🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴43🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
مسجد نبوی کی تعمیر اور اہلِ مکہ کی ہجرت
🕌 مسجد نبوی کی سادگی اور سادہ دلی
مسلمان پتھروں سے بنیادیں بھرنے لگے — بنیادیں تقریباً تین ہاتھ (ساڑھے 4 فٹ) گہری تھیں — اس کے لیے اینٹوں کی تعمیر اٹھائی گئی — دونوں جانب پتھروں کی دیواریں بنا کر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت بنائی گئی اور کھجور کے تنوں کے ستون بنائے گئے — دیواروں کی اونچائی انسانی قد کے برابر تھی۔
ان حالات میں کچھ انصاری مسلمانوں نے کچھ مال جمع کیا — وہ مال آپ ﷺ کے پاس لائے اور عرض کیا:
"اللہ کے رسول! اس مال سے مسجد بنائیے اور اس کو آراستہ کیجیے — ہم کب تک چھپر کے نیچے نماز پڑھیں گے؟"
اس پر حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مجھے مسجدوں کو سجانے کا حکم نہیں دیا گیا۔"
اسی سلسلے میں ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
"قیامت قائم ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ لوگ مسجدوں میں آرائش اور زیبائش کرنے لگیں گے — جیسے یہود اور نصاریٰ اپنے کلیساؤں اور گرجوں میں زیب و زینت کرتے ہیں۔"
☔ سادہ چھت اور بارش کا منظر
مسجد نبوی کی چھت کھجور کی چھال اور پتوں کی تھی اور اس پر تھوڑی سی مٹی تھی — جب بارش ہوتی تو پانی اندر ٹپکتا — یہ پانی مٹی ملا ہوتا — اس سے مسجد کے اندر کیچڑ ہو جاتا۔
یہ بات محسوس کر کے صحابہ کرام نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! اگر آپ حکم دیں تو چھت پر زیادہ مٹی بچھا دی جائے — تاکہ اس میں سے پانی نہ رسے، مسجد میں نہ ٹپکے۔"
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"نہیں! یونہی رہنے دو۔"
👷 صحابہ کی جانفشانی اور عمار بن یاسرؓ کا جذبہ
مسجد کی تعمیر کے کام میں تمام مہاجرین اور انصار صحابہ نے حصہ لیا — یہاں تک کہ خود حضور نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے ہاتھوں سے کام کیا۔
آپ ﷺ اپنی چادر میں اینٹیں بھر بھر کر لاتے — یہاں تک کہ سینہ مبارک غبار آلود ہو جاتا — صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ کو اینٹیں اٹھاتے دیکھا تو وہ اور زیادہ جانفشانی سے اینٹیں ڈھونے لگے۔
ایک موقع پر آپ ﷺ نے دیکھا کہ باقی صحابہ تو ایک ایک پتھر اٹھا کر لا رہے ہیں اور حضرت عمار بن یاسرؓ دو پتھر اٹھا کر لا رہے تھے — تو ان سے پوچھا:
"عمار! تم بھی اپنے ساتھیوں کی طرح ایک ایک پتھر کیوں نہیں لاتے؟"
انہوں نے عرض کیا:
"اس لیے کہ میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب چاہتا ہوں۔"
حضرت عثمان بن مظعونؓ بہت نفیس اور صفائی پسند تھے — وہ بھی مسجد کی تعمیر کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے — پتھر اٹھا کر چلتے تو اس کو اپنے کپڑوں سے دور رکھتے — تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں — اگر مٹی لگ جاتی تو فوراً چٹکی سے اس کو جھاڑنے لگ جاتے — دوسرے صحابہ دیکھ کر مسکرا دیتے۔
🕋 قبلے کی تبدیلی اور فرش کی تعمیر
مسجد کی تعمیر کے بعد حضور اکرم ﷺ اس میں پانچ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے — اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے قبلے کا رخ بیت اللہ کی طرف ہو گیا۔
مسجد کا پہلے فرش کچا تھا — پھر اس پر کنکریاں بچھا دی گئیں — یہ اس لیے بچھائی گئیں کہ ایک روز بارش ہوئی — فرش گیلا ہو گیا — اب جو بھی آتا — اپنی جھولی میں کنکریاں بھر کر لاتا اور اپنی جگہ پر ان کو بچھا کر نماز پڑھتا — تب نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ سارا فرش ہی کنکریوں کا بچھا دو۔
🏗️ مسجد کی توسیع اور حضرت عثمانؓ کا عطیہ
پھر جب مسلمان زیادہ ہو گئے — تو نبی کریم ﷺ نے مسجد کو وسیع کرنے کا ارادہ فرمایا۔
مسجد کے ساتھ زمین کا ایک ٹکڑا حضرت عثمان غنیؓ کا تھا — یہ ٹکڑا انہوں نے ایک یہودی سے خریدا تھا — جب حضرت عثمانؓ کو معلوم ہوا کہ حضور ﷺ مسجد کو وسیع کرنا چاہتے ہیں — تو انہوں نے عرض کیا:
"اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے زمین کا یہ ٹکڑا جنت کے ایک مکان کے بدلے میں خرید لیں۔"
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے زمین کا وہ ٹکڑا ان سے لے لیا۔
مسجد نبوی کے بارے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اگر میری یہ مسجد صنعا کے مقام تک بھی بن جائے (یعنی اتنی وسیع ہو جائے) — تو بھی یہ میری مسجد ہی رہے گی — یعنی مسجد نبوی ہی رہے گی۔"
اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ آپ نے مسجد نبوی کے وسیع ہونے کی اطلاع پہلے ہی دے دی تھی — اور ہوا بھی یہی — بعد کے ادوار میں اس کی توسیع ہوتی رہی ہے اور اس کا سلسلہ جاری ہے — اور آگے بھی جاری رہے گا۔
🛏️ حجرے اور حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی مہمان نوازی
مسجد نبوی کے ساتھ ہی سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور سیدہ سودہؓ کے لیے دو حجرے بنائے گئے — یہ حجرے مسجد نبوی سے بالکل ملے ہوئے تھے — ان حجروں کی چھتیں بھی مسجد کی طرح کھجوروں کی چھال سے بنائی گئی تھیں۔
مسجد نبوی کی تعمیر تک آپ ﷺ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر میں قیام پذیر رہے — آپ ﷺ نے ان کے مکان میں نچلی منزل میں قیام فرمایا تھا۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ اور ان کی بیوی نے آپ ﷺ سے درخواست کی تھی:
"حضور! آپ اوپر والی منزل میں قیام فرمائیں۔"
اس پر آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا:
"مجھے نیچے ہی رہنے دیں — کیونکہ لوگ مجھ سے ملنے کے لیے آئیں گے — اسی میں سہولت رہے گی۔"
حضرت ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں:
"ایک رات ہماری پانی کی گھڑیاں ٹوٹ گئی — ہم گھبرا گئے کہ پانی نیچے نہ ٹپکنے لگے اور آپ ﷺ کو پریشانی نہ ہو — تو ہم نے فوراً اس پانی کو اپنے لحاف میں جذب کرنا شروع کر دیا — اور ہمارے پاس وہ ایک ہی لحاف تھا اور دن سردی کے تھے۔"
اس کے بعد حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے پھر آپ ﷺ سے اوپر والی منزل پر قیام کرنے کی درخواست کی — آخر آپ ﷺ نے ان کی بات مان لی۔
ان کے گھر قیام کے دوران آپ ﷺ کے لیے کھانا حضرت اسعد بن زرارہ اور حضرت سعد بن عبادہؓ کے ہاں سے بھی آتا تھا۔
🚶♂️ اہلِ مکہ کی ہجرت اور اہلِ بیت کا آنا
اس تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد حضور اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت زید بن رافعؓ کو مکہ بھیجا — تاکہ حضور اکرم ﷺ کے گھر والوں کو لے آئیں۔
حضور اکرم ﷺ نے انہیں سفر میں خرچ کرنے کے لیے 500 درہم اور دو اونٹ دیے — رہبر کے طور پر ان کے ساتھ عبداللہ بن اریقط کو بھیجا۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے یہ اخراجات برداشت کیے — ان کے گھر والوں کو لانے کی ذمہ داری بھی انہیں ہی سونپی گئی۔
اس طرح یہ حضرات مکہ معظمہ سے آپ ﷺ کی صاحبزادیوں:
حضرت فاطمہؓ
حضرت ام کلثومؓ
آنحضرت ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت سودہ بنت زمعہؓ
دایہ ام ایمنؓ (جو زید بن حارثہؓ کی اہلیہ تھیں)
اور ان کے بیٹے حضرت اسامہ بن زیدؓ
کو لے کر مدینہ منورہ آ گئے۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ آپ ﷺ کی دایا کے بیٹے تھے — اور آپ ﷺ کو حد درجے عزیز تھے۔
👨👩👧 دیگر اہلِ خانہ کا حال
آپ ﷺ کی بیٹی حضرت زینبؓ چونکہ شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے — اس لیے انہیں ہجرت کرنے سے روک دیا گیا۔
حضرت زینبؓ نے بعد میں ہجرت کی تھی — اور اپنے شوہر کو کفر کی حالت میں مکہ ہی چھوڑ آئی تھیں — ان کے شوہر ابوالعاص بن ربیعؓ تھے — یہ غزوہ بدر کے موقع پر کافروں کے لشکر میں شامل ہوئے — گرفتار ہوئے — لیکن انہیں چھوڑ دیا گیا — پھر یہ مسلمان ہو گئے تھے۔
آپ ﷺ کی چوتھی بیٹی حضرت رقیہؓ اپنے شوہر حضرت عثمانؓ کے ساتھ پہلے ہی حبشہ ہجرت کر گئی تھیں — یہ بعد میں حبشہ سے مدینہ پہنچے تھے۔
👨👩👧👦 حضرت ابوبکرؓ کے اہلِ خانہ کی ہجرت
حضرت ابوبکرؓ کے گھر والے بھی ساتھ ہی مدینہ منورہ آ گئے — ان میں:
ان کی زوجہ محترمہ حضرت ام رومان
حضرت عائشہ صدیقہ
ان کی بہن حضرت اسماءؓ
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بیٹے حضرت عبداللہؓ
حضرت ابوبکر صدیقؓ کی زوجہ حضرت ام رومانؓ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا:
"جس شخص کو جنت کی حوروں میں سے کوئی حور دیکھنے کی خواہش ہو — وہ ام رومان کو دیکھ لے۔"
👶 پہلا مہاجر بچہ — حضرت عبداللہ بن زبیرؓ
ہجرت کے اس سفر میں حضرت اسماءؓ کو مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے قبا میں ٹھہرنا پڑا — ان کے ہاں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ پیدا ہوئے۔
بچے کی پیدائش کے بعد مدینہ پہنچیں — اور اپنا بچہ آپ ﷺ کی گود میں برکت حاصل کرنے کے لیے پیش کیا۔
یہ ہجرت کے بعد مہاجرین کے ہاں پہلا بچہ تھا — ان کی پیدائش پر مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی — کیونکہ کفار نے مشہور کر دیا تھا:
"جب سے رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین مدینہ آئے ہیں — ان کے ہاں کوئی نرینہ نہیں ہوا — کیونکہ ہم نے ان پر جادو کر دیا ہے۔"
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی پیدائش پر ان لوگوں کی یہ بات غلط ثابت ہو گئی — اس لیے مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔
💡 مسجد نبوی میں روشنی کا انتظام
مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہو گئی — تو رات کے وقت اس میں روشنی کا مسئلہ سامنے آیا — اس غرض کے لیے پہلے پہل کھجور کی شاخیں جلائی گئیں۔
پھر حضرت تمیم داریؓ مدینہ منورہ آئے — تو وہ اپنے ساتھ قندیلیں، رسیاں اور زیتون کا تیل لائے۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں