دعوتِ حق: اللہ کا ترازو


 

دعوتِ حق: اللہ کا ترازو

"حق کی بے آمیز دعوت جب اُٹھتی ہے تو وہ زمین پر اللہ کا ترازو کھڑا کرنا ہوتا ہے۔"

سبق نمبر 30

آیاتِ مبارکہ

لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍۢ بَيْنَ ٱلنَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًۭا عَظِيمًۭا ﴿١١٤﴾ وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِۦ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًۭا ﴿١١٥﴾ (سورۃ النساء: آیات 114-115)


ترجمہ

"ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں۔ بھلائی والی سرگوشی صرف اُس کی ہے جو صدقہ کرنے کو کہے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں میں صلح کرانے کے لیے کہے۔ جو شخص اللہ کی خوشنودی کے لیے ایسا کرے، تو ہم اُسے بڑا اجر عطا کریں گے۔ اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہو چکی ہو، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راہ پر چلے، تو ہم اسے اُسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ خود پھر گیا، اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔"


تشریح و بصیرت

حق کی بے آمیز دعوت جب اُٹھتی ہے تو وہ زمین پر اللہ کا ترازو کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ اس کے میزان میں ہر آدمی اپنے آپ کو تولا ہوا محسوس کرتا ہے۔

  • حقیقت کی بے نقابی: حق کی دعوت ہر ایک کے اوپر سے اس کا ظاہری پردہ اُتار دیتی ہے اور ہر شخص کو اس کے اس مقام پر کھڑا کر دیتی ہے جہاں وہ باعتبارِ حقیقت تھا۔

  • داعی کی آزمائش: یہ صورت حال اتنی سخت ہوتی ہے کہ لوگ چیخ اُٹھتے ہیں۔ سارا ماحول داعی کے لیے ایسا بن جاتا ہے جیسے وہ انگاروں کے درمیان کھڑا ہوا ہو۔


مخالفین کی نفسیات اور طرزِ عمل

جو لوگ دعوتِ حق کے ترازو میں اپنے آپ کو بے وزن ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں، ان کے اندر ضد اور گھمنڈ کے جذبات جاگ اُٹھتے ہیں۔

  • وہ تیزی سے مخالفانہ رُخ پر چل پڑتے ہیں۔

  • وہ چاہتے ہیں کہ ایسی دعوت کو مٹا دیں جو ان کی حق پرستی کی حیثیت کو مشتبہ بنا دیتی ہو۔

  • ان کی زبان کا استعمال داعی کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلانے، منصوبے بنانے اور لوگوں کو مالی مدد سے روکنے کے لیے ہوتا ہے۔

  • وہ اللہ کی رسی کو تھامنے والوں کو بدگمانیوں میں مبتلا کر کے منتشر کرتے ہیں۔


اہلِ فطرت کا رویہ

اس کے برعکس جو لوگ اپنی فطرت کو زندہ رکھے ہوئے تھے، انہیں اللہ کی مدد سے یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائیں۔

  1. وہ سچائی کا کھلے عام اعتراف کرتے ہیں۔

  2. وہ لوگوں کو نیکی، بھلائی، اور مال و وقت خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

  3. وہ آپس کی رنجشوں اور شکایتوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


ناقابلِ معافی جرم: سرکشی

اللہ کے نزدیک یہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے کہ حق کی دعوت کی مخالفت کی جائے اور اہل جق کو دشمنی کی آگ میں جلانے کی کوشش کی جائے۔

  • غفلت بمقابلہ سرکشی: دیگر گناہوں میں غفلت یا کمزوری کا امکان ہوتا ہے، مگر دعوتِ حق کی مخالفت سراسر سرکشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

  • خدائی کام کی مخالفت: دین کی دعوت جب اپنی بے آمیز شکل میں اُٹھتی ہے، تو وہ ایک خدائی کام ہوتا ہے۔

ایسے کام کی مخالفت کرنا گویا اللہ کے مقابلہ میں کھڑا ہونا ہے۔ اور کون ہے جو اللہ کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر کامیاب ہو۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں