہ ان کے سامنے تلاوت فرمائی:

"اللہ نے اس کی گواہی دی ہے کہ سوائے اس کی ذات کے کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں — اور فرشتوں نے بھی اور اہل علم نے بھی گواہی دی ہے — اور وہ اس شان کے مالک ہیں کہ اعتدال کے ساتھ انتظام کو قائم رکھنے والے ہیں — ان کے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں — وہ زبردست ہیں، حکمت والے ہیں — بلاشبہ دین حق اور مقبول — اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔"

یہ آیت سن کر دونوں یہودی اسلام لے آئے۔


☪️ حضرت عبداللہ بن سلامؓ کا ایمان

اسی طرح یہودیوں کے ایک اور بہت بڑے عالم تھے — ان کا نام حصین بن سلام تھا — یہ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے — ان کا تعلق قبیلہ بنی قینقاع سے تھا۔

جس روز آپ ﷺ ہجرت کر کے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں رہائش پذیر ہوئے — یہ اسی روز آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

جونہی انھوں نے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھا — فوراً سمجھ گئے کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا۔

پھر جب انہوں نے آپ ﷺ کا کلام سنا — تو فوراً پکار اٹھے:

"میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں — اور سچائی لے کر آئے ہیں۔"

پھر ان کا اسلامی نام آپ ﷺ نے عبداللہ بن سلام رکھا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد یہ اپنے گھر گئے — اپنے اسلام لانے کی تفصیل گھر والوں کو سنائی — تو وہ بھی اسلام لے آئے۔


*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں